اربن فلڈنگ کیا ہے اور اس سے بچائو کیسے ممکن ہے؟

پاکستان اس وقت موسلا دھار بارشوں کی لپیٹ میں ہے، سلسلہ وار بارشوں سے اب تک قیمتی جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے، حالیہ بارشوں سے پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے مختلف علاقے ایک بار پھر زیرِ آب آ گئے ہیں جس کے بعد سے ایک بار پھر شہر میں اربن فلڈنگ کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔
خیال رہے کہ اربن فلڈنگ اس صورتحال کو کہا جاتا ہے جب شہری علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہو جائے یعنی کسی شہر کے نکاسی آب اور ندی نالوں میں گنجائش سے زیادہ پانی آ جائے، شہروں میں یہ صورتحال اس وقت دیکھنے کو ملتی ہے جب شدید بارشوں کے نتیجے میں شہر کا نکاسیِ آب کا انفرا سٹرکچر مزید پانی کا بوجھ سہارنے میں ناکام ہو جائے، عام طور پر پانی کے نکاس کے لیے شہر کے مختلف علاقوں میں ’’ڈسپوذل سٹیشنز‘‘ بنائے جاتے ہیں، جو پمپس کے ذریعے جمع شدہ پانی کو قریبی ندی نالوں یا پھر دریاؤں میں پھینکتے ہیں لیکن جب ڈسپوزل سٹیشن مکمل طور پر کام نہیں کر رہے ہوتے یا پھر ان کی گنجائش سے زیادہ پانی آ جاتا ہے اور یہ معاملہ پاکستان میں صرف لاہور کی حد تک محدود نہیں بلکہ کراچی اور راولپنڈی جیسے بڑے شہر ماضی میں متعدد مرتبہ اربن فلڈنگ کا شکار ہو چکے ہیں۔
اربن فلڈنگ کی واحد وجہ معمول سے زیادہ بارش نہیں ہوتی بلکہ اس کی وجوہات میں انتظامی سطح پر لیے گئے فیصلے بھی کارفرما ہوتے ہیں جیسا کہ لاہور شہر میں حالیہ بارشوں کے دوران کئی انڈر پاس ایسے تھے جہاں کئی کئی فٹ بارشی پانی جمع ہو گیا جس کی وجہ شہر کے گرد موجود ڈسپوزل سٹیشنز کا مکمل طور پر کام نہ کرنا تھا، لاہور میں سول انتظامیہ کے ایک اعلیٰ افسر نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کے بیشتر شہروں کا یہ مسئلہ ہے کہ ان کے ڈسپوزل سٹیشنز اپنی مکمل صلاحیت کے مطابق کام نہیں کرتے ہیں یا پھر کچھ خراب ہوتے ہیں، مون سون سے پہلے ندی نالوں کی مکمل صفائی کا نہ ہونا یا پھر شدید بارش ہونے کی صورت میں انھیں بروقت پیچھے سے بند نہ کرنے جیسے مسائل بھی اربن فلڈنگ کی وجہ بن جاتے ہیں، اس بارے میں کمشنر لاہور محمد علی رندھاوا کا دعویٰ ہے کہ انتظامیہ نے نہر کی صفائی ایک سے زائد مرتبہ کروائی تھی، عمومی طور پر زیادہ بارش کے نتیجے میں کراچی میں بھی صورتحال کچھ زیادہ مختلف نہیں ہوتی۔
اس حوالے سے بی بی سی سے بات کرتے شہری منصوبہ بندی (اربن پلاننگ) کے ماہر عارف حسن نے ’ڈان‘ اخبار میں لکھے گئے اپنے ایک حالیہ کالم کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ہر سال کراچی میں بارش ہوتی ہے اور نتیجہ اربن فلڈنگ کی صورت میں نکلتا ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ بات اتنی سادہ نہیں اور اس کے پیچھے ایک پیچیدہ تاریخ ہے، جو اس شہر کے نکاسی آب کے نظام سے جڑی ہے،’بارش کے پانی کے جمع ہونے میں ایک بڑا ہاتھ اس شہر کے انفراسٹرکچر اور ڈیزائن کا ہے جو ہر علاقے میں مختلف ہے، جو پانی کو نکالنے کے بجائے اسے جمع کر دیتا ہے۔
تاہم ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اربن فلڈنگ کی بہت سے وجوہات میں سے ایک ہو سکتی ہے مگر پاکستان کے بڑے شہروں کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ بنیادی وجہ ہے، پاکستان کے شہروں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال کوئی نئی نہیں بلکہ کئی سال سے پاکستان کے بیشتر شہروں کو اس مسئلے کا سامنا ہے، انتظامیہ پاکستان کے زیادہ تر شہروں کا سسٹم اور انفرا سٹرکچر سے واقف ہے، اس لیے یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ پہلے سے ہی موسمی آفات سے ہونے والے نقصان سے بچنے کے لیے تیاری رکھیں۔
