ایران امریکا امن معاہدہ، اسرائیل میں صف ماتم کیوں بچھ گئی؟

امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک نئی ہلچل پیدا کر دی ہے، امن معاہدے کو جہاں دنیا کے تمام ممالک کی جانب سے خوب سراہا جا رہا ہے وہیں دوسری جانب معاہدے کے بعد اسرائیل میں صف ماتم بچھی نظر آتی ہے۔ معاہدے کے خدوخال بارے اسرائیل کے سیاسی، سفارتی اور سکیورٹی حلقوں میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اسرائیلی حکومت، اپوزیشن اور سلامتی کے ماہرین کی جانب سے اس معاہدے کو مختلف زاویوں سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کے باعث ملک کے اندر ایک نیا سیاسی بحران جنم لیتا دکھائی دے رہا ہے۔
اسرائیلی ذرائع ابلاغ اور سیاسی حلقوں کے مطابق متعدد حکومتی شخصیات اس بات پر ناراض ہیں کہ امریکا نے ایران کے ساتھ مذاکرات اور معاہدے کے عمل میں اسرائیل کے تحفظات کو مطلوبہ اہمیت نہیں دی۔ بعض اعلیٰ اسرائیلی حکام نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر اسرائیل کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کا الزام بھی عائد کیا، جبکہ بعض وزرا نے واضح طور پر اعلان کیا کہ اسرائیل خود کو اس معاہدے کا پابند نہیں سمجھتا۔
وزیر قومی سلامتی اتمار بن گویر اور وزیر خزانہ بیزلیل اسموٹرچ سمیت کئی سخت گیر رہنماؤں نے معاہدے کو اسرائیل اور مغربی دنیا کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ یہ معاہدہ ایران کو خطے میں مزید سیاسی اور سفارتی گنجائش فراہم کرے گا، جس کے طویل المدتی اثرات اسرائیل کی سلامتی پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی اپوزیشن نے بھی اس صورتحال کو حکومت کی خارجہ پالیسی کی ناکامی قرار دیا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت اپنی سفارتی حکمت عملی کے ذریعے واشنگٹن پر اثر انداز ہونے میں ناکام رہی، جس کے نتیجے میں ایسا معاہدہ سامنے آیا جس پر اسرائیل کے اندر شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔ بعض ناقدین کے مطابق حالیہ پیش رفت نے وزیراعظم نیتن یاہو کی سیاسی پوزیشن کو بھی کمزور کیا ہے۔
معاہدے کے بعد صدر ٹرمپ کے اس بیان نے بھی اسرائیلی حلقوں میں بحث کو مزید تیز کر دیا کہ اگر ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوتے تو اسرائیل زیادہ دیر تک اپنے دفاع کو برقرار نہ رکھ پاتا۔ اس بیان کو بعض مبصرین نے اسرائیلی سلامتی خدشات کی توثیق جبکہ بعض نے اسرائیل پر دباؤ بڑھانے کی کوشش قرار دیا۔
دفاعی امور کے ماہرین کے مطابق اصل سوال یہ نہیں کہ معاہدہ ہوا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ آیا اس معاہدے کے نتیجے میں ایران کے جوہری پروگرام، علاقائی اثر و رسوخ اور سلامتی سے متعلق خدشات کو مؤثر انداز میں محدود کیا جا سکے گا یا نہیں۔ یہی معاملہ آنے والے مہینوں میں امریکا، ایران اور اسرائیل کے تعلقات کا بنیادی محور بن سکتا ہے۔ اسرائیلی سیاسی اور سلامتی اداروں میں جاری ہنگامی مشاورت اس بات کا اشارہ ہے کہ تل ابیب اس معاہدے کے اثرات کا تفصیلی جائزہ لے رہا ہے۔ اگرچہ فوری طور پر کسی بڑے عملی اقدام کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم اسرائیلی قیادت کی جانب سے لبنان، شام اور غزہ میں اپنی سکیورٹی پالیسی برقرار رکھنے کے اعلانات ظاہر کرتے ہیں کہ اسرائیل خطے میں اپنی دفاعی حکمت عملی تبدیل کرنے کے موڈ میں نہیں۔
مبصرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی پیچیدہ سیاست میں یہ معاہدہ ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے، مگر اسرائیل کے اندر پیدا ہونے والی سیاسی تقسیم اور سلامتی خدشات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس معاہدے کے اثرات صرف واشنگٹن اور تہران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے کی سیاسی سمت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
