ایران امریکہ معاہدے کے باوجود اسرائیل پیچھے نہیں ہٹے گا:نیتن یاہو

اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر اپنا پہلا ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران امریکہ معاہدے بارے سفارتی پیش رفت ضرور ہوئی ہے، لیکن اسرائیل کی جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی۔ اسرائیل اپنے مفادات کا تحفظ ہر صورت میں یقینی بنائے گا۔

اسرائیلی صحافیوں سے گفتگو میں نیتن یاہو نے کہا کہ ان کی حکومت کا بنیادی ہدف اسرائیل کو درپیش “جوہری خطرے” کا خاتمہ ہے، اور اس مقصد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا اور اس کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھایا جائے گا۔

نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل اور امریکا کی مشترکہ فوجی کارروائیوں نے ایران کے جوہری عزائم کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور ممکنہ بڑے خطرے کو ٹال دیا گیا ہے۔ان کے مطابق اسرائیل خطے میں ایران اور اس کے اتحادی گروہوں کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھے گا اور اپنی سلامتی کے لیے اقدامات جاری رکھے گا۔ انہوں نے لبنان کے حوالے سے بھی کہا کہ اسرائیلی افواج ان علاقوں میں موجود رہیں گی جہاں سے ان کے بقول خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم نے اگرچہ امریکا ایران معاہدے پر براہ راست تنقید نہیں کی، تاہم بین الاقوامی میڈیا کے مطابق اسرائیلی قیادت کو خدشہ ہے کہ اس معاہدے سے ایران کو اقتصادی ریلیف اور سفارتی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔واضح رہے کہ اسرائیل طویل عرصے سے اس مؤقف پر قائم ہے کہ ایران کی جوہری سرگرمیوں اور خطے میں اس کے کردار پر سخت نگرانی ضروری ہے۔

Back to top button