اداکار مصطفیٰ قریشی نے اپنی قبر کی جگہ کیوں مختص کروائی؟

معروف لیجنڈری اداکار مصطفیٰ قریشی نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی خواہش ہے کہ ان کی تدفین اہلیہ کے پہلو میں ہو جس کے لیے انھوں نے قبر کی جگہ مختص کروا دی ہے، مصطفیٰ قریشی کی اہلیہ گلوکارہ و اداکارہ روبینہ قریشی جولائی 2022 میں انتقال کر گئی تھیں۔یوٹیوب چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں مصطفیٰ قریشی نے بتایا کہ ان کی اہلیہ کی تدفین کراچی میں عبداللہ شاہ غازی مزار کے احاطے میں کی گئی تھیں اور اہلیہ کی قبر کے لیے 5 لاکھ روپے کا معاوضہ بھی دیا گیا تھا، ان کی اہلیہ کی قبر کا معاوضہ محکمہ ثقافت سندھ نے دیا تھا جوکہ محکمہ اوقاف کو دیا تھا اور وہ سمجھتے ہیں کہ سندھ حکومت نے پیسے ایک جیب سے نکال کر دوسری جیب میں ڈالے۔اداکار کا کہنا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ مرنے کے بعد انہیں بھی اہلیہ کے قریب دفنایا جائے اور اب وہاں ایک ہی قبر کی جگہ بچ گئی ہے جو انہوں نے اپنے لیے مختص کروا رکھی ہے۔انہوں نے قبر کی جگہ پر پتھر رکھا ہے، جس پر لکھا گیا ہے کہ مختص جگہ برائے مصطفیٰ قریشی جبکہ انہیں بھی قبر کے لیے پانچ لاکھ روپے دینے ہیں اور فی الحال انہوں نے پیسے نہیں دیئے۔سینئر اداکار نے مطالبہ کیا کہ فنکاروں سے قبر کا معاوضہ نہیں لیا جانا چاہئے، تاہم انہوں نے عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنی جگہ کے لیے پیسے دیں گے، انہوں نے محکمہ ثقافت کو اپنی قبر کا معاوضہ دینے سے منع کر رکھا ہے، تاہم ان کی خواہش ہے کہ محکمہ اوقاف ان سے معاوضہ نہ لیں اور کسی بھی فنکار سے اس طرح کا معاوضہ نہیں لیا جانا چاہئے۔واضح رہے کہ 11 مئی 1940 کو پیدا ہونے والے مصطفیٰ قریشی نے اپنے کیرئیر کا آغاز ریڈیو پاکستان حیدرآباد سے کیا، لیجنڈ اداکار کی پہلی فلم 1958ء میں ریلیز ہوئی، فلم نے باکس آفس پر شاندار بزنس بھی کیا، پنجابی فلم ’’چار خون دے پیاسے‘‘ میں بھی یادگار کردار نبھایا۔”مولا جٹ“ میں انہوں نے نوری نت کے کردار کو بھی انمول بنا دیا، 40 سال سے زائد فلم انڈسٹری پر راج کرنے والے اداکار کی مشہور فلموں میں لاکھوں میں ایک، جی دار، سلطنت، حاجی بابا، پیاملن کی آس، آرزو، ظل شاہ، سہاگن، سوہا جوڑا، گاڈ فادر، شادمانی، ضدی خان، جٹ دا ویر سمیت دیگر شامل ہیں۔
