ایران امریکا امن معاہدے کی تقریب پاکستان کی بجائے جنیوا میں کیوں؟

امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ امن معاہدے نے عالمی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے، لیکن اس تمام عمل میں جس ملک کا نام سب سے زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے وہ پاکستان ہے۔ مبصرین کے بقول اگر معاہدہ طے شدہ منصوبے کے مطابق جنیوا میں دستخطوں تک پہنچ جاتا ہے اور اس پر عملدرآمد شروع ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف امریکا اور ایران کے تعلقات میں ایک اہم موڑ ہوگا بلکہ پاکستان کی سفارتی تاریخ میں بھی ایک بڑی کامیابی کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کے امریکہ اور ایران کے مابین ثالثی کا مرکزی کردارادا کرنے کے باوجود معاہدے پر دستخطوں کی تقریب پاکستان کی بجائے جنیوا میں کیوں منعقد کی گئی؟ مبصرین کے مطابق دوست ممالک کے کہنے پر پاکستان نے دستخطوں کی تقریب کیلئے اسلام آباد کی بجائے جنیوا کو ترجیح دی۔ تاہم جنیوا میں بھی امن معاہدے کی تقریب کی میزبانی پاکستان کرے گا جس کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔
دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پاکستان نے فریقین کے درمیان اعتماد سازی، رابطہ کاری اور مذاکراتی ماحول پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والی ابتدائی ملاقاتوں اور رابطوں کو بعد ازاں عالمی سطح پر سنجیدگی سے لیا گیا۔ پاکستان کی ان کوششوں کو خطے کے اہم ممالک، خصوصاً چین، سعودی عرب اور قطر کی حمایت بھی حاصل رہی، جس نے امن عمل کو آگے بڑھانے میں مدد فراہم کی۔
اگرچہ امن معاہدے کی باضابطہ تقریب جنیوا میں متوقع ہے، لیکن اس کے پس منظر میں اسلام آباد کا کردار مسلسل زیرِ بحث ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے خود کو صرف ایک علاقائی طاقت کے طور پر نہیں بلکہ ایک فعال سفارتی ثالث کے طور پر پیش کیا ہے۔ ایسے وقت میں جب دنیا مختلف تنازعات اور کشیدگیوں کا سامنا کر رہی ہے، کسی بھی ملک کی جانب سے مذاکرات اور مفاہمت کے عمل کو آگے بڑھانا ایک اہم سفارتی کامیابی تصور کی جاتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس مجوزہ معاہدے کا ایک اہم پہلو عالمی معیشت سے بھی جڑا ہوا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی اور آبنائے ہرمز میں استحکام سے عالمی توانائی منڈیوں کو ریلیف ملنے کی توقع ہے۔ تیل اور گیس کی قیمتوں میں کمی، شپنگ لاگت میں استحکام اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ایسے عوامل ہیں جو عالمی اقتصادی ماحول کو مثبت سمت دے سکتے ہیں۔
تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اصل امتحان معاہدے پر دستخطوں کے بعد شروع ہوگاکیونکہ کسی بھی امن معاہدے کی کامیابی کا انحصار اس پر ہوتا ہے کہ فریقین اس کی شرائط پر کس حد تک عمل کرتے ہیں اور پیدا ہونے والے اختلافات کو کس انداز میں حل کرتے ہیں۔ اسی لیے آنے والے ہفتے اور مہینے اس پورے عمل کی کامیابی یا ناکامی کا تعین کریں گے۔
بعض حلقوں کی جانب سے یہ خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ خطے میں موجود دیگر تنازعات، بالخصوص اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی، امن عمل کو متاثر کر سکتی ہے۔ تاہم سفارتی ماہرین کا خیال ہے کہ اگر معاہدے کو وسیع بین الاقوامی حمایت حاصل رہی تو اس کے خلاف کسی بھی ممکنہ اقدام کی سیاسی قیمت بہت زیادہ ہوگی۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ جنیوا میں متوقع تقریب محض ایک سفارتی تقریب نہیں بلکہ اس بات کی علامت بھی ہوگی کہ پیچیدہ عالمی تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، اعتماد سازی اور سفارت کاری کے ذریعے بھی تلاش کیا جا سکتا ہے۔ اگر یہ عمل کامیاب رہتا ہے تو پاکستان کو عالمی سطح پر ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے جس نے کشیدگی کم کرنے اور امن کے فروغ میں عملی کردار ادا کیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں سب سے اہم حقیقت یہی ہے کہ دنیا کی نظریں جنیوا پر مرکوز ہیں، جہاں ہونے والے فیصلے نہ صرف امریکا اور ایران کے مستقبل کے تعلقات بلکہ مشرقِ وسطیٰ، عالمی معیشت اور بین الاقوامی سفارت کاری کی سمت پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
