علی وزیر کے بعد منظور پشتین پر بھی بغاوت کا کیس

پشتون تحفظ موومنٹ کے رکن قومی اسمبلی علی وزیر کو فوج مخالف تقریر پرغداری کے الزام میں گرفتار کرنے کے بعد اب لاہور پولیس نے پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین کے خلاف دہشت گردی، بغاوت اور ریاستی اداروں کے خلاف اکسانے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ علی وزیر کی طرح منظور پشتین کو بھی جلد حراست میں لئے جانے کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ منظور پشتین کے خلاف بغاوت کا مقدمہ لاہور میں عاصمہ جہانگیر سیمینار میں کی جانے والی تقریر کی بنیاد پر درج کیا گیا ہے۔ نعیم مرزا نامی شہری کی مدعیت میں تھانہ سول لائنز لاہور میں درج کیس میں انسداد دہشت گردی ایکٹ سمیت کئی دفعات شامل ہیں۔ ایف آئی آر میں لکھا گیا ہے کہ منظور پشتین نے لاہور کے ایک ہوٹل میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں ’ریاستی جبر‘ کے موضوع پر تقریر کی۔ شکایت کنندہ کا دعویٰ ہے کہ وہ کانفرنس میں شرکت کے لیے ہوٹل میں تھے جہاں منظور پشتین نے ’اپنی تقریر کے دوران ریاستی حکام اور کمانڈروں کو بلاجواز تنقید کا نشانہ بنایا۔‘ ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ ’ریاست اور فوج کے خلاف بغاوت کریں۔‘
مقدمے کی ایف آئی آر کے مطابق منظور پشتین نے بغیر کسی جواز کے قومی سلامتی کے اداروں پر تنقید کی۔ اس کے علاوہ منظور پشتین کے ساتھیوں نے ہال میں فوج اور اداروں کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔ نعیم مرزا نے کہا کہ یہ تقریر فساد انگیزی کی طرف مائل کرتی ہے جس سے انہوں نے مملکت پاکستان کے وجود کو خطرے میں ڈال کر نسلی تعصب کوہوا دی۔
ایس ایس پی انویسٹی گیشن لاہور حسنین حیدر نے بتایا کہ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد فوری طور پر کیس کسی انویسٹی گیشن افسر کو مارک ہو جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس کیس کی تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ ’ایف آئی آر میں جو دفعات لگائی گئی ہیں ان کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم قانون کے مطابق اس کی تفتیش کریں گے۔‘ انہوں نے کہا کہ اگر منظور پشتین تفتیش کے دوران قصور وار پائے گئے اور ہمیں معلوم ہوا کہ منظور وہ سب کرنے کے مرتکب ہوئے جس کا ذکر ایف آئی آر میں کیا گیا ہے تو پھر انہیں قصور وار ٹھہراتے ہوئے ان کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے گا۔ لیکن اگر وہ دوران تفتیش قصور وار نہ پائے گئے تو انہیں مجرم نہیں ٹھہرایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس قانونی طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے انہیں شامل تفتیش کرنے کے لیے طلب کرے گی اور صرف انہیں ہی نہیں بلکہ تمام عینی شاہدین اور درخواست گزار کو بھی طلب کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ دو برس پہلے پشتون تحفظ موومنٹ کے رکن قومی اسمبلی علی وزیر کی جانب سے فوج کے سیاسی کردار کے خلاف تقریر پر بغاوت کا مقدمہ درج کیا گیا تھا اور وہ ضمانت ہو جانے کے باوجود رہا نہیں ہو پائے۔ پاکستان میں طاقتور اور کمزور کے لیے انصاف کے دوہرے معیار کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان روز منہ بھر کر فوج کو گالیاں دینے کے باوجود آزاد ہیں جب کہ پشتون تحفظ موومنٹ کے رکن قومی اسمبلی علی وزیر فوج پر تنقید کے جرم میں اپنے خلاف دائر تمام مقدمات میں ضمانت ہو جانے کے باوجود کراچی کی سینٹرل جیل میں قید ہیں۔ علی وزیر کے خلاف دائر چار مقدمات میں سے آخری مقدمے میں کراچی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے ان کی ضمانت 14 ستمبر کو منظور کرلی تھی۔ علی وزیر کے وکیل قادر خان ایڈووکیٹ کے مطابق کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ تمام کیسوں میں ضمانت ملنے کے باجود ان کو کیوں رہا نہیں کیا جا رہا۔ انکے مطابق ہمیں یہ بتایا گیا تھا کہ علی وزیر کے خلاف میران شاہ تھانے میں دائر ایک کیس پر وزیرستان کی عدالت نے گرفتاری وارنٹ جاری کیے ہیں اس لیے ان کو کراچی کی جیل سے رہائی کے بعد میران شاہ پولیس کے حوالے کیا جائے گا۔ ہم نے وزیرستان کی عدالت سے معلوم کیا تو انہوں نے انکار کر دیا کہ ان کی جانب سے علی وزیر کی گرفتاری کا کوئی وارنٹ جاری نہیں ہوا ہے۔
علی وزیر کے خلاف کراچی میں دائر چار مقدمات میں سے ایک کیس میں سپریم کورٹ، دوسرے کیس میں سندھ ہائی کورٹ، تیسرے کیس میں ٹرائل کورٹ اور چوتھے اور آخری کیس میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے 14 ستمبر کو ان کی ضمانت منظور کر لی تھی۔ تب علی وزیر پیٹ کی تکلیف کے باعث کراچی جناح ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ صحت یاب ہونے کے بعد انہیں دوبارہ کراچی کی سینٹرل جیل منتقل کیا گیا جہاں وہ تاحال موجود ہیں۔
پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین نے اپنے بیان میں تمام کیسوں میں ضمانت کے باوجود علی وزیر کی رہائی نہ ہونے کو ’ظلم کی انتہا‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’علی وزیر سندھ حکومت کے ماتحت کراچی جیل میں مکمل حبسِ بے جا میں بند ہے۔‘ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں منظور پشتین نے لکھا: ’علی وزیر پر سندھ میں جتنے بھی کیسز تھے، سب میں ضمانت ہو گئی، ضمانتی مچلکے جمع کیے اور رہائی کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے ہونے کے باوجود علی کو رِہا نہیں کیا گیا۔ عدالتی ضمانتوں کے باوجود علی وزیر اس وقت سندھ حکومت کے ماتحت کراچی جیل میں مکمل حبسِ بے جا میں بند ہیں۔ لیکن اب اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ منظور پشتین کو بھی جلد ہی گرفتار کر لیا جائے گا۔
