اداکارہ ثروت گیلانی آدھی پاکستانی اور آدھی انڈین کیوں؟

اداکاری کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے والی معروف اداکارہ ثروت گیلانی نے امید ظاہر کی ہے کہ ایک روز پاکستانی اور بھارتی اداکار اکٹھے فلموں اور ڈراموں میں کام کرتے دکھائی دیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ انکے نصف خاندان کا تعلق بھارت سے ہے جبکہ وہ ہندوستانی ثقافت میں پلی بڑھی ہیں، ثروت کی پیدائش خیبرپختونخوا کے شہر پشاور میں ہوئی تھی، لیکن ان کی زندگی کا زیادہ حصہ کراچی میں گزرا۔ انہوں نے نوجوانی میں ہی اداکاری کا آغاز کر دیا تھا۔ ان کے نانا نواب غلام محی الدین خانجی برٹش دور میں متحدہ ہندوستان کی ریاست مناودار کے نواب تھے جو 1954 تک برقرار رہی، اس کے بعد اس ریاست کو بھارت میں ضم کر دیا گیا تھا۔
تقسیم ہند کے بعد ان کے نانا پاکستان چلے آئے جب کہ ان کا کچھ خاندان بھارت میں ہی رہ گیا اور ان کی نوابی ریاست کو ریاست گجرات میں شامل کر لیا گیا۔ ثروت گیلانی نے یہ انکشاف بھی کیا کہ ماضی کی بولڈ اور مقبول انڈین اداکارہ پروین بابی رشتے میں ان کی خالہ تھیں۔انہوں نے بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کو ایک انٹرویو میں پاکستانی اور بھارتی اداکاروں سے کہا کہ وہ اُمید کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور اس حوالے سے مثبت رہیں کہ ایک دن وہ ایک ساتھ فلموں اور ڈراموں میں کام کریں گے۔
ایک سوال کے جواب میں اداکارہ کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے بہت سارے فنکار اور لوگ ایک دوسرے کے ساتھ جڑنا چاہتے ہیں مگر ریاستی اداروں کے مقاصد مختلف ہیں، جس وجہ سے ایسا ہونا فی الحال ممکن نہیں۔ انکا کہنا تھا کہ فنکاروں کے ساتھ بہت زیادہ لوگوں کی حمایت ہے مگر ریاستی ادارے دونوں ممالک کے فنکاروں کو ایک ساتھ کام کرتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتے۔
ثروت گیلانی کا کہنا تھا کہ فن محبت کی طرح آفاقی ہے، اسے دیواریں کھڑی کر کے روکا نہیں جا سکتا، لہٰذا ایک دن دونوں ممالک کے فنکار ایک ساتھ کام کرتے دکھائی دیں گے۔ انکا کہنا تھا کہ جس طرح دونوں ممالک کے فنکار امریکہ اور انگلینڈ جا کر ایک ساتھ کام کرتے ہیں اسی طرح پاکستان اور بھارت کے فنکار بھی اپنے اپنے ممالک میں ایک ساتھ کام کرتے دکھائی دیں گے؟
ثروت گیلانی نے ’چڑیلز‘ اور ’قاتل حسیناؤں کے نام‘ جیسی ویب سیریز میں بھارتی پروڈیوسرز اور ہدایت کاروں کے ساتھ کام کرنے کے تجربے کو بہت ہی اچھا قرار دیا اور کہا کہ مستقبل میں بھی ایسے ہی اکٹھے کام کرنا ممکن ہے۔ ایک سوال پر ثروت نے بتایا کہ انہیں بھارتی پروڈیوسرز اور ہدایت کاروں کے ساتھ کام کرنے میں کوئی پریشانی نہیں ہوئی، کیونکہ وہ ہندوستانی کلچر اور ثقافت میں ہی پلی بڑھی ہیں۔
