احمد شاہ مسعود کا بیٹا بھی طالبان سے مقابلے کے لئے تیار

دہائیوں سے جنگ زدہ افغانستان کی نوجوان نسل کے نمائندہ سیاستدان اور مرحوم کمانڈر احمد شاہ مسعود کے صاحبزادے احمد مسعود بھی اپنے والد کی طرح شمالی اتحاد کے ایک مزاحمتی کمانڈر کی طرح ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ اپنے والد کی طرح افغان طالبان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا عزم رکھنے والے احمد مسعود کو ایک سنجیدہ اور طلسماتی شخصیت کا مالک سمجھا جاتا ہے، احمد مسعود نے اپنے حالیہ انٹرویوز میں کہا ہے کہ اگر طالبان کے ساتھ امن معاہدہ ناکام ہوتا ہے تو وہ اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے طالبان کو روکنے کےلیے آگے بڑھیں گے۔
ایک ایسے وقت میں جب کہ امریکی افواج بالآخر افغانستان سے نکل رہی ہیں، شمالی اتحاد کے مزاحمتی کمانڈر احمد شاہ مسعود کا بیٹا احمد مسعود افغانستان میں بہت سے لوگوں کی امیدوں کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ احمد مسعود کے والد احمد شاہ مسعود کو نائن الیون کے واقعے سے صرف دو روز پہلے القاعدہ نے ایک حملے میں قتل کر دیا تھا۔ افغانستان میں احمد شاہ مسعود کو سوویت یونین اور طالبان کے خلاف مزاحمت کی وجہ سے بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ برطانیہ سے اعلیٰ تعلیم یافتہ 31 برس کے احمد مسعود اکثر ٹی وی پروگراموں میں قومی مصالحت پر زور دیتے نظر آتے ہیں۔ احمد مسعود کا کہنا ہے کہ افغانستان کے سیاسی نظام میں مرکزیت کے خاتمے کےلیے اصلاحات، معتدل اسلام اور عبوری حکومت کی ضرورت ہے۔ احمد مسعود کو ملک کی تاجک آبادی میں بہت پسند کیا جاتا ہے۔ انہیں ایک پختہ کار اور طلسماتی شخصیت کا مالک سمجھا جاتا ہے جو اپنے والد کے حامیوں کو ایک بار پھر متحد کر سکے ہیں۔
خیال رہے کہ احمد مسعود چند برس پہلے ہی سیاسی میدان میں اترے ہیں اور اکثر ملکی اور غیر ملکی لیڈروں سے ملتے نظر آتے ہیں۔ وہ اکثر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بھی ملاقاتیں کرتے ہیں۔ حال ہی میں ان کی ملاقات فرانس کے صدر ایمیونیل میخواں اور پیرس کے میئر سے بھی ہوئی ہے۔ احمد مسعود سنہ 1989 میں پیدا ہوئے اور پانچ بہنوں کے اکلوتے بھائی ہیں۔ انہوں نے سنہ 1997 سے 2009 تک تاجکستان اور ایران میں تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد ان کے خاندان کے کچھ افراد مصر منتقل ہوگئے جہاں وہ اب بھی رہائش پذیر ہیں۔ احمد مسعود نے پہلے متحدہ عرب امارات اور پھر برطانیہ کا رخ کیا۔ انہوں نے 2010-2011 میں برطانیہ کی سینڈہرسٹ رائل ملٹری اکیڈمی میں تربیت حاصل کی اور بعد میں کنگز کالج لندن سے وار اسٹڈیز میں ڈگری حاصل کی۔ احمد مسعود نے لندن کی سٹی یونیورسٹی سے انٹرنیشنل پالیٹکس میں ماسٹر کیا۔
احمد مسعود کا کہنا ہے کہ وہ ملک میں قیام امن کےلیے پچھلی باتوں کو معاف کرنے کےلیے تیار ہیں۔ وہ کہتے ہیں افغانستان نے گزشتہ دو عشروں میں الیکشن، جمہوریت اور معتدل اسلام کے بارے میں جو کامیابیاں حاصل کی ہیں وہ بہت اہم ہیں۔
اپنے حالیہ انٹرویو میں احمد مسعود نے کہا کہ اگر طالبان کے ساتھ امن معاہدہ ناکام ہوتا ہے تو وہ اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے طالبان کو روکنے کےلیے آگے بڑھیں گے۔ انکا کہنا ہے کہ ہم نے اپنے آپ کو تیار کیا ہوا ہے اور مزید بھی تیاری کر رہے ہیں۔
احمد مسعود نے کہا کہ اگر طالبان سمجھتے ہیں کہ اب احمد شاہ مسعود یا ناردرن الائنس موجود نہیں تو انہیں معلوم ہونا چاہیئے کہ احمد مسعود کی صورت میں احمد شاہ موجود ہے جسکے ساتھی اپنے آپ کو مسلح کر رہے ہیں اور طالبان سے جنگ کے لیے تیار ہو رہے ہیں۔ احمد مسعود نے کہا کہ افغانستان کے سیاسی نظام سے مرکزیت کو ختم کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ یہ ملک میں عدم استحکام کی وجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے صدر شمالی کوریا کے صدر سے زیادہ اختیارات رکھتے ہیں۔
افغانستان کے ایک نمایاں سیاسی تجزیہ کار یعقوب یسنا نے کہا کہ میں نے ابھی تک کوئی ایسا سیاستدان نہیں دیکھا جو قومی اہمیت کے معاملات کے بارے میں احمد مسعود جتنی واضح سمجھ بوجھ رکھتا ہو۔ انکا کہنا تھا کہ اگر ہمارے سیاسی اور نسلی رہنما چھوٹی چھوٹی سیاسی رشوتوں کے بدلے اس موجودہ سیاسی نظام کو قبول نہ کریں تو ملک کا سیاسی نظآم تبدیل ہو جائے گا۔ سیاسی تجزیہ کار احمد سعیدی کا کہنا ہے کہ احمد مسعود کی سوچ اور صلاحیتیں عوام کی امید کا مرکز ہیں اور وہ زندگی کی حقیقتوں سے چھپنے کے بجائے ان کو سامنے لاتے ہیں۔
البتہ احمد مسعود کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کے پاس چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے مطلوبہ صلاحیتوں کی کمی ہے اور ان کے پاس والد کی ساکھ کے علاوہ کچھ نہیں۔ انکا۔کہنا ہے کہ بلا شبہ احمد مسعود جیسے نوجوان رہنما طالبان کے خلاف مزاحمت کی امید ہیں لیکن اس نسل کی کامیابیوں کا تعین تو تاریخ ہی کرے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button