بھارتی شہر علی گڑھ کا نام بدل کر ہری گڑھ کرنے کا فیصلہ

بھارت کی غاصبانہ مودی سرکار نے اتر پردیش کے ضلع علی گڑھ کا مسلم نام بدل کر ہندو نام ہری گڑھ رکھنے کی کارروائی شروع کر دی جس سے اس کا مسلم مخالف ایجنڈا کھل کر سامنے آ گیا ہے۔
یاد رہے کہ سخت گیر ہندو تنظیموں کو علی گڑھ کا نام پسند نہیں اور وہ برسوں سے اسے بدلنے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔ چنانچہ اب بھارتی ریاست اتر پردیش کے تاریخی ضلع علی گڑھ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی مقامی قیادت نے شہر کا نام تبدیل کرنے کی ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے کہا ہے کہ علی گڑھ کا نام تبدیل کر کے ہری گڑھ کر دیا جائے۔ یاد رہے کہ علی گڑھ میں مسلم برادری کی بھی اچھی خاصی تعداد ہے تاہم حالیہ انتخابات کے بعد سخت گیر مؤقف کی حامل ہندو نظریاتی تنظیم بی جے پی کا یہاں کی سیاست اور پنچایتوں پر کنٹرول مضبوط ہو گیا ہے جس کے بعد اتفاق رائے سے یہ قرار داد منظور کی گئی ہے۔ ضلع علی گڑھ کی پنچائیت کے صدر وجے سنگھ نے میڈیا کو اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ علی گڑھ کو ہری گڑھ کا نام دینے کی تجویز پیش کر دی گئی ہے اور اب اس فیصلے پر عمل درآمد کو کوئی نہیں روک سکتا۔
یاد رہے کہ بھارت میں شہروں کے نام کی تبدیلی کا حتمی فیصلہ ریاستی حکومت کرتی ہے اور اب یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ علی گڑھ کا نام ہری گڑھ کیا جائے یا نہیں۔ یوگی حکومت گزشتہ چند برسوں کے دوران الہٰ آباد، مغل سرائے اور فیض آباد جیسے تاریخی شہروں کے نام بدل چکی ہے اور کوئی تعجب کی بات نہیں کہ علی گڑھ کا نام بھی بدل جائے۔ ہندو تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ ماضی میں اس شہر کا نام دراصل ہری گڑھ تھا اور مسلمانوں نے اسے تبدیل کر کے علی گڑھ کر دیا تھا، اسی لیے وہ اس کا نام بدلنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ تاہم بیشتر مؤرخین اس دعوے کو مسترد کرتے ہیں۔ انکے مطابق اس دعوے کا کوئی تاریخی ثبوت نہیں ہے کہ علی گڑھ کا نام پہلے کچھ اور تھا۔ مسلم اداروں کی نمائندگی کرنے والی تنظیم آل انڈيا مسلم مجلس مشاورت کے صدر نوید حامد نے کہا ہے کہ بی جے پی ریاستی انتخابات سے قبل ممکنہ طور پر فرقہ پرستی اور مسلم برادری کے خلاف نفرت پھیلانے کی کوشش میں مصروف ہے تا کہ سیاسی فائدہ حاصل کر سکے، انکا کہنا تھا کہ بی جے پی کے پاس انتخابات کے لیے اسی طرح کے فرسودہ دعوے ہیں جو تاریخی اعتبار سے جھوٹے ہیں۔ علی گڑھ کے سابق ایم ایل اے ضمیر اللہ شاہ کا کہنا ہے کہ یہ سب آئندہ انتخابات کے لیے ہے، بی جے پی چاہتی ہے کہ کسی بھی طرح ہندو مسلم اختلافات پیدا ہوتے رہیں، علی گڑھ کو ہری گڑھ کیا جائے تاکہ شہر کا پر امن ماحول خراب ہو سکے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مطالبے کو عوام کی بھی حمایت حاصل نہیں ہے اور علی گڑھ کوئی معمولی شہر تو ہے نہیں۔ یہاں سے پڑھے لوگ پوری دنیا میں پھیلے ہیں جو علی گیریئن کہلاتے ہیں۔ یہ شہر سر سید احمد خان کے نام اور ان کی تحریک سے معروف ہے، اگر اس شہر کا تاریخی نام تبدیل کیا جاتا ہے تو بھارت کو عالمی سطح پر بھی شرمندگی اٹھانا پڑے گی۔
ایک سوال کے جواب میں نوید حامد نے کہا کہ مسلم تنظیمیں اس فیصلے پر بطور احتجاج زیادہ سے زیادہ ایک خط ہی لکھ سکتی ہیں، اس سے زیادہ اور وہ کر بھی کیا سکتی ہیں؟ یہ ایک طویل قانونی لڑائی ہے اسے عدالت میں چیلنچ کیا جائے گا۔
ضمیر اللہ کا کہنا تھا کہ اس فیصلے پر مسلمانوں کو کسی طرح کے احتجاج یا ہنگامہ آرائی سے بچنے کی ضرورت ہے ، کیونکہ بی جے پی یہی چاہتی ہے کہ لوگ سڑکوں پر نکلیں اور ہنگامہ ہو، اسی سے وہ فائدہ اٹھاتے ہیں۔
یاد رہے کہ ماضی میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے اسی شہر کی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے محمد علی جناح کی تصویر ہٹانے کا مطالبہ بھی کیا جاتا رہا ہے۔ علی گڑھ یونیورسٹی بھارت کا ایک معروف تعلیمی ادارہ ہے جس کا جدوجہد آزادی میں ایک اہم کردار تھا۔ بانی پاکستان محمد علی جناح اس دور میں اکثر اس یونیورسٹی میں خطاب کے لیے آتے تھے اور مورخین کے مطابق قیام پاکستان میں بھی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے فارغ التحصیل طالب علموں کا بڑا کردار تھا۔ محمد علی جناح یونیورسٹی کے تاحیات رکن تھے اور مستقل رکن کی حیثیت سے ان کی تصویر آج بھی یونیورسٹی میں آویزاں ہے جسے ہندو تنظیمیں ہٹانے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں اور اس پر بھی کئی بار ہنگامہ ہو چکا ہے۔
یاد رہے جب سے مودی سرکار اقتدار میں آئی ہے تب سے بھارت میں مسلمانوں کے نام سے منسوب شہروں اور اداروں کے نام تبدیل کیے جا رہے ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنماؤں نے ستر پردیش کی یوگی حکومت سے مطالبہ کر رکھا ہے کہ مراد آباد اور فیروز آباد شہروں کے نام بھی تبدیل کیے جائیں، انکے مطابق یہ نام مسلم حکمرانوں نے رکھے تھے، اس لیے فیروز آباد کو چندر نگر جبکہ مراد آباد کو ایک ہندو سادھو کے نام پر میان پوری کر دیا جائے۔ یہ تمام مطالبات ایسے وقت کیے جا رہے ہیں جب ریاستی انتخابات میں محض چھ ماہ کا وقت بچا ہے۔
اسی سے پہلے اتر پردیش کی ریاستی حکومت فیض آباد کو ایودھیا، آلہ آباد کو پریاگ راج اور مغل سرائے کو دین دیال اپادھیائے کا نام دے چکی ہے۔ حال ہی میں دہلی میں سخت گیر ہندوؤں نے بابر روڈ کے بورڈ پر بابر کے نام پر سیاہ رنگ پھیر دیا تھا۔ انتہا پسند بی جے پی والوں کی مسلمانوں سے نفرت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے حال ہی میں دہلی کی معروف اورنگ زیب روڈ کا نام بھی بدل دیا تھا۔
