ارشد شریف مخالف ٹوئیٹ پر مریم نواز شریف کی دھلائی

مریم نواز کینیا میں قتل ہونے والے سینئر صحافی ارشد شریف کے بارے میں ایک نامناسب ٹویٹ کرنے کے بعد شدید عوامی تنقید کی زد میں آ گئیں اور ان سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس ٹویٹ کو ڈیلیٹ کردیں۔ تاہم وہ ابھی تک اپنے موقف پر ڈٹی ہوئی ہیں اور ٹویٹ ڈیلیٹ کرنے کے لئے تیار نہیں۔ ٹوئٹر صارفین خصوصا ًصحافی برادری کی جانب سے مریم نواز کے بے حس ردعمل پر شدید غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
واقعہ کچھ یوں ہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک صارف نے ارشد شریف کی نیروبی ایئر پورٹ پر تابوت میں بند لاش کی تصویر لگاتے ہوئے لکھا کہ:
‘میں کہنا تو نہیں چاہتا تھا مگر عمرانی فتنے اور اس کے یوتھیوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ یہ اینکر کہتا تھا کہ نواز شریف نے اپنی مرحومہ ماں کو پارسل کر کے بھیجا ہے۔ ارشد شریف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس اینکر نے بہت سارے پروگرام کیے جن میں دوسروں کی بیماری اور موت کا مذاق اڑایا گیا۔ آج دیکھیں وہی وقت خود اس اینکر پر آ گیا۔ لیکن میں پھر بھی اس اینکر کی مغفرت کی دعا کروں گا۔ لیکن یہ مجھ سمیت سب کے لیے سبق ہے کہ کبھی کسی کی لاش پر سیاست نہ کرو کیونکہ وقت گھوم کر کسی پر بھی واپس آ سکتا ہے۔’
مریم نواز کو پتہ نہیں کیا سوجھی کہ موصوفہ نے اس ٹویٹ کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ڈالا کہ مجھے یہ ری ٹویٹ کرتے ہوئے اچھا تو نہیں لگ رہا لیکن بنی نوع انسان کے لیے اس میں ایک سبق ہے جو ہم سب کو سیکھنا چاہئے۔’ مریم نواز شریف کی اس ری ٹویٹ نے ٹوئٹر پر ایک طوفان برپا کر دیا ہے۔ انہیں ٹوئٹر پر بھاری تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ٹوئٹر صارفین جن میں عام لوگ بھی شامل ہیں اور صحافی برادری بھی، ان سب کی جانب سے مریم نواز شریف کے ردعمل پر شدید غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ابھی ارشد شریف کی تدفین بھی نہیں ہوئی اور مریم نواز ان کے اہل خانہ کے زخموں پر نمک چھڑک رہی ہیں۔ کئی لوگوں نے ان کی ٹویٹ کے ردعمل میں انہیں غلیظ القابات دیے اور انہیں ٹویٹ ڈیلیٹ کرنے کا کہا۔ کئی صارفین نے لکھا کہ ایک سیاسی رہنما کو بلند ظرف کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور کچھ نے یہ بھی لکھا کہ مریم نواز صاحبہ انسانیت کا جو درس دوسروں کو دے رہی ہیں وہی سبق خود بھی سیکھ لیں۔ ایک صارف نے لکھا کہ ‘انسانیت کو صرف ایک سبق سیکھنا چاہئے کہ کسی بھی انسان کو اس کے سیاسی نظریات کی بنیاد پر حکمران طبقہ اسے ملک سے بھگانے اور باہر بھاگ کر بھی مارنے سے باز رہے۔ ارشد شریف ہائپر نیشنلسٹ تھا لیکن آپ جیسا نہیں تھا۔ اللہ آپ کو ہدایت دے۔ جس کی مجھے امید ہرگز نہیں۔’
صحافی برادری کی جانب سے بھی مریم نواز کے اس ٹویٹ پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ بیشتر صحافیوں نے مریم نواز کے جواب کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ٹویٹ کو ڈیلیٹ کر دیں۔ عاصمہ شیرازی نے لکھا کہ یہ بالکل بھی خوش کن بات نہیں ہے، اس ٹویٹ کو ڈیلیٹ کر دیں۔انصار عباسی کا ردعمل تھا کہ یہ ٹویٹ غیر اخلاقی ہے اور اس کی ٹائمنگ بہت ہی بری ہے۔ ابسہ کومل نے لکھا کہ میں اس ٹویٹ کے جواب میں کم سے کم بھی کہوں تو یہ کہوں گی کہ یہ بیزار کن ہے۔اجمل جامی نے لکھا کہ ایک اندوہناک واقعے سے متعلق مریم نواز کا یہ ردعمل غیر انسانی ہے۔ انہوں نے لکھا کہ مریم نواز کا یہ جواب سنگ دلی پر مبنی ہے اور ناقابل یقین ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ جلد ہی ڈیلیٹ کر دیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی لکھا کہ براہ مہربانی ہم پر رحم کیجیے،معروف اینکر پرسن شاہزیب خانزادہ نے بھی مریم نواز کی ٹویٹ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایسا کرتے ہوئے شرم آنی چاہیے۔
ایک ٹوئٹر صارف یاسر شہباز نے مریم کی ٹویٹ کے جواب میں لکھا کہ انسانیت کے لیے سبق جو میں خود سیکھنے کو تیار نہیں ہوں۔کامران یوسف نے لکھا کہ یہ انتہا درجے کا غیر حساس اور قابل مذمت ردعمل ہے۔ اگرچہ کچھ بے وقوف لوگوں نے آپ کی والدہ کی بیماری اور موت سے متعلق بے حسی کا مظاہرہ کیا تھا، پھر بھی آپ کا یہ ٹویٹ نا انصافی پر مبنی ہے۔ صحافی مریم نواز نے اس ٹویٹ کو ڈیلیٹ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس ہولناک قتل کے واقعے پر سیاست کرنا بند کر دیں!
مہر تارڑ نے بھی مریم نواز سے اپیل کی کہ وہ ٹویٹ ڈیلیٹ کر دیں۔ انہوں نے لکھا کہ کروڑوں پاکستانی اس وقت تکلیف میں ہیں اور آپ کا یہ ٹویٹ دل توڑنے والا، مزید تکلیف پہنچانے والا اور نہایت بد ذائقہ کر دینے والا ہے۔ شفات علی نے بھی مریم نواز سے مطالبہ کیا کہ جلد از جلد یہ ٹویٹ ڈیلیٹ کر دی جائے۔ اس دوران کئی لوگوں نے ارشد شریف کی سال 2018 کی ٹویٹس سوشل میڈیا پر ڈالیں جن میں انہوں نے بیگم کلثوم نواز کی بیماری کے وقت ان کی صحت یابی کی دعا کی تھی۔ اسکے علاوہ ارشد شریف نے مریم نواز کی بیماری کے وقت بھی ان کی صحت یابی کی دعا کرتے ہوئے ایک ٹویٹ کی تھی جسے سوشل میڈیا پر شیئر کیا جا رہا ہے۔ تاہم مریم نواز ابھی تک اپنے موقف پر ڈٹی ہوئی ہیں اور انہوں نے اپنی ٹویٹ میں ڈیلیٹ نہیں کی۔
