ایران امریکا معاہدے نے عالمی معیشت کو نئی زندگی کیسے دی؟

امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے خاتمے کی جانب پیش رفت نے عالمی معیشت کو ایک مثبت پیغام دیا ہے۔ کئی ماہ سے جاری غیر یقینی صورتحال کے بعد توانائی کی عالمی منڈیوں میں استحکام کے آثار نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں تیل اور قدرتی گیس کی قیمتوں میں کمی دیکھی جا رہی ہے جبکہ عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوتا نظر آ رہا ہے۔

خیال رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تجارتی اور توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر استعمال ہونے والے تیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران اس آبی راستے میں پیدا ہونے والی کشیدگی نے نہ صرف تیل کی قیمتوں کو اوپر دھکیلا بلکہ عالمی افراطِ زر اور سپلائی چین کے مسائل کو بھی مزید پیچیدہ بنا دیا تھا۔ تاہم حالیہ معاہدے کے بعد مارکیٹوں نے فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے خطرات کی بنیاد پر شامل اضافی قیمتوں کو کم کرنا شروع کر دیا ہے۔

تیل اور گیس کی قیمتوں میں کمی کا سب سے بڑا فائدہ ٹرانسپورٹ، صنعت، زراعت اور ہوابازی کے شعبوں کو پہنچنے کی توقع ہے۔ کم ایندھن لاگت کے باعث پیداواری اخراجات میں کمی آئے گی، جس کے اثرات بالآخر صارفین تک منتقل ہو سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے سرمایہ کاروں نے ایئرلائنز، لاجسٹکس، ٹرانسپورٹ اور صنعتی کمپنیوں کے حصص میں دلچسپی بڑھا دی ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق توانائی کی قیمتوں میں کمی مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جب ایندھن سستا ہوتا ہے تو اشیائے خورونوش، نقل و حمل اور صنعتی پیداوار کی لاگت بھی کم ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں مجموعی افراطِ زر میں نرمی آ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی مالیاتی منڈیوں میں یہ توقع پیدا ہو رہی ہے کہ آنے والے مہینوں میں مہنگائی کی رفتار نسبتاً سست پڑ سکتی ہے۔

صرف توانائی ہی نہیں بلکہ کھاد، زرعی اجناس اور کاغذی صنعت سمیت متعدد شعبے بھی اس استحکام سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اگرچہ ان شعبوں میں قیمتوں کی تبدیلی فوری طور پر نظر نہیں آتی، لیکن توانائی اور شپنگ لاگت میں کمی کے اثرات وقت کے ساتھ ساتھ ان صنعتوں تک بھی پہنچتے ہیں۔

دوسری جانب توانائی پیدا کرنے والی کمپنیوں کیلئے صورتحال مختلف ہو سکتی ہے کیونکہ خام تیل کی کم قیمتیں ان کے منافع پر دباؤ ڈال سکتی ہیں۔ اسی لیے توانائی کے شعبے کے بعض حصص میں نسبتاً سست روی دیکھی جا رہی ہے جبکہ دیگر صنعتی شعبے سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ معاشی ماہرین کے بقول اگر آنے والے دنوں میں معاہدہ مکمل طور پر نافذ ہو جاتا ہے اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی معمول کے مطابق بحال رہتی ہے تو عالمی معیشت کو مزید استحکام مل سکتا ہے۔ اس کے اثرات نہ صرف عالمی منڈیوں بلکہ پاکستان سمیت توانائی درآمد کرنے والے ممالک پر بھی مثبت انداز میں مرتب ہو سکتے ہیں، جہاں تیل اور گیس کی عالمی قیمتوں میں کمی مہنگائی اور درآمدی اخراجات کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ مجموعی طور پر ایران امریکا امن معاہدہ صرف ایک سفارتی پیش رفت نہیں بلکہ اسے عالمی معیشت کیلئے ایک امید افزا موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے اثرات آنے والے مہینوں میں مزید واضح ہو سکتے ہیں۔

Back to top button