عمران نے ارشد شریف کی موت کو ٹارگٹ کلنگ قرار دے دیا


کینیا میں مارے جانے والے سینیر صحافی ارشد شریف کی اہلیہ جویریہ صدیق کے بعد اب عمران خان نے بھی اس واقعے کو قتل قرار دے دیا ہے۔ پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ مجھے پتہ چل چکا تھا کہ ارشد شریف کو مارنے کی سازش تیار کی جا چکی اسلئے میں نے اسے ملک چھوڑنے کا مشورہ دیا تھا۔ پہلے اس نے میری بات ماننے سے انکار کر دیا لیکن بعد میں وہ باہر چلا گیا، لیکن افسوس کہ ارشد کو کینیا میں قتل کر دیا گیا۔

پشاور میں وکلا کنویشن سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ارشد شریف کو نامعلوم نمبروں سے دھمکیاں ملیں کہ حکومت کی تبدیلی پر نہ بولو، سچ نہ کہو۔ اسکو ڈرانے کے لیے دھمکیاں دی گئیں، پھر مجھے اطلاع ملی کہ اسے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ عمران نے کہا کہ ارشد شریف کو اسکے گھر جا کر ڈرایا جاتا تھا، اس کے گھر کے باہر گاڑیاں کھڑی ہوتی تھیں اور اسے ہراساں کیا جاتا تھا تا کہ وہ سچ نہ بولے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اطلاع ملی تھی کہ جس طرح بند کمرے میں 4 لوگوں نے مجھے قتل کرنے کی سازش تیار کی ہے اسی طرح ارشد کو بھی مار دیا جائے گا لہذا میں نے ارشد کو بھی آگاہ کر دیا تھا۔ عمران کا کہنا تھا کہ ارشد شریف کی موت کو حادثہ نہ سمجھا جائے بلکہ یہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت قتل کی واردات ہے۔ آج اگر ارشد شریف مارا گیا ہے تو کل اسی طرح دوسرے صحافیوں کی باری بھی آئے گی۔ عمران خان نے کہا کہ جب سے اسلام آباد میں ایک ڈرٹی ہیری آیا ہے، اس طرح کے واقعات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ کبھی شہباز گل کو گرفتار کرکے ننگا کیا جاتا ہے اور کبھی اعظم سواتی کو حراست میں لے کر بے لباس کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پتا نہیں اس ڈرٹی ہیری کو لوگوں کو ننگا کرنے میں کیا مزہ آتا ہے۔

دوسری جانب سرکاری ذرائع نے عمران خان کی جانب سے سے ارشد شریف کے قتل کو ایک سازش قرار دینے کا الزام سختی سے مسترد کیا ہے۔ فوج نے بھی ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کے لیے حکومت کو خط لکھ دیا ہے۔ جنرل ہیڈ کوارٹرز کی جانب سے ارشد شریف کے قتل کی جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ جی ایچ کیو کے خط میں کمیشن بنانے کی استدعا کی گئی اور کہا گیا کہ قتل کا الزام اداروں پر لگانے والوں کے خلاف بھی سخت ترین کارروائی کی جائے۔ چنانچہ وزیر اعظم شہباز شریف نے سعودی عرب میں ہونے کے باوجود فوری طور پر قتل کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنا دیا ہے۔

دوسری جانب کینیا کے ایک معروف تحقیقاتی صحافی علیود کیبی نے کہا ہے کہ ارشد شریف کہ گاڑی کے راستے میں پتھر سے رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں، وہاں کوئی بیرئیر نہیں تھا اسلئے ان کی کار وہاں نہیں رکی اور آگے بڑھتی رہی، کیونکہ رات کا وقت تھا اور گہرا اندھیرا تھا۔ کینیا کے صحافی نے کہا کہ گاڑی پر لگنے والی گولیوں کی تعداد کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ گولی چلانے والوں کا ہدف ارشد شریف ہی تھے کیونکہ سب سے زیادہ گولیاں کار کی بائیں جانب ماری گئیں حالانکہ اگر کار کو روکنا مقصود ہوتا تو یا اس کے ٹائروں کو نشانہ بنایا جاتا یا پھر دائیں سائیڈ پر بیٹھے ہوئے ڈرائیور کو۔

کینیا کے اخبار دا سٹار سے وابستہ صحافی علییود کیبی نے بتایا ہے کہ پولیس رپورٹ کے مطابق ارشد شریف پر رات 10 بجے فائرنگ کی گئی۔ اس نے کہا کہ جب آپ اس منظر اور گولیوں کی تعداد کو دیکھیں تو ایسا لگتا جیسے بائیں جانب بیٹھا شخص یعنی ارشد ہی اصل ٹارگٹ تھا۔ ویسے بھی جب آپ کسی کار کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں تو بتائے بغیر گاڑی چلانے والے پر فائر نہیں کرتے، کیوں کہ کینیا میں قانون ہے کہ پولیس اپنے ہتھیاروں کا اس طرح استعمال نہیں کر سکتی۔ کینیا کے صحافی نے کہا کہ پولیس کو گولیاں چلانے کی ضرورت تب پیش آتی جب ارشد شریف کی گاڑی سے فائرنگ کی جاتی۔ لیکن ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا تھا۔ اس کے علاوہ کینیا کی پولیس کا موقف ہے کہ وہ ایک اغوا شدہ بچے کی تلاش کر رہی تھی حالانکہ وہ بچہ ارشد شریف پر فائرنگ کے واقعے سے پہلے ہی بازیاب ہو چکا تھا۔ ویسے بھی اگر پولیس کو یہ شک تھا کہ ارشد کی گاڑی میں اغوا ہونے والا بچہ موجود ہے تو پھر اس کار پر اتنی زیادہ فائرنگ کرنے کا کوئی جواز دکھائی نہیں دیتا۔ لہذا کینیا کے صحافی کے خیال میں ارشد شریف کی موت کوئی حادثہ نہیں بلکہ قتل ہے۔

Back to top button