راحت فتح علی کو بچپن میں سب سے زیادہ مار کس سے پڑی؟

معروف گلوکار راحت فتح علی خان نے انکشاف کیا ہے کہ ان کو بچپن میں سب سے زیادہ مار والد صاحب سے پڑی جو انہیں پتھروں سے مارا کرتے تھے، اپنے ملازم پر تشدد کے واقعے پر معافی مانگنے کے بعد ایک بار پھر سے وضاحت کی ہے کہ ان کی ’گم ہو جانے والی بوتل‘ میں دم کیا ہوا پانی تھا۔یوٹیوبرعدیل آصف کے ساتھ ایک پوڈ کاسٹ میں راحت فتح علی خان نے بتایا کہ ’میں نے فوری طور پر اپنے ملازم نوید سے معافی مانگ لی تھی، میرے معافی مانگنے کے بعد وہ رونے لگے کہ استاد جی آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ راحت نے بتایا کہ ماضی میں انہوں نے نوید کی مالی مدد کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے نوید کے والد کے دل کے علاج اور اس کی بیٹی کے آپریشن کے اخراجات ادا کیے تھے، یہاں تک کہ اس کے خاندان کی شادیوں میں بھی میں نے اس کی مدد کی ہے۔‘گلوکار نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ’یہ سچ ہے کہ بوتل میں مقدس پانی تھا، لوگ اس جذبے کی گہرائی کو نہیں سمجھتے، یہ ایک روحانی چیز ہے اور میرے لیے بہت بڑی بات تھی۔‘ پوڈ کاسٹ میں اپنے بچپن کے بارے میں بھی بتایا کہ ’میرے والد فرخ فتح علی خان مجھے بہت مارتے تھے، وہ ہٹلر جیسے تھے، اگر انہیں کبھی میری کسی غلطی کا علم ہو جاتا تو وہ مجھے پتھر مارتے تھے۔جب راحت فتح علی خان سے پوچھا گیا کہ کیا انہیں طالب علمی کے زمانے میں کبھی مارا پیٹا گیا تھا، تو انہوں نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ میں بھی ایسے ہی حالات میں رہا ہوں، استاد نصرت فتح علی خان صاحب بہت سخت تھے، وہ صرف ایک نظر ڈالتے تھے اور سامنے موجود شخص کو معلوم ہوجاتا تھا کہ اب ان کی خیر نہیں۔ جب موسیقی کی بات آتی ہے تو میں نے ان جیسا سخت کسی کو نہیں دیکھا۔واضح رہے ملازم پر تشدد کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد راحت فتح علی خان نے ایک ویڈیو بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ’یہ ایک طالب علم اور استاد کا ذاتی معاملہ ہے اور وہ میرے بیٹے جیسا ہے، اگر کوئی شاگرد کچھ اچھا کرتا ہے تو میں اس پر اپنی محبت کی بارش کرتا ہوں، اگر اس نے کچھ غلط کیا تو اسے سزا دی جائے گی۔اسی ویڈیو میں گلوکار کے ملازم نوید نے کہا کہ ’راحت صاحب میرے والد کی طرح ہیں وہ ہم سے بہت پیار کرتے ہیں۔ جس نے بھی اس ویڈیو کو پھیلایا وہ میرے استاد کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

Back to top button