پاکستان پر بلوچستان کی حکومت کیسے قائم ہوئی؟

اگر کہا جائے کہ اس وقت صوبہ بلوچستان پاکستان پر حکومت کر رہا ہے تو قطعاً بے جا نہ ہو گا کیونکہ ملک کے اہم عہدوں پر اس وقت بلوچستان کے نمائندگان موجود ہیں، چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا تعلق بھی بلوچستان سے ہے۔ نگراں وزیراعظم کے طور پر انوار الحق کاکڑ نے حال ہی میں ذمہ داریاں سنبھالی ہیں جو بلوچستان سے تعلق رکھتے ہیں۔اس کے علاوہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی بھی اسی دھرتی سے تعلق رکھتے ہیں۔
وی نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اہم عہدوں پر بلوچستان کی نمائندگی سے صوبے کے احساس محرومی میں بھی کوئی کمی ہوگی یا نہیں؟اس سوال کے جواب میں بلوچستان کے سینیئر صحافی سید علی شاہ کا کہنا ہےکہ اس وقت بلوچستان کے پاس عہدے تو بہت بڑے موجود ہیں لیکن ان عہدوں کی وجہ سے بلوچستان میں موجود بھوک، غربت، بے روزگاری اور پسماندگی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ بلوچستان کے مسائل سیاسی ہیں، معاشی ہیں اور آئینی ہیں، جب تک 18ویں آئینی ترمیم میں بلوچستان کے ساتھ کیے گئے وعدے وفا نہیں کیے جاتے تب تک شاید یہ مسائل جوں کے توں ہی رہیں گے۔سید علی شاہ نے بتایا کہ کوئی ایک یا دو افراد کے اہم عہدوں پر بیٹھ جانے سے یہاں کے بلوچ، پشتون، ہزارہ اور دیگر اقوام کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے سیاسی قیادت کے پاس کوئی بہتر پلان ہونا ضروری ہے۔
صوبے کے ایک اور سینیئر صحافی ایوب ترین کا کہنا ہے کہ ملک کے اہم عہدوں پر بلوچستان کے نمائندگان کا ہونا ایک خوش آئند بات ہے۔انہوں نے کہاکہ چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو سپریم کورٹ میں موجود صوبے کے کیسز کو پہلے سننے کی ضرورت ہے۔ ’ان کیسز میں بلوچستان کی مردم شماری کا کیس، لاپتا افراد سے متعلق کیس، وکلا خودکش قتل کمیشن سمیت دیگر کیسز شامل ہیں‘۔ایوب ترین نے کہاکہ صوبے کے عوام نے بڑے عہدوں پر بیٹھی شخصیات سے اپنے مسائل کے حل سے متعلق امیدیں باندھ لی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ میں صوبے کا بہتر حصہ، گیس میں رائلٹی اور 18 ویں ترمیم کے بعد صوبے کو دیے جانے والے حقوقِ کی منتقلی پر ان شخصیات کو کام کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ صوبے کے عوام کو اس بات کی امید ہے کہ سیاسی مسائل کے حل سمیت صوبے کو درپیش انتظامی مسائلِ کے حل میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ اپنا کردار ادا کریں گے۔
خیال رہے کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے، لیکن قیام پاکستان سے لے کر اب تک یہاں احساس محرومی اور پسماندگی ہے۔وسائل کی تقسیم میں ہمیشہ اس صوبے کے عوام کو نظر انداز کیے جانے کا مسئلہ درپیش رہا، یہی وجہ ہے کہ آزادی کے 77 سال گزر جانے کے باوجود بھی بلوچستان ملک کے باقی حصوں سے زیادہ پسماندہ ہے۔اکیسویں صدی میں جہاں دنیا چاند اور مریخ پر قدم رکھ چکی ہے۔ وہیں بلوچستان کے باسی آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ صوبے میں بیڈ گورننس نے عوام کو سیاسی عمل سے شدید مایوس کیا ہے۔ عوام کا ماننا ہے کہ اہل اقتدار ایوان کی نرم کرسیوں پر بیٹھ کر صوبے کے عوام اور ان کے مسائل کو بھول جاتے ہیں، جبکہ دوسری جانب سیاستدانوں کے مطابق مرکز میں بڑی نمائندگی نہ ہونے سے بھی بلوچستان کے مسائل کے حل میں کامیابی نہیں مل سکی۔
بلوچستان کو مسائل کا گڑھ کہا جائے تو بالکل غلط نہ ہو گا، صوبے کے چند بڑے مسائل کا ذکر کیا جائے تو ان میں تعلیم، صحت، امن و امان اور مواصلاتی نظام شامل ہیں۔ بات کی جائے اگر شعبہ تعلیم تو ہر سال اربوں روپے کا بجٹ رکھا جاتا ہے لیکن صوبے میں تعلیمی صورتحال جوں کی توں ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق صوبے میں 27.4 فیصد اسکول بند پڑے ہیں جبکہ 63.6 فیصد اسکولوں میں طلبا وطالبات کے لیے کُرسیاں ہی موجود نہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ صوبے کے 18.8 فیصد اسکولوں میں پینے کا پانی تک موجود نہیں۔ان مسائل کے علاوہ بھی بلوچستان کے عوام کے احساس محرومی کی ایک طویل فہرست موجود ہے، جس میں سب سے اہم مسئلہ لاپتا افراد کی بازیابی اور وسائل کی برابر تقسیم نہ ہونا ہے۔پانی کی قلت، شعبہ ماہی گیری و زراعت میں مشکلات بھی بلوچستان کے اہم مسائل ہیں، اس کے علاوہ گیس کی رائلٹی اور ریکوڈک میں مناسب حصے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے، اور سب سے بڑھ کر سیاسی بے یقینی کی وجہ سے بھی لوگ پریشان ہیں۔
