ہیکرز واٹس ایپ سمیت سوشل میڈیا ڈیٹا کیسے چوری کرتے ہیں؟

سوشل میڈیا کے دور میں ڈیٹا چوری ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے، ہیکرز گرزتے وقت کے ساتھ جدید ٹولز کی مدد سے یہ کام کر رہے ہیں جس سے صارفین اکثر دھوکہ کھا جاتے ہیں جیسا کہ اشتہاروں کے ذریعے صارفین سے مخصوص سیٹنگز کی اجازت طلب کی جاتی ہے جس کے بعد ڈیٹا ہیکرز کی رسائی میں آ جاتا ہے۔آج کل انٹرنیٹ کا دور ہے اور ہر کوئی فیس بک، ٹوئٹر، واٹس ایپ اور دیگر بہت سی سوشل سائٹ استعمال کر رہا ہے، ایسے میں انٹرنیٹ صارفین کا اپنا ڈیٹا محفوظ رکھنا بھی ایک چیلینج بن چکا ہے کیوںکہ ان کا ڈیٹا ہیک ہونے کا خطرہ ہر وقت موجود رہتا ہے۔لوگوں کو لگتا ہے کہ ہیکرز وہ شخص ہوتا ہے جو کمپیوٹر پاسپورڈ، کریڈٹ کارڈز اور لوگوں کی ذاتی انفارمیشن چوری کر لیتا ہے، لیکن اب ہیکرز کا انداز بدل گیا ہے، ہیکرز اب صارفین کے سوشل اکاؤنٹس ہیک کر کے ان کی نجی تصاویر اور ویڈیو بھی چوری کر لیتے ہیں۔آج کل ہیکرز سوشل میڈٰیا اکاؤنٹس ہیک کرنے کے لیے مختلف طریقے استعمال کرتے ہیں، مثلا آپ کو مختلف قسم کی انعامی اسکیموں کا لالچ دیا جاتا ہے اور اس کے لیے فیس بک پر مختلف قسم کے اشتہار دیئے جاتے ہیں، آج کل مختلف واٹس ایپ گروپس میں بھی ایسی انعامی اسکیموں کی تشہیر کی جاتی ہے۔صارفین جب ان سیٹنگز کو اوکے کر دیتے ہیں تو صارفین کا سارا ڈیٹا ان ہیکرز کے پاس پہنچ جاتا ہے، اس کے علاوہ فیس بک پر آج کل ایسی ایپس زیر گردش ہیں جو آپ کو بتاتی ہیں کہ آپ بچپن میں کیسے تھے، آپ بڑھاپے میں کیسے لگ رہے ہوں گے، آپ کی شکل کس اداکار سے ملتی ہے، ان ایپ پر کلک کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے ہیکرز کو اپنے ڈیٹا تک رسائی کی اجازت دے دی ہے۔واٹس ایپ ڈیٹا عام طور پر ہیک نہیں ہوتا لیکن اب جدید دود میں نوسر باز بھی جدید ہو گئے ہیں اور شہریوں کے واٹس ایپ ہیک کر کے ان کو بلیک میل کرنے کا رواج چل پڑا ہے۔عالمی یوم یوگا کے موقع پر بھارت میں متعدد کیسز رپورٹ ہوئے کہ نوسر باز متاثرین کی رابطہ فہرست میں شامل لوگوں سے رابطہ کرتے ہیں اور ان سے ان کی طرف سے منعقد کی جانے والی یوگا کلاسز میں شامل ہونے کو کہتے ہیں، جس کے لیے ایک لنک بھیجا جاتا ہے اور وصول کنندہ سے لنک کو کلک کرنے کو کہا جاتا ہے جس کے بعد صارف کے روابط سے چھ ہندسوں کا کوڈ شیئر کرنے کو کہا جاتا ہے۔پولیس کے مطابق ایک بار لنک پر کلک کرنے اور او ٹی پی حاصل کرنے کے بعد ملزم دوسرے فون سے صارف کا واٹس ایپ نمبر استعمال کر سکتا ہے اور اس طرح صارفین اپنے واٹس ایپ اکاؤنٹ تک رسائی سے محروم ہو جاتے ہیں۔کئی کیسز میں ملزمان نے متاثرین کو کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے ان کے واٹس ایپ اکاؤنٹ تک رسائی واپس دینے کے لیے بھتہ بھی وصول کیا۔
