فوج کے بعد عدلیہ بھی غیر آئینی رول پر معافی مانگے


معروف صحافی اور تجزیہ کار حماد غزنوی نے کہا ہے کہ پاکستان کے بیشتر مسائل کی جڑ فوج اور عدلیہ کی جانب سے آئینی بے راہ روی کا راستہ اپنانا یا آئین میں متعین اپنی راہ سے بھٹک جانا ہے۔ لیکن اچھی بات یہ ہے کہ فوج کے ادارے نے باقاعدہ ایک پریس کانفرنس میں اپنی یہ غلطی تسلیم کرتے ہوئے آئندہ کے لئے توبہ کا اعلان کیا ہے۔ ایسے میں اگر ڈی جی آئی ایس آئی جیسی ایک پریس کانفرنس عدلیہ کے نمائندے بھی کر دیں تو سونے پر سہاگہ ہو جائے اور پاکستان ہمیشہ کے لئے سیدھی راہ پر آ جائے۔

روزنامہ جنگ کے لئے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں حماد غزنوی کہتے ہیں کہ آنکھ کی پُتلی پر کوئی عکس ٹھہر نہیں پاتا، منظر بگٹُٹ بھاگ رہا ہے، جیسے ہم تیز رفتار ریل سے باہر جھانک رہے ہوں، سپہ سالار کی رخصتی چند دن کی دوری پر ہے، لیکن ان کے جانشین کا نام ابھی تک ایک سر بستہ راز ہے، اس دوران عمران خان کا نام نہاد لانگ مارچ لڑکھڑاتا ہوا آگے بڑھ رہا ہے، علی امین گنڈاپور اسلحے سمیت اسلام آباد کی دہلیز پر آ بیٹھے ہیں، دن کو ٹرک پر چڑھنے اور ایک آدھ کاش گرا کر شام کو گھر چلے جانے والے انقلابی نے صدر عارف علوی کو حکومت سے مذاکرات کا اختیار دے دیا ہے، لیکن حکومت نے خونی مارچ لیکر چلنے والے سے مذاکرات سے انکار کر دیا ہے، سپریم کورٹ میں ایک مرتبہ پھر جونیئر جج لگائے جانے کے بعد چیف جسٹس بندیال نے عمران کو 25 مئی کے پر تشدد واقعات پر توہین عدالت کا نوٹس جاری کرنے کا عندیہ بھی دے دیا ہے، ارشد شریف کا معاملہ اب پیچھے جا چکا ہے، رپورٹر صدف نعیم کنٹینر کے نیچے آ کر کچلی گئی اور ان کے لواحقین نے ’بہ وجوہ‘ پرچہ درج کروانے سے انکار کر دیا، پنجاب اینٹی کرپشن نے دوست مزاری کو گرفتار کر لیا لیکن خاتون ول کی دولت فرح گوگی کے خلاف کیس ختم کر دیا، ان خبروں کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے جو چل رہا ہے۔ آنکھ کی پُتلی پر کوئی عکس ٹھہر نہیں پاتا لہٰذا کئی منظر ایسے بھی ہوں گے جو نظر انداز ہو گئے ہوں گے۔

حماد غزنوی ڈی جی آئی ایس آئی کی حالیہ پریس کانفرنس کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم نے میڈیا کے سامنے آنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی رونمائی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جھوٹ دندناتا پھر رہا ہے اور اسے پٹہ ڈالنا مقصود ہے، اگلی بات تو انہوں نے ایسی کی کہ شجرِ جاں چہچہا اٹھا، انہوں نے فرمایا کہ فوج نے خود کو اپنے آئینی کردار تک محدود کرنے کا فیصلہ کر لیا ہےاور یہ کسی فردِ واحد کا فیصلہ نہیں ہے بلکہ ادارے کا متفقہ فیصلہ ہے، وہ کچھ اور بھی فرماتے رہے لیکن ہم سن نہیں سکے، کہ ان کے اسی فقرے کی باز گشت ہمارے کانوں میں موسیقی گھولتی رہی، اور دل سے بے اختیار پاک فوج زندہ باد کے نعرے بلند ہوتے رہے۔ اس ضمن میں چند عاقبت نا اندیش دوستوں کی نکتہ چینی سن کر دکھ ہوا، جو کہتے ہیں کہ جنرل باجوہ کے اقرار کا معنی تو یہ ہوا کہ فوج نے پچھلے 75 سال آئینی دائرے سے باہر گزارے، ادارے کو اس پر خفت کا اظہار کرنا چاہیے تھا، قوم سے معذرت کرنا چاہیے تھی۔ لیکن ہمارے نزدیک یہ فروعی باتیں ہیں، یہ جلد بازی ہے، یہ تبصرے غیر ضروری ہیں، یہ ’واہ واہ‘ کا وقت ہے، یہ پیچھے نہیں بلکہ آگے دیکھنے کا وقت ہے، یہ وقتِ دعا ہے، یا اللہ، وطن کے ان سجیلے جوانوں کو اپنے عزم میں استقامت عطا فرما، آمین۔

حماد سوال کرتے ہیں کہ اپنے بھائیوں کو ان کی خطائیں یاد کروا کر کون شرمندہ کرتا ہے۔ ویسے بھی زبانی معافی تلافی کا کچھ مطلب نہیں ہوتا، ماضی کی کوتاہیوں کا ازالہ تو مسلسل عمل سے ہی کیا جا سکتا ہے۔ ڈی جی آئی ایس آئی نے یہ بھی فرمایا کہ وہ پروجیکٹ عمران پر پھر کبھی ’’سیر حاصل‘‘ گفتگو فرمائیں گے، ہمارے خیال میں تو اس کی بھی ضرورت نہیں، بلا شبہ پروجیکٹ عمران اسٹیبلشمنٹ کا ہی منصوبہ تھا، مگر صدقِ دل سے توبہ کی جائے تو گناہِ کبیرہ بھی معاف ہو جاتے ہیں، اور پھر پروجیکٹ عمران ایسا کوئی خفیہ مشن تو تھا نہیں کہ اس پر مزید ’سیر حاصل‘‘ بحث کی جائے، عمران کو اقتدارکی مسند پر ایک برہنہ سازش کےذریعے بٹھایا گیا تھا، یہ کوئی راز تو نہیں ہے، جسٹس شوکت صدیقی نے سارا پروجیکٹ بے لباس کر تو دیا تھا، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیض آباد دھرنا کیس میں گناہ گاروں کو ننگا کر تو دیا تھا، ڈی جی آئی ایس پی آر کی ’وتعزو من تشا‘ والی باوردی ٹویٹ ساری قوم نے پڑھ تو لی تھی، اب اور اس پر کیا بات کریں؟

اگر پروجیکٹ عمران خان کا کوئی گوشہ مہین سی چادر میں لپٹا رہ بھی گیا تھا تو خان صاحب نے وہ بھی تارتار کر دیا ہے، فرماتے ہیں مجھے فوجی اسٹیبلشمنٹ نے نواز شریف اور زرداری کی کرپشن کی فائلیں دکھائی تھیں، اور میں نے انہیں اپنے ایمان کا جُز بنا لیا، ویسے اسی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے جب خان صاحب کو بشریٰ بی بی اور فرح گوگی کی کرپشن کی فائلیں دکھائیں تو موصوف نے معلومات اکٹھی کرنے والے ڈی جی آئی ایس آئی کا ہی تبادلہ فرما دیا تھا۔ یعنی رہ رہ کے ڈی جی صاحب کی آئینی دائرے میں لوٹ جانے والی خوش خبری کی مہک مشامِ جاں میں پھیلتی ہوئی محسوس ہوتی ہے، ایسے میں یہ سوال پوچھنا بنتا ہے کہ کیا واقعی پاکستان اپنے سنہری دور کی طرف بڑھ رہا ہے کیوں کہ ہماری سوچی سمجھی رائے میں پاکستان کے بیشتر مسائل کی جڑ یہی بے راہ روی ہے، یعنی مختلف اداروں کا آئین میں متعین اپنی راہ سے بھٹک جانا۔ اب آپ ذرا تصور کیجیے کہ اسی نوع کی ایک پریس کانفرنس عدلیہ کا کوئی نمائندہ بھی کر دے تو ہم تو’’جس کو دیکھا اسی کو چوم لیا‘‘ والی کیفیت سے دوچار ہو جائیں گے، عدلیہ کے سرخیل بھی اعلان کر دیں کہ ہم آج سے آئین کے تحت اپنے فرائض انجام دیں گے اور از سرِ نو آئین لکھنے سے گریز کریں گے، وزیرِ اعظم کو گھر بھیجنے کے بجائے اپنی توانائیاں ہزار ہا زیرِ التوا کیسز کو حل کرنے پر مرتکز کریں گے، اور آج سے نہال ہاشمی اور عمران خان پر ایک ہی قانون لاگو کریں گے۔ اندیشہ ہے کہ اگر ایسا اعلان ہو جانے کے بعد بھی آوازیں اٹھیں گی کہ عدلیہ کو جسٹس منیر، انوار الحق، ارشاد حسن خان سے ثاقب نثار اور آصف سعید کھوسہ تک سب کےاعمال پر معافی مانگنی چاہیے، ہم اس وقت بھی یہی مشورہ دیں گے کہ چھوڑئیے، آگے چلتے ہیں کیونکہ منزل کب سے ہمارا انتظار کر رہی ہے۔.

Back to top button