’’ارشاد انجم کی ڈش واشر سے کمپنی CEOبننے کی داستان‘‘

70 کی دہائی کے دوران پی سی ہوٹل لاہور میں ویٹر کی نوکری کرنے والے ارشاد بی انجم آج فلیٹز ہوٹل لاہور کے CEO ہیں۔’وی نیوز‘ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے ارشاد بی انجم نے بتایا کہ وہ پی سی ہوٹل کراچی میں بطور ویٹر 8 ماہ کام کرتے رہے اور اس کے بعد ان کو جرمنی جانے کا چانس مل گیا، ارشاد بی انجم نے کہا کہ میں جرمنی چلا گیا اور وہاں جا کر یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا اور تعلیم کو آگے بڑھایا، میں نے اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے نوکری کی تلاش شروع کی تو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیوں کہ مجھے جرمن زبان نہیں آتی تھی، اور بالآخر ایک ہوٹل میں برتن دھونے کی نوکری مل گئی۔انہوں نے بتایا کہ میں صبح کے وقت یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے جاتا تھا اور یونیورسٹی سے واپسی پر ہوٹل میں برتن دھوتا تھا۔ بطور ڈش واشر میں نے کچھ عرصہ کام کیا اور پھر اپنی ڈگری مکمل کر کے امریکا چلا گیا، وہاں بھی شروع میں مجھے ویٹر کی نوکری ملی، میں نے کافی عرصہ تک وہیں پر کام کیا، امریکا میں ایک فائدہ تھا کہ ٹپ اچھی مل جاتی تھی جس سے گزارا ہو جاتا تھا۔ارشاد بی انجم نے کہاکہ ویٹر کی نوکری کے بعد مجھے امریکا میں ہی ایک نئی جگہ نوکری مل گئی جو ہوٹل پر ہی تھی مگر یہ مینجمنٹ کے شعبہ میں تھی۔ پھر ایک دن میں ترقی کرکے ایک ہوٹل کا منیجر بن گیا اور یوں میرا ترقی کی طرف سفر ہوگیا۔انہوں نےکہاکہ میں نے ہوٹلنگ سے متعلق ڈپلومے بھی کیے ہیں۔ میں امریکا میں ایک ہوٹل کا ڈائریکٹر food and beverage لگ گیا۔ 1985 میں ایک اخبار میں میرے حوالے آرٹیکل چھپا جس کے بعد مجھے پرل کا نٹیننٹل (پی سی) ہوٹل سے دوبارہ جاب کی آفر ہوئی۔ میں جب پاکستان آتا تھا تو میں اپنی والدہ کو بتاتا تھا کہ میں ایک ہوٹل کا ڈائریکٹر ہوں تو ان سمیت سب ہی یہ سمجھتے تھے کہ ’ویٹر شیٹر‘ ہوگا۔ میرے والد نے کہا تم افسر ہوگے مگر جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا۔ یہ بات میرے دل میں بیٹھ گئی اور میں 1988 میں سب کچھ چھوڑ کر پاکستان آگیا۔جس ہوٹل پر میں 125 روپے ماہانہ کا ملازم تھا وہاں کا اسسٹنٹ منیجر بن گیا، ارشاد بی انجم اپنے ماضی کی داستان سناتے سناتے آبدیدہ ہو گئے، وہ بولے کہ پاکستان واپسی کے بعد میں نے پی سی ہوٹل کراچی میں بھی کام کیا، پھر مجھے اسسٹنٹ منیجر بنا کر پی سی ہوٹل لاہور بھیج دیا گیا۔ میں جب ہوٹل گیا تو مجھے وہی کمرہ دیا گیا جہاں میں نے گورے منیجر کو بطور ویٹر انٹرویو دیا تھا۔ارشاد بی انجم نے نم آنکھوں کے ساتھ بتایا کہ بطور ویٹر میں 125 روپے ماہانہ تنخواہ لیتا تھا، 10 گھنٹے کام کرتا تھا، کبھی کبھی 12 گھنٹے بھی کرنا پڑتا تھا لیکن اب میں اسی ہوٹل کا اسسٹنٹ منیجر بن گیا تھا، اس طرح ترقی ہوتی گئی اور کچھ عرصے بعد میں پی سی ہوٹل لاہور کا جنرل منیجر بن گیا ،مجھے رہائش کے لیے وہ ہی کمرہ مل گیا جہاں پرشیخ زاید بن سلطان 1973 میں ٹھہرے تھے جس روم میں سروس دی تھی اب وہ میری رہائش گاہ بن چکی تھی۔ارشاد بی انجم نے بتایا کہ 1973 میں لاہور میں اسلامک کانفرنس ہوئی تھی تو وہ بطور ویٹر پی سی ہوٹل میں تھے، شیخ زاید بن سلطان کمرہ نمبر 501 میں ٹھہرے ہوئے تھے، آج 18 سال بعد مجھے وہ کمرہ بطور جنرل منیجر رہنے کے لیے دیا گیا ہے۔ ’125 روپے ماہانہ تنخواہ سے لے کر لاکھوں روپے کمانا میرے لیے اعزاز کی بات تھی۔اپنے کام اور تجربے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ارشاد بی انجم کہنے لگے کہ مجھے اچھے سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ لاہور، گوجرانوالہ، فیصل آباد، گجرات سے آنے والے لوگ کھانا زیادہ کھاتے ہیں تو ان شہروں کی بکنگ ہوتے ہی شیف کو کہہ دیتا ہوں کہ تگڑے ہو جاؤ زیادہ کھانے والے آر ہے ہیں کھانا کم نہیں پڑنا چاہئے، ان کا کہنا تھا کہ میرے میں ایک ہنر ہے اور وہ یہ کہ میں جانتا ہوں کہ نکموں سے کام کیسے لینا ہے، اس لیے میں لوگوں سے اچھا کام کروا لیتا ہوں۔

Back to top button