ایران امریکا معاہدہ، فیلڈ مارشل ٹاپ ٹرینڈ کیسے بنے؟

امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے تاریخی امن معاہدے کے بعد پاکستان ایک مرتبہ پھر عالمی سفارتی منظرنامے میں نمایاں حیثیت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ مختلف حلقوں میں یہ تاثر سامنے آ رہا ہے کہ اس پیش رفت میں پاکستان نے پس پردہ رابطوں اور سفارتی کوششوں کے ذریعے اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث ملکی سیاسی اور عسکری قیادت کو اندرون و بیرون ملک توجہ حاصل ہو رہی ہے۔
معاہدے کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر پاکستان کی عسکری قیادت، بالخصوص فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے حوالے سے مختلف ہیش ٹیگز ٹاپ ٹرینڈز میں شامل ہو گئے۔ صارفین کی بڑی تعداد نے خطے میں امن اور کشیدگی میں کمی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے پاکستان کے کردار پر مثبت تبصرے کیے۔ بعض صارفین نے تو یہاں تک مطالبہ کیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان اعتماد سازی اور مذاکرات میں مؤثر کردار ادا کرنے پر پاکستان کا عالمی سطح پر اعتراف ہونا چاہیے۔ امریکہ ایران امن معاہدے میں مؤثر ملٹری ڈپلومیسی پر نوبل پیس فارفیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایکس پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔ملکی اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کو زبردست الفاظ میں سراہا جا رہا ہے۔صارفین کی جانب سے عسکری قیادت کی مؤثر ملٹری ڈپلومیسی کی بھرپور پذیرائی کی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر صارفین عالمی امن کے لئے ان کی اس عظیم کاوش پر فیلڈ مارشل عاصم منیرکو نوبل پیس پرائز دینے کا مطالبہ کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
مبصرین کے مطابق پاکستان ماضی میں بھی کئی اہم بین الاقوامی تنازعات میں ثالثی اور رابطہ کاری کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ افغانستان، مشرقِ وسطیٰ اور مسلم دنیا سے متعلق متعدد معاملات میں اسلام آباد نے مختلف اوقات میں سفارتی پل کا کردار ادا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ معاہدے کے تناظر میں بھی پاکستان کا نام عالمی مباحث میں زیرِ بحث ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق کسی بھی امن معاہدے کی کامیابی صرف ایک ملک یا شخصیت کی کوششوں کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ اس میں کئی ریاستوں، سفارت کاروں، خفیہ رابطوں اور بین الاقوامی اداروں کی مشترکہ کاوشیں شامل ہوتی ہیں۔ تاہم اگر کسی ملک کی سفارتی کوششیں مذاکرات کے ماحول کو سازگار بنانے میں مددگار ثابت ہوں تو اسے ایک اہم کامیابی تصور کیا جاتا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری مہم اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستانی عوام کی ایک بڑی تعداد اس پیش رفت کو ملک کی سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف ہیش ٹیگز اور تعریفی پیغامات تیزی سے مقبول ہوئے اور عالمی امن کے تناظر میں پاکستان کے کردار پر بحث شروع ہو گئی۔ مبصرین کے بقول اگر آنے والے دنوں میں ایران اور امریکا کے درمیان معاہدہ عملی طور پر کامیاب رہتا ہے اور خطے میں کشیدگی کم ہوتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پاکستان سمیت پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔ توانائی کی قیمتوں میں استحکام، تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ اور علاقائی سلامتی کی بہتر صورتحال ایسے ممکنہ فوائد ہیں جن سے خطے کے تمام ممالک مستفید ہو سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تاریخ اس معاہدے میں پاکستان کے کردار کو کس حد تک یاد رکھے گی، تاہم یہ حقیقت ضرور ہے کہ امن کی ہر کامیاب کوشش عالمی سطح پر اہمیت رکھتی ہے اور اس میں کردار ادا کرنے والے ممالک کو بین الاقوامی توجہ حاصل ہوتی ہے۔
