ایران امریکا امن معاہدے کا متن عوام کے سامنے کب آئے گا؟

مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک بڑی پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب امریکہ اور ایران کے درمیان ایک تاریخی مفاہمتی معاہدے کی اطلاعات نے عالمی سفارتی اور اقتصادی حلقوں میں امن کی نئی امید پیدا کر دی۔ امریکی حکام کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کر چکے ہیں، جبکہ باقاعدہ اور رسمی دستخطی تقریب جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں متوقع ہے۔اس معاہدے کی سب سے اہم شق آبنائے ہرمز سے متعلق بتائی جا رہی ہے، جس کے تحت عالمی بحری تجارت کیلئے اس اہم آبی گزرگاہ کو کھلا رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر آبنائے ہرمز 60 روز کیلئے بغیر کسی ٹول ٹیکس کے کھلی رہے گی، جس سے عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل اور تیل کی سپلائی چین کو بڑا ریلیف ملے گا۔

معاہدے کی خبر سامنے آتے ہی عالمی مالیاتی منڈیوں نے مثبت ردعمل دیا۔ پیر کے روز تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی جبکہ مختلف اسٹاک مارکیٹس میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کے باعث نمایاں تیزی ریکارڈ کی گئی۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ معاہدہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو عالمی معیشت پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب توانائی کی قیمتیں اور سپلائی چین عالمی معیشت کیلئے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہیں۔اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مفاہمت کی فضا پیدا ہوئی ہے، تاہم ایران نے واضح کیا ہے کہ معاہدے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ماضی کے تنازعات یا امریکی و اسرائیلی پالیسیوں کو فراموش کر دے گا۔ ایرانی حکام کے مطابق رسمی دستخطوں کے بعد تکنیکی مذاکرات کا نیا مرحلہ شروع ہوگا جس میں مختلف عملی اور اقتصادی امور پر بات چیت کی جائے گی۔

دوسری جانب اسرائیل نے اس معاہدے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اسرائیلی قیادت کا مؤقف ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والی کسی بھی مفاہمت کو خطے کی سلامتی کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ اسرائیلی وزرا نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی قومی سلامتی کی پالیسیوں پر عمل جاری رکھیں گے اور لبنان، شام اور غزہ کے حوالے سے اپنی دفاعی حکمت عملی میں کوئی فوری تبدیلی نہیں لائیں گے۔

صدر ٹرمپ نے معاہدے کو اپنی خارجہ پالیسی کی ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت بحال ہو رہی ہے اور جمعہ تک یہ عالمی گزرگاہ مکمل طور پر فعال ہو جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ معاہدے کا مکمل متن رسمی تقریب کے بعد عوام کے سامنے لایا جائے گا جبکہ پابندیوں میں نرمی ایران کے عملی رویے اور معاہدے کی پاسداری سے مشروط ہوگی۔

عالمی مبصرین کے نزدیک یہ معاہدہ صرف ایران اور امریکہ کے تعلقات تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات مشرقِ وسطیٰ کی سیاست، عالمی توانائی منڈیوں، علاقائی سلامتی اور بین الاقوامی سفارت کاری پر بھی مرتب ہوں گے۔ اب دنیا کی نظریں جمعہ کو ہونے والی دستخطی تقریب اور اس کے بعد جاری ہونے والے معاہدے کے متن پر مرکوز ہیں، جو اس تاریخی پیش رفت کی اصل سمت اور اثرات کا تعین کرے گا۔

Back to top button