وزیرآباد میں عمران اپنے کنٹینر پرفائرنگ سے زخمی

وزیر آباد میں لانگ مارچ کے قافلے پر فائرنگ کے نتیجے میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سیدھی ٹانگ پر گولی لگنے سے زخمی ہو گئے ہیں جبکہ ایک شخص ہلاک ہو گیا ہے۔ ابتدائی پولیس تحقیقات میں فائرنگ کا واقعہ دہشت گردی نہیں بلکہ غلطی سے فائرنگ کا معاملہ قرار دیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق گولی چلانے والے کا نام محمد نوید ولد محمد بشیر بتایا گیا تھا۔

پہلے بتایا گیا کہ فائرنگ کے الزام میں گرفتار ہونے والا شخص کراچی سے پی ٹی آئی کے ایم این اے عالمگیر خان کا سکیورٹی گارڈ ہے۔ تاہم بعد ازاں پولیس حراست میں موجود حملہ آور کا ویڈیو بیان جاری ہوا تو صورت حال بدل گئی۔ حملہ آور کا تعلق گوجرانوالہ سے بتایا جاتا ہے اور اس کا یہ دعویٰ ہے کہ اس نے عمران خان کو مارنے کی کوشش کی کیونکہ وہ قوم کو گمراہ کر رہا تھا۔ حملہ آور کا کہنا ہے کہ وہ اکیلا تھا اور اپنے موٹر سائیکل پر حملے کے مقام پر پہنچا تھا جو اس نے اپنے ماموں کی دکان پر کھڑی کی اور پھر کنٹینر کی جانب چل پڑا۔ اس نے کہا کہ ایک جانب اذان ہو رہی تھی اور دوسری جانب عمران کے کنٹینر پر میوزک لگا ہوا تھا لہذا میں نے نیچے سے سیدھی فائرنگ کردی۔ عمران خان کو علاج کے لیے شوکت خانم ہسپتال لاہور منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کا آپریشن جاری ہے۔
واقعہ کی تفصیلات کے مطابق وزیر آباد میں اولڈ کچہری چوک پر لانگ مارچ میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان فائرنگ سے زخمی ہوگئے،ایک شخص جاں بحق اور 9 دیگرافراد زخمی ہوئے۔
پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کا مارچ ایک سڑک سے گزر رہا تھا کہ گلی سے ایک شخص نکلا اور کنٹینر کے قریب آکر فائرنگ کردی۔ موقع پر موجود پی ٹی آئی کے کارکنوں نے ملزم کو پکڑ کر شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے حملہ آور کو گرفتار کرکے اسلحہ قبضے میں لے لیا ہے۔
نامعلوم شخص کنٹینر کے نیچے تھا جس نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں بھگدڑ مچ گئی ۔ فائرنگ سے 10افراد زخمی اور ایک شخص جاں بحق ہوگیا، جس کی شناخت معظم گوندل کے نام سے ہوئی جس کا تعلق بھروکی چیمہ سے تھا۔ تمام زخمیوں کو اسپتال منتقل کرکے طبی امداد فراہم کی گئی جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔

ملزم نے عمران خان کا نشانہ لیکر پورا برسٹ فائر کیا۔ حملہ آور کو دیکھ کو پی ٹی آئی کارکن نے پستول پر ہاتھ مارا جس سے اس کا رخ بدل گیا اور کئی لوگ جسم کے نچلے حصوں پر گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے۔
سیکیورٹی اہلکاروں نے عمران خان کو کنٹینر کے اندر فورا نیچے محفوظ جگہ پر منتقل کیا۔ کنٹینر سے بھی اعلان کیا گیا کہ عمران خان کی ٹانگ میں گولی لگی ہے۔ جس کے بعد سیکورٹی فورسز نے عمران خان کو کنٹینر سے نکال کر فورآ بلٹ پروف گاڑی میں نامعلوم مقام پر طبی امداد کے لیے منتقل کر دیا ہے۔
پولیس کے مطابق گوجرانوالہ میں اللہ والا چوک میں پی ٹی آئی کےاستقبالیہ کیمپ میں فائرنگ کی گئی ہے،فائرنگ کے وقت عمران خان کا کنٹینر بھی اللہ والا چوک میں موجود تھا تاہم چیئرمین پی ٹی آئی فائرنگ کے نتیجے میں محفوظ رہے۔
فائرنگ کے وقت علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور بھگدڑ مچ گئی جب کہ موقع پر موجود سکیورٹی اہلکاروں نے حملہ آور کو فوری طور پر حراست میں لے لیا۔
شوکت خانم اسپتال لاہور کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر فیصل سلطان نے بتایا کہ ڈاکٹرز کا بورڈ عمراں خان کا علاج کررہا ہے ، گولی عمران خان کے دائیں پاؤں کو چھو کر گزری، ایکسرے میں گولی کے کچھ حصے نظر آرہے ہیں، عمران خان کو مکمل علاج کے بعد ڈسچارج کیا جائے گا۔
عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی زمان پارک سے خانم اسپتال پہنچ گئیں، سابق خاتون اول بشریٰ بی بی نے سی ای او شوکت خانم سے عمران خان کی خیریت دریافت کی۔ بعد ازاں وہ سخت سیکیورٹی میں شوکت خانم اسپتال پہنچیں۔

مقتول معظم گوندل کے ماموں نے بتایا کہ وہ دو ماہ کی چھٹیوں پر بیرونِ ملک سے پاکستان آیا تھا اور وہ تین بچوں کا والد تھا.
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے گوجرانوالہ میں فائرنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے واقعےکی فوری رپورٹ طلب کرلی ہے۔ انہوں نے وزیر داخلہ کو آئی جی پولیس اور چیف سیکرٹری پنجاب سےفوری رپورٹ طلب کرنےکی ہدایت کی ہے۔
شہبا زشریف کا کہنا تھا وفاقی حکومت سکیورٹی اور تفتیش کے لیے پنجاب حکومت کی بھرپور مدد کرےگی، تشدد کی ہمارے ملک کی سیاست میں کوئی جگہ نہیں، عمران خان پر فائرنگ کے واقعے کی مذمت کرتا ہوں،عمران خان پر فائرنگ کے واقعےکے بعد وزیراعظم نے اپنی پریس کانفرنس بھی منسوخ کردی ہے۔
صدر عارف علوی نے ٹویٹر پر لکھا کہ عمران خان پر قاتلانہ حملے کے بعد میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ پی ٹی آئی چیئر مین محفوظ ہیں لیکن ان کی ٹانگ میں چند گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے ہیں اور امید ہے ان کی حالت تشویشناک نہیں ہے، یہ حملہ افسوسناک، تشویشناک، ہے۔ اللہ ان کو اور تمام زخمیوں کو صحت عطا فرمائے۔
اسی طرح وزیراعلی پنجاب چودھری پرویزالٰہی نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس سے رپورٹ طلب کرلی۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ کی تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کی جائے۔
چوہدری پرویز الٰہی نے کہا کہ فائرنگ کا واقعہ ناقابل برداشت ہے اور اللہ تعالٰی کا شکر ہے کہ عمران خان خیریت سے ہیں۔
واقعے پر پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز ( آئی ایس پی آر) سےردعمل میں کہا گیا کہ گوجرانوالہ میں لانگ مارچ کے قریب فائرنگ کا واقعہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جلد صحتیابی کیلئے دعا گو ہیں، فائرنگ میں جاں بحق شخص اور زخمیوں کیلئے دعا گو ہیں، واقعے میں عمران خان سمیت تمام زخمی افراد کی جلد صحتیابی کیلئے دعاگو ہیں۔
سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان پر حملے کی مذمت کی ہے۔ ٹوئٹر پر ایک بیان میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں عمران خان اور ان کے ساتھیوں پر فائرنگ کی مذمت کرتا ہوں اور زخمیوں کی صحت یابی کے لیے دعا گو ہوں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹرپر لیگی نائب صدر مریم نواز نے لکھا کہ عمران خان پر فائرنگ کی مذمت کرتی ہوں اور ان سمیت تمام زخمیوں کی صحت کے لیے اللّہ تعالی سے دعاگو ہوں۔
وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ عمران خان پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ میں چیئرمین پی ٹی آئی کی جلد صحتیابی کے لئے دعا گو ہوں۔
سابق صدر آصف علی زرداری نے بھی عمران خان کے جلوس پر فائرنگ کی مذمت کی ہے اور عمران خان اور دیگر کی جلد صحتیابی کیلئے دعا کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعہ کی مکمل تحقیقات کرائی جائیں۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام میں احسن اقبال نے لکھا کہ اللہ کا شکر ہے عمران نیازی محفوظ ہیں، سیاست میں تشدد کی کوئی گنجائش نہیں۔ میں عمران نیازی کے کنٹینر پر وزیر آباد میں فائرنگ کے واقعے کی شدید مذمت کرتا ہوں اور حکومت پنجاب کو تجویز دی انہیں سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینا چاہیے۔
جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان پر حملے کو انتہائی قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ گولی اور گالی کی سیاست مسترد کرتے ہیں۔
