ایران امریکا امن معاہدے سے پاکستان کو کیا ملے گا؟

امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ امن معاہدے کے بعد پاکستان ایک بار پھر عالمی سفارتی منظرنامے کے مرکز میں آ گیا ہے۔ مختلف عالمی رہنماؤں اور اداروں کی جانب سے پاکستان کے ثالثی کردار کو سراہا جا رہا ہے، حتیٰ کہ اقوام متحدہ سمیت کئی ممالک نے اسلام آباد کی کوششوں کو اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ تاہم اس بڑھتی ہوئی سفارتی پذیرائی کے ساتھ ہی یہ سوال بھی شدت اختیار کر گیا ہے کہ آیا پاکستان واقعی ایک مستقل ’پیس میکر‘ کے طور پر ابھر سکتا ہے یا یہ محض ایک وقتی سفارتی کامیابی ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف کے مطابق پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل میں مرکزی سہولت کار کا کردار ادا کیا، جبکہ بعض بین الاقوامی رپورٹس میں اسلام آباد کو اس عمل کا اہم مرکز قرار دیا جا رہا ہے۔ اسی تناظر میں پاکستان کی عالمی سطح پر ساکھ میں واضح بہتری دیکھی گئی ہے اور اسے ایک فعال سفارتی کھلاڑی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
تاہم ماہرین اس معاملے کو مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں۔ معروف تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی موجودہ سفارتی پیش رفت کی بنیاد کسی مستقل اسٹریٹجک طاقت سے زیادہ مخصوص حالات اور فریقین کے اعتماد پر ہے۔ ان کے مطابق پاکستان اس وقت ایک ایسے خطے میں موجود ہے جہاں وہ براہِ راست تنازع کا فریق نہیں، اسی لیے اسے ثالثی کا موقع ملا، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ مستقل طور پر عالمی تنازعات کا حل نکالنے کی پوزیشن میں آ چکا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سفارت کاری میں مستقل ’پیس میکر‘ بننا نہایت مشکل ہے کیونکہ ہر تنازع مختلف نوعیت، مفادات اور طاقت کے توازن پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس لیے کسی ایک ملک کا ہمیشہ ثالث کے طور پر برقرار رہنا عملی طور پر ممکن نہیں ہوتا۔ اس کے باوجود پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابی اسے ایک مضبوط علاقائی کھلاڑی کے طور پر ضرور پیش کرتی ہے۔
اقتصادی نقطہ نظر سے اس پیش رفت کے ممکنہ فوائد بھی زیر بحث ہیں۔ اگر ایران پر پابندیوں میں نرمی یا استثنیٰ کی کوئی صورت پیدا ہوتی ہے تو پاکستان کو توانائی کے شعبے میں کچھ ریلیف مل سکتا ہے، خاص طور پر ایران پاکستان گیس پائپ لائن جیسے پرانے منصوبوں کی بحالی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ دوطرفہ تجارت میں بھی بہتری کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
تاہم ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ایران سے سستا یا مفت تیل حاصل کرنے جیسے تصورات حقیقت پسندانہ نہیں۔ ممکنہ فائدے زیادہ تر محدود، مرحلہ وار اور بین الاقوامی پابندیوں کے ڈھانچے سے مشروط ہوں گے۔
سیاسی اور سفارتی سطح پر پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج یہ بھی ہے کہ آیا وہ اس وقتی سفارتی پذیرائی کو دیرپا اثر میں تبدیل کر سکتا ہے یا نہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کا نظام اکثر وقتی سفارتی کامیابیاں حاصل کرنے میں تو کامیاب رہتا ہے، لیکن انہیں مستقل معاشی یا ادارہ جاتی اصلاحات میں تبدیل نہیں کر پاتا۔
اسی طرح یہ بحث بھی جاری ہے کہ آیا پاکستان اس موقع کو عالمی سطح پر اپنی پوزیشن مضبوط بنانے، تجارتی تعلقات بڑھانے اور مالیاتی اداروں کے ساتھ بہتر روابط قائم کرنے کے لیے استعمال کر پائے گا یا نہیں۔ کچھ ماہرین کے مطابق جی ایس پی پلس، آئی ایم ایف تعاون اور مغربی منڈیوں تک رسائی جیسے مواقع اس سفارتی بہتری سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
دوسری جانب ایک اہم سفارتی پہلو یہ بھی ہے کہ پاکستان کے لیے ابراہام اکارڈ جیسے علاقائی معاہدوں میں شمولیت ایک حساس معاملہ ہے، جس پر اس کی خارجہ پالیسی کی روایتی لائنیں واضح طور پر موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مستقبل میں پاکستان کے لیے توازن برقرار رکھنا ایک اہم سفارتی امتحان ہوگا۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان کی حالیہ سفارتی پیش رفت اسے عالمی منظرنامے میں زیادہ نمایاں ضرور بنا رہی ہے، لیکن ماہرین کے مطابق اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان کو کتنی تعریف مل رہی ہے، بلکہ یہ ہے کہ آیا وہ اس موقع کو دیرپا معاشی اور ادارہ جاتی فوائد میں بدل سکتا ہے یا نہیں۔
