اداکارہ سبینہ فاروق ڈراموں میں مثبت کردار ادا کرنے کی خواہاں

ڈرامہ سیریل ’’تیرے بن‘‘ میں حیا کے نام سے منفی کردار ادا کرنے والی اداکارہ سبینہ فاروق نے کہا ہے کہ وہ مسلسل منفی کرداروں کی وجہ سے عوامی نفرت کا شکار بن رہی ہیں، اس لیے اب مثبت کرداروں میں خود کو منوانا چاہتی ہوں۔
اداکارہ سبینہ فاروق جیو انٹرٹینمنٹ کے ڈرامہ سیریل ’تیرے بِن‘ میں حیا کا کردار نبھا رہی ہیں جو ایک منفی کردار ہونے کے باوجود ناظرین میں مقبول ہے اور وجہ ہے حیا کے ڈائیلاگز اور اس پر سبینہ کی جان دار ڈیلیوری۔
’تیرے بن‘ کی کاسٹ میں مرکزی کردار اداکار وہاج علی اور یمنیٰ زیدی نے نبھائِے ہیں جبکہ معاون کاسٹ میں بشریٰ زیدی، فضیلہ قاضی، محمود اسلم، سمیر سُہیل، فرحان علی آغا، حرا سُومرو، آغا مصطفی اور سُبحان اعوان شامل ہیں۔ سیونتھ سکائے انٹرٹینمنٹ کی پروڈکشن میں بننے والی اس سیریل کو سراج الحق نے ڈائریکٹ کیا ہے۔
سبینہ فاروق 2016 سے ڈرامہ انڈسٹری میں کام کر رہی ہیں، انھوں نے انڈسٹری کے منجھے ہوئے اداکاروں کے ساتھ کام کیا اور اب تک ایک ویب سیریز اور نو ڈراموں میں کام کر چکی ہیں۔ ہم ٹی وی کی سیریل ’سُنو چندا‘ اور ’کشف‘ دونوں میں اُن کے کام کو بے حد سراہا گیا لیکن پھر بھی وہ کم کم ہی سکرین پر نظر آئیں۔
اداکارہ نے ڈرامہ سیریل ’’تیرے بن‘‘ کے حیا کے کردار کے متعلق بتایا کہ وہ پیار کیا تو ڈرنا کیا والی انسان ہے۔ وہ سب کے سامنے کھلے عام بولتی ہے کہ میں پیار کرتی ہوں اُس لڑکے سے، کیا مسئلہ ہے۔سبینہ نے مزید کہا کہ حیا کے کردار کے لیے اُن کے پاس زندگی میں کوئی حوالہ ہی موجود نہیں تھا۔ میرے لیے ایسی لڑکی کا تصور ہی دشوار تھا جو کسی لڑکے کے پیار میں اس حد تک گِر جاتی ہے۔
ڈرامہ سیریل ’تیرے بِن‘ کے بارے میں ناقدین کہتے ہیں کہ آخری بار کسی ڈرامے کی اس سطح کی مقبولیت ڈرامہ سیریل ’میرے پاس تم ہو‘ کو ملی تھی لیکن اپنی مقبولیت کے ساتھ ’تیرے بِن‘ کے بعض مناظر پر کافی بحث رہی۔ جیسے کہ ایک سین میں حیا کو مرتسم کی محبت میں جوتے تک پہناتے دِکھایا گیا۔
بعض ناقدین کہتے ہیں کہ اداکارؤں کو ایسے مناظر نہیں کرنے چاہییں جس میں محبت کو جواز بنا کر عورتوں کی تذلیل کی گئی ہو۔ اس بارے میں سبینہ کہتی ہیں کہ وہ بڑے سٹارز کے بارے میں نہیں کہہ سکتیں لیکن کریئر میں جس مقام پر وہ ہیں وہاں اُن کی بالکل نہیں چلتی۔
البتہ سبینہ اس بات سے اتفاق کرتی ہیں کہ ٹی وی سکرین پر تھپڑ دِکھانا ٹھیک نہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’آپ تشدد کو کیوں فروغ دیں، اس ڈرامہ پر ایک اور تنقید محبوب کے حصول کے لیے جادو ٹونا کرنا ہے جس کے لیے ’بنگالی باجی‘ کا حوالہ استعمال کیا گیا۔ سبینہ نے اس حوالے کے استعمال پر معذرت کی اور کہا کہ ’ہمارے ملک میں مشہور ہے کہ بنگالی بابا کے پاس ہر چیز کا علاج ہے۔ ہم نے اُس لحاظ سے ڈالا تھا۔
ڈرامے میں اپنے پسندیدہ ڈائیلاگز کے بارے میں سبینہ نے بتایا کہ ’ابھی حال ہی میں ایک ڈائیلاگ گزرا ہے کہ ’دل ہے کوئی مکان نہیں کہ ایک کو نکالا اور دوسرے کو جگہ دے دی۔ یہ تو قلعہ ہے۔ یہ اگر کسی نے فتح کر لیا تو اُسی کا ہو گیا پھر آگے آپ دیکھیں گے کہ ایک جگہ پر حیا بولتی ہے کہ میں تو ٹھہری ہی بے حیا، تم یہ کر لیتی نا تم تو بہت حیا والی ہو۔
سبینہ نے حال ہی میں اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر کالے جوڑے میں ایک تصویر پوسٹ کی اور ایک تفریحی کیپشن لکھا کہ ’بس کالا سوٹ پہن کر جائیں محبوب کے سامنے، پھر کالا جادو نہیں کرنا پڑے گا۔ ڈرامے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر میمز کے متعلق بتایا کہ وہ اِن میمز کو خود بھی بہت انجوائِے کرتی ہیں اور اُنھیں بالکل بھی بُرا نہیں لگتا۔
ڈرامہ سیریل ’تیرے بن‘ کے مداحوں کی طرف سے ملنے والے پیغامات کو لے کر سبینہ کافی دلبرداشتہ بھی نظر آئیں اور اس بات کا اظہار انھوں نے حال ہی میں اپنی ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں بھی کیا۔ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں لوگ اداکار اور کردار میں تفریق نہیں کر پاتے۔اگر کردار کو بُرا کہیں تو سمجھ میں بھی آتی ہے۔ میسجز میں گندی باتیں کہہ دیتے ہیں، آپ کی ذاتیات پر حملہ کرتے ہیں۔ مجھے اور میرے ماں باپ کو بد دُعائیں دیتے ہیں۔ میں اللہ پر چھوڑ دیتی ہوں اور میں اُس کو ذاتی طور پر اتنی سنجیدگی سے نہیں لیتی ہوں۔ میری ذہنی صحت پر اثر نہیں پڑتا۔
ڈرامہ سیریل ’تیرے بن‘ صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ برطانیہ، امریکہ، کینیڈا اور بنگلہ دیش میں بھی شوق سے دیکھا جا رہا ہے جہاں سے ملنے والے مثبت پیغامات پر سیبنہ بے حد مشکور نظر آئیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ انڈیا سے مجھے نہیں یاد کہ کوئی بُرا میسیج آیا ہو، کبھی بھی نہیں، سبینہ کو شکوہ ہے کہ اُنھیں مسلسل منفی کرداروں میں کاسٹ کیا جاتا ہے لیکن اُن کی خواہش ہے کہ اُنھیں مثبت کرداروں میں بھی اپنا فن دِکھانے کا موقع دیا جائے۔ وہ کہتی ہیں کہ’ اگر میں نہیں کرپائی تو ٹھیک، میں مان جاؤں گی کہ میں نہیں کر سکتی لیکن مجھے کبھی موقع نہیں ملا۔
