احمد شاہ مسعود کے بیٹے کا طالبان کیخلاف مزاحمت کا اعلان


افغانستان کے عالمی شہرت یافتہ طالبان مخالف جنگجو احمد شاہ مسعود مرحوم کے بیٹے نے افغان طالبان کا مقابلہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے امریکا سے اسلحہ مانگ لیا ہے۔ مغرب میں اعلی تعلیم حاصل کرکے افغانستان واپس لوٹنے والے احمد مسعود نے طالبان کیخلاف مزاحمت کے لیے امریکہ سے اسلحہ مانگتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انکے پاس فورس موجود ہے جو انتہا پسندوں کے خلاف نبرد آزما ہو سکتی ہے۔
سوویت یونین کے خلاف جنگ میںاہم کردار ادا۔کرنے والے شمالی اتحاد کے اہم رہنما احمد شاہ مسعود کے بیٹے نے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں ایک مضمون میں کہا ہے کہ انہوں نے امریکا سے افغان طالبان کے خلاف عسکری مدد طلب کر لی ہے اور انہیں جواب کا انتظار ہے۔ احمد مسعود کے مطابق واشنگٹن حکومت ان کی ملیشیا کو اسلحہ بارود مہیا کرے تو وہ انتہا پسند طالبان کے خلاف سخت مزاحمت کر سکتے ہیں۔
احمد مسعود نے لکھا ہے کہ امریکا ان کے جنگجوؤں کی معاونت کرتے ہوئے جمہوریت کے لیے ایک بڑا سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔ احمد مسعود کہتے ہیں کہ میں آج پنجشیر سے یہ لکھ رہا ہوں کہ میں اپنے والد کے نقش قدم پر چلنے کو تیار ہوں۔ مجاہدین فائٹرز کے ہمراہ ہم ایک مرتبہ پھر طالبان کے خلاف نبرد آزما ہونے کو تیار ہیں۔ احمد مسعود کا یہ مضمون ایک ایسے وقت میں شائع ہوا ہے جب طالبان کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ان کے اقتدار میں افغانستان میں جمہوری طرز کی حکومت نہیں ہوگی ۔ طالبان کے ترجمان وحیدالدین ہاشمی کے مطابق ملک کا نظام ایک شوریٰ کونسل چلائے گی اور طالبان کے رہنما ہیبت اللہ اخونزادہ اس کے سپریم لیڈر ہو سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ احمد مسعود کے والد احمد شاہ مسعود کو پنجشیر کے شیر کا لقب دیا گیا تھا۔ کابل کے شمال مشرق میں واقع پہاڑی علاقے پنچشیر میں انہوں نے طالبان جنگجوؤں کو سخت مزاحمت دکھائی تھی۔ طالبان اور القاعدہ کے مخالف احمد شاہ مسعود کو مبینہ طور پر اُسامہ بن لادن کے حکم پر سن 2001 میں صحافیوں کا روپ دھار دہشت گردوں نے انٹرویو کے دوران آیک بم دھماکے میں ہلاک کر دیا تھا۔ یہ بھی۔معلوم ہوا ہے کہ معزول افغان صدر اشرف غنی کے ملک سے فرار ہونے کے بعد نائب صدر امر اللہ صالح بھی پنجشیر چلے گئے تھے جہاں سے جاری کردہ تصاویر میں وہ احمد مسعود کے ساتھ دیکھے جا سکتے ہیں۔ انکا اصرار ہے کہ اشرف غنی کے فرار کے بعد وہی افغانستان کے آئینی صدر ہیں۔ دوسری جانب احمد مسعود نے واشنگٹن پوسٹ میں اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ ملکی کمانڈرز کی طرف طالبان کے آگے ہتھیار ڈالنے پر وہ سخت مایوس ہوئے ہیں اور انہوں نے ملک کی خصوصی فورسز کے سابق ممبران کو جوائن کر لیا ہے۔ احمد مسعود نے امریکا سے اپیل کی کہ انہیں مزید ہتھیاروں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے لکھا کہ طالبان نہ صرف افغانستان بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ ہیں ، اس میں کوئی شک نہیں کہ طالبان کے زیر قبضہ افغانستان ریڈیکل اسلامی دہشت گردی کا گراؤنڈ زیرو بن جائے گا جہاں سے ایک مرتبہ پھر جمہوریتوں پر حملوں کی منصوبہ بندیاں کی جائیں گی۔
احمد مسعود کے مطابق ان کے فائٹرز آئندہ ہونے والے تنازعے کے لیے تیار ہیں لیکن انہیں امریکی تعاون چاہئے۔ انہوں نے اپنے مزید لکھا کہ امریکا کو افغان عوام کو طالبان کے رحم و کرم پر تنہا نہیں چھوڑنا چاہئے بلکہ آزادی کی جدوجہد کا تعاون جاری رکھنا چاہئے۔ انہوں نے اس تناظر میں امریکیوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ ہی ہماری آخری اُمید بچے ہیں۔

Back to top button