ایران امریکا امن معاہدہ، آگے کیا ہونے والا ہے؟

امریکا اور ایران کے درمیان جاری امن معاہدے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں دونوں ممالک نے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر ڈیجیٹل دستخط کر دئیے ہیں۔ اس اقدام کو دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے خاتمے اور مجوزہ امن معاہدے پر عملدرآمد کی جانب ایک اہم مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔

برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایران کی جانب سے پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے مفاہمتی یادداشت پر ڈیجیٹل دستخط کیے ہیں۔ذرائع کے مطابق دستخطی عمل گزشتہ روز مکمل کیا گیا، جبکہ معاہدے کی مکمل تفصیلات آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران جاری کیے جانے کا امکان ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ معاہدے کے مختلف پہلوؤں اور نفاذ کے طریقہ کار پر مزید وضاحت اسی عرصے میں سامنے آ جائے گی۔

امریکی حکام کے مطابق معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو فوری طور پر عالمی بحری آمدورفت اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے کھولنے کی شق شامل ہے، جبکہ ایران پر عائد امریکی بحری ناکہ بندی بھی مرحلہ وار ختم کی جائے گی۔ اس اقدام کے نتیجے میں خلیج اور آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک اور تیل بردار جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ معاہدے کے تحت ایران کے منجمد مالی اثاثوں کی بحالی، اقتصادی پابندیوں میں نرمی اور دیگر ممکنہ مراعات کو ایران کی جانب سے معاہدے پر عملدرآمد اور طے شدہ ذمہ داریوں کی تکمیل سے مشروط رکھا گیا ہے۔ اس حوالے سے کارکردگی پر مبنی نگرانی کا نظام بھی متعارف کرائے جانے کا امکان ہے۔

امریکی عہدیداروں کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان اس ہفتے کے اختتام پر تکنیکی سطح کے مذاکرات کا آغاز بھی کیا جائے گا۔ ان مذاکرات میں معاہدے کے عملی نفاذ، نگرانی کے طریقہ کار، پابندیوں میں ممکنہ نرمی اور دیگر حساس امور کو حتمی شکل دی جائے گی۔سفارتی ذرائع کے مطابق مفاہمتی یادداشت پر دستخط کو حتمی امن معاہدے کی جانب ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔ توقع ہے کہ آئندہ چند روز کے دوران دونوں ممالک کے نمائندے مزید ملاقاتیں کریں گے تاکہ معاہدے کی تمام شقوں پر مکمل اتفاق رائے اور عملدرآمد کے طریقہ کار کو حتمی شکل دی جا سکے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر معاہدے پر کامیابی سے عملدرآمد ہوتا ہے تو اس کے نتیجے میں عالمی توانائی منڈیوں میں استحکام پیدا ہو سکتا ہے، تیل کی سپلائی میں بہتری آ سکتی ہے اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں نمایاں کمی آنے کی توقع ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق ڈیجیٹل دستخطوں کا یہ مرحلہ امریکا اور ایران کے درمیان کئی برسوں سے جاری کشیدگی کے بعد تعلقات میں بہتری کی ایک اہم علامت ہے، جبکہ عالمی برادری کی نظریں اب معاہدے کی تفصیلات اور اس کے عملی نفاذ پر مرکوز ہیں۔

Back to top button