جسٹس بندیال سے ڈیل کرنے پر حکومت کی دھلائی


حکومت کی جانب سے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے ساتھ ہاتھ ملانے کے بعد تین جونئیر ججوں کی سپریم کورٹ میں ترقی کے نتیجے میں اب عدالت عظمیٰ کے پندرہ میں سے نو ججوں کا تعلق پنجاب سے ہوگا جن میں موجودہ چیف جسٹس بھی شامل ہیں۔ شہباز حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں سنیارٹی اصول کے تحت ججز تعینات کرنے کے سابقہ اصولی موقف سے اچانک یوٹرن لینے کا فیصلہ اس وقت شدید عوامی تنقید کی زد میں ہے جس سے مستقبل کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو کمزور کرنے کی سازش کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے جن کا تعلق بلوچستان سے ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت نے جونئیر ججوں کی حمایت کر کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے اس موقف کی تائید کر دی کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے پچھلے اجلاس میں انکے نامزد کردہ ناموں کی مخالفت حکومت نے صرف پرویزالٰہی کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنانے کا بدلہ لینے کے لئے کی تھی۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور پاکستان بار کونسل کی جانب سے حکومتی یوٹرن کو پاکستانی عدالتی تاریخ کے لئے افسوسناک قرار دیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ سینئر اور قابل ججوں کو سپریم کورٹ میں ترقی دینے کی بجائے جونیئر اور نااہل ججوں کی تعیناتی کر کے شہباز حکومت نے ثابت کر دیا ہے کہ سابقہ اور موجودہ حکمرانوں میں کوئی فرق نہیں۔ انکا کہنا ہے کہ جسٹس بندیال کے ساتھ ہاتھ ملا کر نون لیگ نے سول سوسائٹی، صحافیوں اور سیاستدانوں کی برس ہا برس کی محنت اور قربانیوں کو زمین بوس کر کے رکھ دیا ہے۔

آئینی اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت نے اپنے ذاتی مفادات کی خاطر کالی بھیڑیں گھسا کر سپریم کورٹ کو آئین اور جمہوریت کی پاسداری کرنے والی عدالت بنانے کا موقع ضائع کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ اس وقت سپریم کورٹ میں جو کمبی نیشن تھا اس میں صرف پانچ جج ہم خیال تھے جو اسٹیبلشمنٹ کی لائن لے کر چل رہے تھے۔ باقی سات جج حضرات جسٹس قاضی فائز عیسی ٰکی قیادت میں جمہوریت اور آئین کے ساتھ کھڑے تھے، ان ججز نے اپنی آواز کو سپریم کورٹ تک ہی محدود نہیں رکھا تھا بلکہ مختلف فورمز سے عوام تک بھی پہنچایا تا کہ لوگوں کو پتہ چل سکے کہ سپریم کورٹ کے اندر ہو کیا رہا ہے۔ ایسا کرتے ہوئے ان ججز نے اپنا کیرئیر بھی داؤ پر لگا دیا اور اسٹیبلشمنٹ کی سازشوں کا بھی سامنا کیا۔ لیکن بندیال قبیلے سے تعلق رکھنے والے بے ضمیر ججوں کی تعیناتی نے ان کی ساری محنت پر پانی پھیر دیا ہے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ اس نئے سال کے آغاز پر چیف جسٹس بندیال نے جو تقریر کی تھی وہ کسی طور پر بھی چیف جسٹس کے شیان شان نہیں تھی، اس تقریر میں انہوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ انکے تجویز کردہ ججز کو اس لیے نہیں لگنے دے رہی کہ انہوں نے پرویز الہی کو وزیر اعلی پنجاب بنانے کا فیصلہ دیا تھا۔ تاہم جسٹس بندیال کے تجویز کردہ ناموں کی حمایت کر کے حکومت نے نہ صرف چیف جسٹس کے الزام کی توثیق کر دی ہے بلکہ اپنے اصولی موقف کا جنازہ نکال کر منہ بھی کالا کر لیا ہے۔

آئینی اور قانونی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے چیف جسٹس بندیال کے ساتھ ساتھ اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ کے لیے ایک خفیہ ڈیل کرتے ہوئے انتہائی شرمناک حرکت کی ہے جس کا خمیازہ پوری قوم بھگتے گی کیونکہ نئے ججز اگلے دس سے پندرہ سال تک سپریم کورٹ کا حصہ رہیں گے اور اسٹیبلشمنٹ کا ایجنڈا لے کر چلتے رہیں گے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت کو اتنا ہی سوچ لینا چاہیے تھا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے پچھلے اجلاس میں اس نے جن ناموں کی اصولی بنیاد پر مخالفت کی تھی، ان کی حمایت کسی صورت نہیں کی جا سکتی تھی۔ ناقدین سوال کرتے ہیں کہ اس شرم ناک حرکت کے بعد نواز لیگ کی قیادت کس منہ کے ساتھ ووٹ کو عزت دینے اور آئین کی پاسداری کرنے کے دعوے کرے گی؟

Back to top button