ارشد شریف کے قتل کا الزام ریاستی اداروں پر کیوں لگا؟


معروف صحافی حامد میر نے کہا ہے کہ ارشد شریف پہلی مرتبہ قتل نہیں ہوا۔ ارشد پہلے بھی کئی بار قتل ہو چکا ہے لہذا سوال یہ ہے کہ ارشد شریف کا بار بار قتل ہونے کے باوجود اسکے قاتل گرفتار کیوں نہیں ہوتے؟ انکا کہنا ہے کہ پاکستان دنیا کے ان دس ممالک میں شمار ہوتا ہے جو صحافیوں کیلئے انتہائی خطرناک سمجھے جاتے ہیں۔ اس ملک میں صحافیوں کو گالی دینا اور گولی مارنا بہت آسان ہے۔ یہ دنیا کا واحد ملک ہے جہاں بڑے بڑے سیاست دان صحافیوں کا نام لیکر انہیں لفافہ قرار دیتے ہیں اور کوئی ثبوت بھی پیش کرنا گوارا نہیں کرتے۔

اپنے تازہ تجزیے میں حامد میر کہتے ہیں کہ پاکستان میں طاقتور لوگوں کی مرضی کے خلاف سچ لکھنے والے صحافیوں کو صرف طاقتوروں سے نہیں بلکہ ان کے پروردہ صحافیوں سے بھی خطرہ رہتا ہے جنہوں نے اہل صحافت کے اتحاد کو پارہ پارہ کرکے آزادی صحافت کے دشمنوں کو اتنا بے باک کر دیا ہے کہ وہ جب چاہیں کسی صحافی کو غدار قرار دے ڈالتے ہیں اور جب چاہیں کسی صحافی کو گولی مار دیتے ہیں۔ آزادی صحافت کیلئے خطرات میں اضافے کی ایک وجہ مختلف صحافتی تنظیموں کی وہ مفاد پرست قیادت بھی ہے جو کارکن صحافیوں کے مفادات کی بجائے مختلف ریاستی اداروں اور میڈیا مالکان کے مفادات کا تحفظ کرتی ہے۔ صحافتی تنظیمیں کئی ٹکڑوں میں بٹی ہوئی ہیں۔ جب کوئی ارشد شریف قتل ہوتا ہے تو یہ تنظیمیں چند نمائشی بیانات سے آگے نہیں بڑھتیں۔ پچھلے دس سال میں قتل ہونے والے صحافیوں کے مقدمات اٹھا کر دیکھ لیں کسی ایک ارشد شریف کے قاتل کو سزا نہیں ملی۔

حامد میر کہتے ہیں کہ آج کل یوٹیوب سے ڈالرز کمانے والوں کیلئے سید سلیم شہزاد کا نام اجنبی ہو گا جو کہ اسلام آباد میں ایشیا ٹائمز کے بیورو چیف تھے۔ سلیم شہزاد نے 27 مئی 2011ء کو ایشیا ٹائمز میں لکھا کہ مہران نیول بیس کراچی پر ہونے والے دہشت گرد حملے میں القاعدہ ملوث تھی اور نیول انٹیلی جنس کو کچھ عرصہ قبل نیوی میں القاعدہ کے ہمدردوں کی موجودگی کا پتہ چل چکا تھا۔ یہ رپورٹ شائع ہونے کے صرف تین دن بعد 30 مئی 2011ء کو سلیم شہزاد کو اسلام آباد سے اغوا کر لیا گیا اور پھر انکی تشدد زدہ لاش منڈی بہاؤالدین کے قریب ایک نہر سے ملی۔ سلیم شہزاد کے قتل پر پاکستانی میڈیا نے اتنا شور مچایا کہ طاقت کے تمام مراکز میں کھلبلی مچ گئی۔ مجھے یاد ہے کہ کئی دن تک ہم بہت سے اینکر پارلیمنٹ ہائوس کےسامنے ایک لائن میں اپنے کیمرے کھڑے کر دیتے۔ بیک وقت مختلف ٹی وی چینلز سلیم شہزاد کے قتل کے خلاف پروگرام کرتے اور وقفے کے دوران اپنے مہمانوں کا تبادلہ بھی کر لیتے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے ان دنوں جیو نیوز کا بائیکاٹ کر رکھا تھا اور اگر پیپلز پارٹی کا کوئی رہنما جیو نیوز پر آکر سلیم شہزاد کے قتل کی مذمت کرتا تو پارٹی قیادت باقاعدہ ناراضی کا اظہار کرتی۔

حامد میر بتاتے ہیں کہ ارشد شریف ان دنوں دنیا نیوز سے وابستہ تھے اور سلیم شہزاد کے قتل کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں باقاعدگی سے شرکت کرتےتھے۔ سلیم شہزاد کے قتل کی تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ کے جج ثاقب نثار کی سربراہی میں ایک کمیشن بنا جسکے سامنے مجھ سمیت کئی صحافی پیش ہوئے۔ لیکن جب کمیشن کی رپورٹ آئی تو اس میں آئیں بائیں شائیں کے سوا کچھ نہ تھا۔ ہمیں رپورٹ پر مایوسی ہوئی تو ہم نے کمیشن پر تنقید شروع کر دی۔ اس دوران چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور ایک کاروباری شخصیت ملک ریاض کے درمیان چپقلش نے سیاسی رنگ اختیار کر لیا۔عمران خان جیو نیوز پر کیپٹل ٹاک میں آئے اور چیف جسٹس کی حمایت کا ا علان کر دیا۔ انہی دنوں 2012ء میں سوشل میڈیا پر بڑے منظم انداز میں ایک جھوٹ پھیلایا گیا ،جس میں کہا گیا کہ مبشر لقمان، ڈاکٹر شاہد مسعود، نجم سیٹھی، کامران خان، حسن نثار، مہر بخاری، ارشد شریف ،مظہر عباس، نصرت جاوید، سہیل وڑائچ، آفتاب اقبال، عاصمہ شیرازی، ثنا بچہ، جاوید چودھری، منیب فاروق، مشتاق منہاس اور حامد میر نے ملک ریاض سے نقد رقم اور پلاٹ لئے ہیں۔ اس سلسلے میں کچھ جعلی بنک اکائونٹ نمبر بھی دکھائے گئے، اس فہرست میں کسی ٹی وی چینل اور اخبار کے مالک کا نام نہیں تھا۔ اس میں زیادہ تر وہ صحافی تھے جنہوں نےسلیم شہزاد کے قتل کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی تھی ۔کراچی کے ایک انگریزی جریدے ’’نیوز لائن‘‘ نے اس جھوٹ کو اپنی ٹائٹل سٹوری بنا دیا۔ چنانچہ میں نے مظہر عباس کے ساتھ مشورہ کیا اور ایک درخواست تیار کی جس میں اپنے سمیت فہرست میں موجود تمام صحافیوں کے احتساب کا مطالبہ کیا۔ ابصار عالم نے بھی ایک درخواست تیار کر رکھی تھی جو میڈیا مالکان کے احتساب کے متعلق تھی ،ہم نے دونوں درخواستوں کو یکجا کیا اور سپریم کورٹ میں مشترکہ درخواست دائر کر دی۔ سماعت شروع ہوئی تو مظہر عباس، عاصمہ شیرازی اور ارشد شریف فریق بن گئے۔ اس درخواست کے نتیجے میں ہم نے وفاقی وزارت اطلاعات سمیت مختلف محکموں کے سیکرٹ فنڈز بند کرائے جہاں سے صحافیوں کو رشوت دی جاتی تھی، پیمرا کا ضابطہ اخلاق بھی اس درخواست کے نتیجے میں بنایا گیا اور ملک ریاض نے عدالت کو تحریری طور پر بتایا کہ انہوں نے کسی صحافی کو نقد رقم یا پلاٹ نہیں دیا، کوئی ادارہ اور فرد ہمارے خلاف کہیں سے جھوٹے الزام کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہ کر سکا۔

حامد میر بتاتے ہیں کہ اپریل 2014 میں مجھ پر کراچی میں قاتلانہ حملہ ہوا تو سپریم کورٹ کے تین ججوں کی سربراہی میں انکوائری کمیشن تشکیل دیا گیا جس نے تین ہفتوں میں رپورٹ پیش کرنی تھی۔ اس کمیشن کے سامنے مجھے ایک دفعہ اسٹریچر اور ایک دفعہ وہیل چیئر پر پیش کیا گیا۔ دونوں مرتبہ میرے زخموں کے ٹانکے ٹوٹ گئے۔ کمیشن کے سربراہ میرے نامزد کردہ ملزموں سے پوچھ گچھ کرنے کی بجائے مجھے پوچھتے کہ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ آپ کے ادارے کے مالک آپ پر حملے کے ذمہ دار ہیں؟ اس کمیشن کی رپورٹ اب تک سامنے نہیں آ پائی۔ارشد شریف وہ واحد صحافی تھا جس نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی کہ حامد میر پر حملے کی انکوائری رپورٹ پیش کی جائے۔ اس درخواست پر بھی لمبا عرصہ تاریخیں پڑتی رہیں۔ ارشد میرا براہ راست دوست نہیں تھا البتہ کچھ مشترکہ دوستوں کے ہاں اس سے ملاقات ہوتی تو میں پوچھتا کہ تمہیں میرے متعلق انکوائری رپورٹ میں اتنی دلچسپی کیوں ہے؟ وہ صرف مسکرا دیتا۔ وہ اکثر دوستوں کی محفلوں میں خاموش بیٹھا رہتا اور عامر متین مذاق میں کہتا کہ یہ پیسے لئے بغیر نہیں بولتا ۔

حامد میر بتاتے ہیں کہ 2017 میں نون لیگ کی حکومت نے ارشد شریف پر ایک ایف آئی آر درج کرائی۔ میں صحافیوں کا ایک وفد لیکر انٹیلی جنس بیورو کے سربراہ آفتاب سلطان سے ملا اور ایف آئی آر ختم کرنے کا مطالبہ کیا جس پر ارشد کے کئی دشمن میرے دشمن بن گئے۔ افسوس کہ 23 اکتوبر 2022ء کو ارشد شریف کو کینیا میں قتل کر دیا گیا جس کی انکوائری کیلئے حکومت نے ایک ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں کمیشن بنایا ہے جسے مرحوم کی والدہ نے مسترد کر دیا ہے۔ کچھ لوگ سوال پوچھ رہے ہیں کہ بغیر ثبوت کے ارشد شریف کے قتل کا الزام ریاستی اداروں پر کیوں لگایا جاتا ہے؟ وجہ یہ ہے کہ جب عمران خان وزیر اعظم تھے تو ایک صحافی ساجد حسین کو سویڈن اور بلوچ سیاسی کارکن کریمہ بلوچ کو کینیڈا میں پراسرار انداز میں قتل کیا گیا، کچھ ماہ قبل برطانوی پولیس نے ایک شخص گوہر خان کو گرفتار کیا جسے ہالینڈ میں احمد وقاص گورائیہ کو قتل کرنے کیلئے ایک لاکھ پائونڈ دیئے گئے۔ لہٰذا ارشد کے قتل کی انکوائری ایسے کمیشن سے کرائی جائے جس پر اس کے خاندان کو اعتماد ہو ورنہ افواہوں اور الزامات کا سلسلہ رکنے والا نہیں۔ اس مرتبہ ارشد کو انصاف نہ ملا تو آئندہ کسی پاکستانی صحافی کو انصاف نہیں ملے گا اور ارشد شریف بار بار قتل ہوتا رہے گا۔

Back to top button