اسلام آباد صحافیوں کے لیے خطرناک ترین شہر کیسے بنا

جنرل پرویز مشرف کے آمرانہ دور اقتدار کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ جب پاکستان میں صحافیوں کو اسٹیبلشمینٹ اور اس کی کٹھ پتلی حکومت دونوں سے یکساں خطرات کا سامنا ہے اور اسلام آباد کو میڈیا پرسنز کے لیے دنیا کا خطرناک ترین شہر قرار دے دیا گیا ہے۔ اس افسوسناک پیش رفت کی بنیادی وجہ ملک میں رائج ہائبرڈ نظام ہے جس میں حکومت اسٹیبلشمینٹ کے مکمل تابع یے اور قومی مفاد کے نام پر کیے جانے والے میڈیا دشمن اقدامات میں نہ صرف اپنی طاقتور سرپرستوں کی حصے دار ہے بلکہ ان کا کھل کر دفاع بھی کرتی ہے۔
سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامدمیر اسلام آباد کو پاکستانی صحافیوں کے لیے سب سے خطرناک ترین شہر قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ نئے پاکستان میں میڈیا اور صحافیوں پر ریاستی حملوں نے آزادی اظہار اور اطلاعات تک رسائی کو بےحد مشکل بنا دیا ہے۔ صحافیوں کے تحفظ اور اظہار رائے کے لیے سرگرم پاکستانی تنظیم فریڈم نیٹ ورک کی آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر جاری کردہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے وہ بتاتے ہیں کہ گزشتہ برس پاکستانی میڈیا اور صحافیوں پر حملوں کی تعداد 157 رہی جبکہ سب سے زیادہ حملے اسلام آباد میں کیے گئے۔ اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پچھلے برس ملک بھر میں پانچ صحافیوں کو قتل کیا گیا جبکہ حملوں کے سب سے زیادہ واقعات وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پیش آئے۔ حامد میر گزشتہ سال شائع ہونے والے انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلٹس کے ایک وائٹ پیپر کا حوالہ دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ 1990 سے 2020 کے دوران پاکستان میں 138 صحافیوں کو اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران قتل کر دیا گیا اور کوئی بھی قاتل اپنے انجام کو نہ پہنچا۔ حامد میر کے مطابق پاکستان میں صحافیوں کے خلاف جرائم میں اضافہ گیارہ ستمبر 2001 کے بعد ہوا۔ جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے امریکی دبائو پر اپنی پالیسی تبدیل کی تو پاکستان میں ریاست کے خلاف عسکریت پسندی کے واقعات بڑھ گئے۔ ایک طرف ریاست نے قومی مفاد اور حب الوطنی کے نام پر میڈیا کو حقائق چھپانے پر مجبور کیا تو دوسری طرف عسکریت پسندوں نے میڈیا کو سامراجی قوتوں کا ایجنٹ قرار دینا شروع کر دیا۔ میڈیا دونوں اطراف کا ٹارگٹ بن گیا۔
حامد میر کہتے ہیں کہ 2006 میں شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی حیات ﷲ خان اسلام آباد آئے اور مجھے بتایا کہ وہ شدید دبائو میں ہیں۔ انہوں نے میر علی میں ایک امریکی ڈرون حملے کو میڈیا میں بےنقاب کیا تھا۔ حکومت نے اس ڈرون حملے کو بم دھماکہ قرار دیا تھا لیکن حیات اللہ خان نے حملے میں استعمال ہونے والے امریکی میزائل کے ٹکڑوں کی تصاویر جاری کر دیں جن پر ’’میڈ ان یو ایس اے‘‘ لکھا ہوا تھا۔ حیات ﷲ خان سے کہا گیا کہ وہ حکومت سے تعاون کریں یا پھر صحافت چھوڑ دیں۔ حیات ﷲ خان نے مجھے پوچھا کہ ’’میں کیا کروں؟ صحافت چھوڑ دوں؟‘‘ میں نے اسے حوصلہ دیا اور کہا کہ صحافت مت چھوڑو۔ وہ واپس چلا گیا۔ کچھ دن بعد حیات ﷲ کو اغوا کر لیا گیا۔ ہم نے اسلام آباد میں بہت شور مچایا۔ جلوس نکالے اور پارلیمنٹ ہائوس کے باہر مظاہرے کئے۔ ہمیں یقین تھا کہ حیات ﷲ خان کو رہا کر دیا جائے گا۔ لیکن تب ہمارا یقین ٹوٹ گیا جب حیات ﷲ خان کی گولیوں سے چھلنی لاش میر علی کی سڑک پر پھینک دی گئی۔ ہم نے اس واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ اس وقت کے وزیر داخلہ آفتاب شیر پائو کی کوشش سے ایک تحقیقاتی کمیشن بن گیا۔ حیات ﷲ کی اہلیہ نے اس کمیشن کو سچ بتانے کا فیصلہ کیا تو اس مظلوم عورت کو ان کے گھر میں قتل کر دیا گیا۔ پھر اس کا ایک اور بھائی بھی قتل ہو گیا جس کے بعد حیات ﷲ خان کے چھوٹے چھوٹے بچے میر علی چھوڑ کر پشاور منتقل ہو گئے۔ تحقیقاتی کمیشن خاموش رہا، مظلوم کو انصاف نہیں دیا گیا البتہ قتل کے 15 سال بعد صدر کی طرف سے 23 مارچ 2021 کو حیات ﷲ خان کو تمغۂ شجاعت دینے کا اعلان کیا گیا جو ان کے برخوردار کامران حیات نے وصول کیا۔ حیات ﷲ خان کے خاندان کو انصاف نہیں دیا گیا۔ تمغۂ شجاعت دے دیا گیا، یہ نہیں بتایا گیا کہ حیات ﷲ خان نے کس کے خلاف شجاعت کا مظاہرہ کیا؟
حامد میر کہتے ہیں کہ میں کس کس کا ذکر کروں؟ کس کس کی شجاعت کے قصے لکھوں؟ سوات میں جیو نیوز کے نمائندے موسیٰ خان خیل سے خضدار میں اے آر وائی کے نمائندے عبدالحق بلوچ تک کے قاتلوں کو ہم جانتے ہیں لیکن ہم انہیں انصاف نہیں دلوا سکتے۔ صحافت پاکستان میں ایک خطرناک پیشہ بن چکا ہے۔ آپ لاپتہ افراد کی بات کریں تو نامعلوم نمبروں سے آپکے فون پر دھمکیاں آنے لگتی ہیں۔ بلکہ اب تو نامعلوم دھمکیوں کا تکلف بھی ختم ہو گیا ہے۔ طاقت ور لوگوں کے ٹائوٹ سوشل میڈیا پر کھلم کھلا ایسے صحافیوں کو دھمکیاں دیتے پھرتے ہیں جو کہ پاکستان میں آئین و قانون کی بالادستی چاہتے ہیں، ایسے دلیر صحافیوں کو ریاستی ادارے گرفتار پہلے کرتے ہیں اور انکے خلاف مقدمہ بعد میں بناتے ہیں۔ انکے مطابق فریڈم نیٹ ورک پاکستان نے اپنی سالانہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ پچھلے ایک برس میں پاکستان میں صحافیوں پر حملوں میں گزشتہ برس کی نسبت 40 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ صحافیوں پر سب سے زیادہ حملے اسلام آباد، اس کے بعد صوبہ سندھ اور پھر صوبہ پنجاب میں ہوئے۔ حامد میر کہتے ہیں کہ اس رپورٹ میں اسلام آباد کو صحافیوں کیلئے خطرناک ترین شہر قرار دیا گیا ہے حالانکہ اس شہر کے چپے چپے پر سیکورٹی کیمرے نصب ہیں لیکن جب مطیع ﷲ جان کو اغوا کیا جائے یا احمد نورانی پر حملہ کیا جائے تو یہ کیمرے خود بخود کام کرنا بند کر دیتے ہیں۔
حامد میر کہتے ہیں کہ اس شہر میں 2011 سے جرنلٹس پروٹیکشن بل پر کام ہو رہا ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی حکومتیں صحافیوں کے تحفظ کا بل قومی اسمبلی میں نہ لا سکیں البتہ تحریک انصاف کی حکومت کے دو وزرا ڈاکٹر شیریں مزاری اور فواد چودھری نے اس بل کی تیاری شروع کی۔ کچھ عرصہ قبل وزارتِ انسانی حقوق اور وزارت اطلاعات نے مل کر ایک ڈرافٹ کابینہ سے منظور کرایا اور کلیئرنس کیلئے وزارتِ قانون کو بھجوایا۔ وزیر قانون فروغ نسیم نے اسے مسترد کر دیا۔ تین مئی کو آزادی صحافت کے عالمی دن پر پاکستان کی اصل حقیقت یہی ہے کہ صحافیوں کیلئے خطرناک ترین شہر اسلام آباد میں موجود وزارتِ قانون صحافیوں کے تحفظ کیلئے بنائے جا رہے قانون کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button