ایران نے امریکا سے امن معاہدہ کیوں کیا؟ اصل وجہ سامنے آ گئی

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر اتفاق کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ آیا امریکا واقعی ایرانی قوم کے حقوق کا احترام کرنے کے لیے سنجیدہ ہے یا نہیں۔
صدر مسعود پزشکیان کا اپنے بیان میں مزید کہنا ہے کہ معاہدے کے متن پر طویل اور تفصیلی مشاورت کے بعد ایرانی پارلیمنٹ (مجلسِ شورائے اسلامی) کی اکثریت نے اس کی حمایت کی ہے تاکہ عملی طور پر امریکا کے رویے اور عزم کو پرکھا جا سکے۔ ان کے مطابق معاہدے کی تیاری کے دوران ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے قومی مفادات کے تحفظ سے متعلق شقوں کی شمولیت میں اہم کردار ادا کیا، جس سے ایران کی خودمختاری اور بنیادی مفادات کو دستاویز کا حصہ بنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ یہ مفاہمتی یادداشت کئی ماہ کے مسلسل سفارتی رابطوں اور مذاکرات کا نتیجہ ہے، اور اس کا مقصد خطے میں کشیدگی میں کمی اور بامعنی مذاکرات کا آغاز ہے۔
ایرانی صدر نے واضح کیا کہ ایران نے ہر ممکن صورتحال کے لیے مکمل تیاری کر رکھی ہے اور کسی بھی نتیجے سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق اگر معاہدے پر منصفانہ اور مکمل عملدرآمد ہوا تو یہ ایران کے لیے ایک اہم سفارتی کامیابی ثابت ہو سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ معاہدے کے بعض نکات پر ابتدائی اختلافات موجود تھے تاہم انہیں مذاکرات کے ذریعے حل کر لیا گیا ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ اس کے پرامن جوہری پروگرام، اقتصادی مفادات اور قومی سلامتی کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
خیال رہےکہ امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر اتفاق ہو چکا ہے اور باضابطہ دستخط آئندہ جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں متوقع ہیں۔ اسی روز آبنائے ہرمز کے مکمل طور پر کھلنے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل میں بڑی تبدیلی متوقع ہے۔
