منہ کالا کرنے کے باوجود تارڑ کو استعفیٰ کیوں دینا پڑا؟


اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں اس وقت یہ سوال زیر بحث ہے کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے ہاتھ ملا کر اور ان کی مرضی کے جونئیر ججز سپریم کورٹ بھجوا کر اپنا منہ کالا کرنے والے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کو استعفی کیوں دینا پڑا؟ 24 اکتوبر کو سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس میں پاکستانی قوم کے ساتھ دغا کرتے ہوئے عمرانڈو چیف جسٹس کے سامنے ڈھیر ہو جانے والے وزیر قانون نے اپنے عہدے سے مستعفی ہوتے ہوئے صرف اتنا ہی کہا کہ وہ ایسا ذاتی وجوہات کی بنا پر کر رہے ہیں۔ لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ کتنا ہی اچھا ہوتا اگر وہ اصولی موقف اپناتے ہوئے سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس سے پہلے ہی استعفیٰ دے دیتے اور اپنا کیریئر داغدار ہونے سے بچا لیتے۔ اعظم تارڑ کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کا حکومت کے ساتھ جونئیر ججز کو سپریم کورٹ میں ترقی دینے کے معاملے پر اصولی اختلاف تھا اس لیے انہوں نے استعفیٰ دے دیا۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ چیف جسٹس بندیال کے ساتھ حکومت کے ایما پر اعظم تارڑ نے ہی ڈیل کی اور اپنی اصولی موقف پر یوٹرن لیا جسکے نتیجے میں جونیئر ججوں کو سپریم کورٹ میں بھجوا دیا گیا۔

سپریم کورٹ بار کے صدر احسن بھون کے مطابق حکومت چاہتی تھی کہ چیف جسٹس کے پیش کردہ دو ناموں کے حق میں ووٹ کیا جائے جبکہ ذاتی طور پر اعظم نذیر تارڑ سینیارٹی کو نظر انداز کرنے کے خلاف ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ’عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں جو ہوا اس معاملے پر بھی اعظم نذیر تارڑ پر کچھ حلقوں کی جانب سے دباؤ تھا کہ وہ پریس کانفرنس کریں اور عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے لاتعلقی کا ظاہر کریں۔ اعظم نذیر ایسا کرنا نہیں چاہتے تھے اس لیے مستعفی ہو گئے۔
تاہم با خبر حلقے احسن بھون کے اس موقف کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہیں جس کا بنیادی مقصد اپنے دوست اعظم تارڑ کی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے تو تارڑ نے چیف جسٹس کے ساتھ حکومت کے ایما پر ڈیل کی اور پھر اپنے موقف پر یو ٹرن لیتے ہوئے اٹارنی جنرل سمیت بندیال کے نامزد کردہ ججوں کو سپریم کورٹ بھجوانے کے حق میں ووٹ دیا۔ اس کے بعد انہوں نے ایک ٹویٹ میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں فوج کے خلاف لگنے والے نعروں کی مذمت بھی کی حالانکہ وہ سب علی وزیر کی رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ لہذا احسن بھون کا یہ موقف درست دکھائی نہیں دیتا کہ اعظم تارڑ کا حکومت کے ساتھ کسی قسم کا کوئی اصولی اختلاف تھا۔

سپریم کورٹ کے سینئر وکیل فیصل چوہدری کا کہنا ہے کہ ’مسلم لیگ ن نے اعظم نذیر تارڑ کو استعمال کیا، اپنی مرضی کے جج لگوا لیے اور جب ان پر دباؤ آیا تو وہ اپنے وزیر کے ساتھ کھڑے نہیں ہو سکے۔‘ وائس چیئرمین پاکستان بار امجد شاہ کا کہنا ہے کہ اعظم نذیر تارڑ استعفے کا فیصلہ جونیئر ججز کو ووٹ دینے سے پہلے بھی کر سکتے تھے لیکن جس پارٹی نے انہیں وزیر بنایا ان کی پالیسی انہیں فالو کرنا تھی اس لیے انہوں نے تمام اصول بھلا دیے۔ امجد شاہ نے کہا کہ ’دو ججوں کی حمایت میں ووٹ دے کر اعظم نذیر تارڑ نے حکومت کا احسان چکا دیا لیکن عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں فوج کے خلاف لگنے والے نعروں کی وجہ سے انہیں گھر جانا پڑا۔

استعفیٰ منظر عام پر آنے سے کچھ دیر قبل سابق وفاقی وزیر قانون نے ایک ٹویٹ بھی کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں شرکا کی طرف سے ریاستی اداروں کے خلاف نعرے بازی پر انہیں دکھ اور افسوس ہوا ہے۔ جذباتی نعرہ بازی کرنے والے حکومتی اقدامات اور اداروں کی کوششوں اور قربانیوں کو بھی بھول گئے۔ ہم سب ایک مضبوط پاکستان کے خواہاں ہیں۔ لیکن اپنی اس ٹویٹ کے باوجود انھیں معافی نہ ملی اور استعفیٰ دینا پڑ گیا۔

ناقدین کہتے ہیں کہ اگر اعظم نذیر تارڑ واقعی کوئی باعزت انسان ہیں تو انہیں سینیٹ کی سیٹ سے بھی مستعفی ہو جانا چاہیے کیونکہ ججوں کی تعیناتی کے معاملے میں انہوں نے مکروہ ترین کردار ادا کیا حالانکہ وہ خود بھی ایک وکیل ہیں اور پاکستان بار کونسل کا نمائندہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ وزیر قانون نے اٹارنی جنرل کے ساتھ مل کر پچھلے اجلاس میں جسٹس فائز عیسیٰ کی طرح جسٹس بندیال کے تجویز کردہ پانچ جونیئر ججوں کو سپریم کورٹ بھجوانے کی مخالفت کی تھی۔ لیکن 24 اکتوبر کو اپنے اصولی موقف سے یو ٹرن لیتے ہوئے وزیر قانون اور اٹارنی جنرل عمرانڈو چیف جسٹس بندیال کے ساتھ مل گئے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ اعظم نذیر تارڑ نے بار کا نمائندہ ہونے کے ناطے پوری وکلاء برادری کو دھوکا دیا ہے اور وہ اب وکلاء برادری کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے۔

Back to top button