’’اداکار بابرعلی کا بالی ووڈ سے کام نہ ملنے کا اعتراف‘‘

معروف پاکستانی اداکار بابر اعلی نے اعتراف کیا ہے کہ ان کو کبھی بھی بھارتی فلم انڈسٹری سے کام کی آفر نہیں ہوئی، اداکار نے انتہائی کم عمری میں پی ٹی وی کے معروف ڈرامے ’لبیک‘ سے کیریئر کا آغاز کیا، جس میں انہوں نے مسلمان سپہ سالار محمد بن قاسم کا کردار ادا کیا تھا۔اس کے بعد بابر علی ’بابر‘ ڈرامے میں مغل بادشاہ کے کردار میں دکھائی دیئے، جس کے بعد انہوں نے پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) پر متعدد ڈرامے کرنے کے بعد 1995 میں سید نور کی فلم ’جیوا‘ سے فلمی سفر کا آغاز کیا تھا، ’جیوا‘ میں بابر علی کے ہمراہ ریشم نے مرکزی کردار ادا کیا تھا اور ان کی اسی فلم کے گانے ’جانو سن ذرا‘ نے مقبولیت کے نئے ریکارڈز بنائے تھے۔بابر علی نے تین درجن کے قریب فلموں اور 3 درجن کے قریب ڈراموں میں کردار ادا کیے ہیں اور وہ سوشل میڈیا پر بھی متحرک دکھائی دیتے ہیں، حال ہی میں وہ ٹاک شو ’’مذاق رات‘‘ میں شریک ہوئے، جہاں انہوں نے شوبز کیریئر سمیت دیگر معاملات پر کھل کر باتیں کیں، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ایک بار ہیرو اور ولن کی لڑائی کا منظر شوٹ کرنے کے دوران شفقت چیمہ نے انہیں ایسا مکا مارا کہ وہ بے ہوش ہوگئے تھے، جب وہ ہوش میں آئے تو انہوں نے خود کو شفقت چیمہ کی گود میں پایا۔بابر علی کے مطابق فلموں کی شوٹنگ کے دوران بھی ان کی طرح شفقت چیمہ بھی روزے رکھتے تھے اور جس دن انہوں نے انہیں مکا مارا اس دن بھی دونوں روزے سے تھے اگر انہیں زندگی کو پیچھے لے جانے کا موقع ملے تو وہ فلم انڈسٹری کی صرف دو باتیں درست کریں گے، ایک وقت کی پابندی اور دوسرا فلموں میں کوئی نہ کوئی اچھا پیغام شامل کرنا۔بابر علی نے بتایا کہ جب میں 15 برس کا تھا تو ایک دن لبیک ڈرامے کے پروڈیوسر نے انہیں باہر کھڑا دیکھ کر زور سے کہا کہ انہیں ان کے محمد بن قاسم مل گئے اور پھر وہ انہیں اندر لے گئے، انہیں آڈیشن دینے کے لیے 15 منٹ دیئے گئے اور انہوں نے پوری تیاری کر کے والدہ کو پی ٹی وی سے فون کر کے دعا کا کہا۔بابر علی نے اعتراف کیا کہ ان کا آڈیشن اچھا نہیں تھا لیکن اس کے باوجود انہیں محمد بن قاسم کے کردار کے لیے منتخب کیا گیا، اداکار کے مطابق انہوں نے اپنے کیریئر کے دوران کبھی ایسا نہیں سوچا تھا کہ انہیں کہیں دوسرے ملک جاکر اداکاری کرنی چاہئے، بالی وڈ انڈسٹری کی تعریف کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ وہاں اچھا کام ہو رہا ہے لیکن انہوں نے کبھی دوسرے ملک جاکر کام کرنے کا نہیں سوچا۔
