بد زبان اور بے لگام فردوس کو پٹہ کون ڈالے گا؟

وزیرِ اعلیٰ پنجاب کی بے لگام معاونِ خصوصی فردوس عاشق اعوان اپنی بدتہذیبی اور بد زبانی کے ایک اور بے مثال مظاہرے کے بعد ٹوئٹر صارفین کی جانب سے تنقید کی زد میں ہیں اور ٹاپ ٹرینڈز میں شامل ہیں۔ اس کی وجہ سیالکوٹ میں رمضان بازار کے دورے کی ویڈیوز بنیں جس میں اسسٹنٹ کمشنر سیالکوٹ سونیا صدف اور فردوس عاشق اعوان کے درمیان پھلوں کے معیار پر بحث و تکرار ہوتے ہوئے نظر آتی ہے۔
پھر ایک اور ویڈیو میں فردوس عاشق اعوان باقاعدہ ڈانٹنے کے انداز میں سونیا صدف کو کہتی ہیں کہ آپ کی حرکتیں ہی نہیں ہیں اسسٹنٹ کمشنر والی۔ اسکے بعد وہ ارشاد فرماتی ہیں کہ کس بے غیرت نے تمہیں یہاں تعینات کیا ہے۔ ایسا کہتے ہوئے ان کا اشارہ دراصل چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق ملک کی جانب تھا جو کہ پنجاب کی بیوروکریسی کے انچارج ہیں۔ چنانچہ چیف جواد رفیق ملک نے سیالکوٹ کے واقعے پر فوری ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ فردوس کی جانب سے ایک انتظامی افسر کے ساتھ غیر مہذب برتاو کی مذمت کرتے ہیں اور اس افسوس ناک واقعے بارے تحفظات وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار تک پہنچا دیے ہیں۔ چیف سیکرٹری پنجاب نے کہا کہ اسسٹنٹ کمشنر سونیا صدف اور دیگر انتظامی افسران سخت گرمی اور کورونا کی وباء کے باوجود فرنٹ لائن پر موجود ہیں، کسی بھی سرکاری افسر یا عملے کے ساتھ غیر اخلاقی زبان استعمال کرنا قابل مذمت ہے۔ رفیق ملک نے کہا کہ پنجاب بھر میں انتظامی افسران دن رات عوام کی سہولت کے لیے فیلڈ میں موجود ہیں جو قابل ستائش ہے۔ انکا کہنا تھا کہ کسی کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ سرکاری افسران کی تذلیل کرے۔
یاد رہے کہ دو منٹ دورانیے کی ایک وائرل ویڈیو میں فردوس عاشق اعوان اور سونیا صدف پھلوں کے ایک سٹال پر نظر آتی ہیں جہاں فردوس خراب پھلوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر سے کہتی ہیں کہ افسرِ شاہی کی کارستانیاں حکومت بھگت رہی ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر سیالکوٹ انھیں خراب پھلوں کے بارے میں کہتی ہیں کہ ’یہ گرمی سے خراب ہوئے ہے‘ جس پر فردوس عاشق اُن سے کہتی ہیں کہ ’اسے فوراً تبدیل کروائیں، یہ آپ کی اور آپ کے سٹاف کی ڈیوٹی ہے۔‘ وہ سونیا سے غصے میں کہتی ہیں کہ ’تھرڈ کلاس فروٹ یہاں سے اٹھوائیں‘ اور کوئی کام کر کے دکھائیں۔ جب سونیا صدف کہتی ہیں کہ وہ ان کے آنے سے پہلے دو مرتبہ اس بازار کا وزٹ کر چکی ہیں تو فردوس کہتی ہیں کہ ’آپ تنخواہ اسی کام کی لیتی ہیں، میں اس کام کی تنخواہ نہیں لیتی۔ اس پر اسسٹنٹ کمشنر کہتی ہیں کہ ’میڈم آرام سے بھی تو بات کی جا سکتی ہے۔ جواب میں فردوس کہتی ہیں کہ تمہیں پتا نہیں کس بے غیرت نے اے سی لگا دیا یے۔ اس پر سونیا صدف واک آؤٹ کرتے ہوئے وہاں سے چلی جاتی ہیں اور فردوس اپنی بڑ بڑ جاری رکھتی ہیں۔ ایک اور ویڈیو میں فردوس عاشق اعوان اسسٹنٹ کمشنر کو اُنہیں پروٹوکول نہ دینے اور پیچھے رہ جانے پر غصہ کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ آپ کو ہم کبھی کہیں سے برآمد کرتے ہیں اور کبھی کہیں سے، آپ وزٹ پر آئی ہوئی ہیں، جس پر سونیا صدف رش اور کرونا کا کہتی ہیں۔ اس پر فردوس عاشق اسسٹنٹ کمشنر کو تلخ انداز میں ڈانٹتے ہوئے کہتی ہیں کہ ‘رش سب کے لیے ہے، آپ کوئی آسمان سے اتری ہوئی ہیں؟
مریم نواز نے وزیراعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کی جانب سے سیالکوٹ کی اسسٹنٹ کمشنر (اے سی) سونیا صدف کو ڈانٹنے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔اپنی ٹوئٹ میں مریم نواز کا کہنا تھاکہ اپنی ناکامی اوربدترین کارکردگی کا غصہ سرکاری افسران پر نکالنا فرعونیت ہے۔انہوں نے کہا کہ رمضان بازاروں ميں غير معياری، مہنگی اشياء حکومتی نالائقی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ سرکاری افسران آپ کے ذاتی ملازم نہیں، سيالکوٹ کے رمضان بازار ميں خاتون اسسٹنٹ کمشنر سونیا صدف کے ساتھ ہونے والا سلوک قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سول سرونٹس اور بیوروکریٹس مقابلے کے امتحان پاس کرکے اس مقام تک پہنچتے ہیں، سیلیکٹ ہوکر نہیں آتے۔
ان کا مزید کہنا تھاکہ وزیر ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کو افسران کی تذلیل کا لائسنس مل گیا۔ مریم نواز نے مطالبہ کیا کہ یہ رعونت قابل قبول نہیں لہٰذا سونیا صدف سے معافی مانگیں۔
ٹوئٹر پر اس حوالے سے رائے کافی منقسم نظر آئی۔
ایک صارف حسان خاور نے لکھا کہ ’سرکاری ملازمین کو سرعام ڈانٹ دینے سے سیاسی مقبولیت تو شاید مل جائے لیکن ان لوگوں کے حوصلے پست ہو جائیں گے جنھوں نے آپ کی پالیسیوں پر عمل درآمد کروانا ہے۔‘ اُن کی اس ٹویٹ کے نیچے نعمان حسن نامی صارف نے جواب دیتے ہوئے لکھا کہ تو آپ کا مطلب ہے کہ یہ ڈی ایم جی افسران کسی کو بھی ڈانٹ سکتے ہیں لیکن کوئی انھیں نہیں ڈانٹ سکتا؟ اُنھوں نے مزید کہا کہ ان میں سے کسی تک بھی عام لوگوں کی رسائی نہیں ہوتی، درحقیقت انھیں اپنی طاقت کا اندازہ ہوتا ہے لیکن اپنی ذمہ داریوں کا نہیں۔
ایک اور صارف سعدیہ نے لکھا کہ فردوس عاشق اعوان اپنے برجستہ انداز اور بلند آواز کے لیے مشہور ہیں۔ وہ شاید غلطی نکالنے میں صحیح ہوں مگر اس کا ایک طریقہ ہوتا ہے، خاص طور پر میڈیا اور لوگوں کی موجودگی میں ایک خاتون افسر کے ساتھ۔
ایک صارف فواد کا کہنا تھا کہ آخر میں یہ غریب ہی ہوتا ہے جس کا خون چوسا جاتا ہے جس کے ساتھ اسسٹنٹ کمشنر اور فردوس عاشق جیسے لوگ بدتمیزی کرتے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ سیاستدان بیوروکریٹس کو ڈانٹتے ہیں، اور وہ ڈاکٹروں، ٹیچروں اور دکانداروں کو ڈانٹتے ہیں اور غریبوں کا پھل سڑک پر پھینک دیتے ہیں۔
ایک اور سوشل میڈیا سارے وقاص ستی نے لکھا کے فردوس عاشق کو یاد رکھنا چاہیے کہ وہ عوام کی نمائندہ نہیں ہیں اور 2018 کے الیکشن میں سیالکوٹ کے عوام نے ان کو سختی سے مسترد کیا تھا اس لئے ان کا سیالکوٹ کے رمضان بازار میں جاکر بک بک کرنا قابل قبول نہیں۔ صارف جویریہ نے لکھا کہ اے سی سیالکوٹ کو اُن کے بے مثال وقار کے لیے شاباش۔ ایک اور صارف علی رضا نے فردوس عاشق کے رویے کو تلخ قرار دیتے ہوئے کہا کہ نااہل اور غیر ذمہ دار بیوروکریٹس کو عوامی مقامات پر ڈانٹنے کے بجائے اُنھیں او ایس ڈی لگا دینا چاہیے، جس پر ایک اور صارف عبیر خان کا کہنا تھا کہ شاید آپ صحیح ہوں مگر کبھی کسی کام کے لیے اے سی یا ڈی سی آفس کا دورہ کریں، جس طرح اُن کا عملہ اور وہ آپ سے پیش آئیں گے آپ کو اندازہ ہو جائے گا۔ ایک اور سوشل میڈیا سارے خوشحال نے لکھا کہ دراصل فردوس اپنی مرضی کا اے سی سیالکوٹ میں لگوانا چاہتی ہیں اس لیے وہ اس خاتون اے سی کے پیچھے پڑی ہوئی ہیں اور پچھلے دنوں بھی ان کے دفتر میں جاکر ان سے جھگڑا کر چکی ہیں۔ تاہم چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق ملک کی جانب سے فردوس عاشق کی بدتمیزی پر سخت رد عمل کو ایک شیٹ اپ کال کے طور پر لیا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button