اسلام آباد میں بادل پھٹے یا انتظامیہ ناکام ہوئی؟

محکمہ موسمیات نے وفاقی حکومت کی طرف سے کیا جانے والا یہ دعوی مسترد کر دیا ہے کہ اسلام آباد میں میں مچنے والی تباہی کی بنیادی وجہ بادل پھٹنے سے ہونے والی بارش تھی۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ یہ تباہی مون سون کی بارش سے آئی ہے جس سے نمٹنے کے لیے حکومت کو پہلے سے تیار رہنا چاہیے تھا۔
اسلام آباد کے بعض علاقوں میں سیلابی صورتحال کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں لیکن اس کے ساتھ سوشل میڈیا پر یہ تنازع شروع ہو گیا ہے کہ آیا اتنا نقصان انتظامیہ کی جانب سے برساتی نالوں کی بروقت صفائی نہ کرنے کے نتیجے میں ہوا یا اچانک کلاؤڈ برسٹ اس کی وجہ بنا۔ منگل کی رات سے مسلسل جاری رہنے والی بارش کے نتیجے میں کئی نشیبی علاقے زیر آب آ گئے ہیں، سڑکوں پر پانی جمع ہے اور بعض جگہوں پر گھروں میں بھی پانی داخل ہو گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق اسلام آباد میں سیکٹر ای الیون کے ایک گھر کی بیسمنٹ میں پانی داخل ہو جانے کی وجہ سے ماں اور بچہ ہلاک ہو گئے ہیں۔
بدھ کی صبح اسلام آباد کے ای الیون سیکٹر میں سیلاب کی کیفیت تھی اور بعض مقامات پر تو گاڑیاں بھی سیلانی ریلے میں تیرتی نظر آ رہی تھیں۔ اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ اسلام آباد میں کلاؤڈ برسٹ کی وجہ سے شہر کے مختلف علاقوں میں سیلاب آیا ہے۔ اپنے آفیشل اکاؤنٹ سے ٹویٹ کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے لکھا کہ’اسلام آباد میں بادل پھٹنے کے باعث مختلف علاقوں میں سیلاب آگیا ہے۔ ٹیمیں نالوں/سڑکوں کو صاف کررہی ہیں۔ امید ہے کہ ہم ایک گھنٹے میں سب کچھ کلئیر کردیں گے۔ سب سے درخواست ہے کہ وہ تعاون کریں اور غیر ضروری نقل و حرکت کو اگلے 2 گھنٹوں تک محدود رکھیں۔
دوسری جانب محکمہ موسمیات کے ترجمان ظہیر الدین بابر نے کہا کہ یہ کلاؤڈ برسٹ نہیں تھا بلکہ معمول کی مون سون کی بارش تھی جس میں شدت آتی رہتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’سید پور کے علاقے میں صبح آٹھ بجے تک 123 ملی میٹر بارش ہوئی جو دن گیارہ بجے تک 128 ملی میٹر تک پہنچ گئی تھی جبکہ گولڑہ کے علاقے میں 106 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ’یہ شدید بارش تھی جو اب کم ہو گئی ہے، اسلام آباد کے اردگرد کے علاقوں میں بوندا باندی جاری ہے۔ راولپنڈی کے نالہ لئی میں بارش کی وجہ سے پانی کی سطح بلند ہو گئی جو اب کم ہو گئی ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ بادل پھٹنے کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا اور ڈپٹی کمشنر کو معلوم ہونا چاہیے کہ مون سون کے موسم میں تیز بارشوں سے پہلے نالے صاف کروانا ضروری ہوتا ہے۔
دوسری جانب وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید بھی نمبر بنانے کے لیے راولپنڈی کے نالہ لئی پہنچ گئے۔ انہوں نالہ لئی کی صورت حال کا جائزہ لیا اور کہا کہ ’اس وقت جہاں جہاں پانی ہے پاک فوج کے جوان وہاں آ چکے ہیں، فوج، واسا اور کارپوریشن سب الرٹ ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ ’زیادہ سے زیادہ 90 دن کے اندر نالہ لئی پر کام شروع ہو جائے گا۔‘ اس موقع پر شیخ نے یہ بونگی بھی ماری کہ راولپنڈی کا نالہ لئی انسانی جانیں لینے کا رسیا ہے۔
محکمہ موسمیات اور عوامی حلقوں کی جانب سے غیر ذمہ دارانہ بیان دینے پر تنقید کا نشانہ بننے کے بعد ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے اپنے نئے ٹوئٹ میں صورتحال بہتر ہونے کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ میں موقع پر موجود ہوں۔ تاہم سوشل میڈیا صارفین نے ڈپٹی کمشنر کی خوب کلاس لی اور انہیں دو انسانی جانوں کے ضیاع کا ذمہ دار قرار دے دیا۔ بارش کے باعث اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں سیلاب کی صورتحال پیش آئی تو سوشل میڈیا صارفین نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اسلام آباد کے مختلف علاقوں کی تصاویر اور ویڈیوز شئیر کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے مناسب انتظامات نہ ہونے کے باعث ہونے والی مشکلات کا ذکرکیا۔ ٹوئٹر ہینڈل اسلام آباد نے ایسی ہی ایک ویڈیو اسلام آباد کے علاقے ای الیون کی شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ ای-الیون ہے، اسلام اباد کی موجودہ حالت۔ اسلام آباد کے علاقے ای ایلیون میں آنے والے سیلاب کی ویڈیو سامنے آئی تو جواب میں سوشل میڈیا صارفین نے حکومت کی جانب سے مناسب اقدامات نہ ہونے پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ، اسی حوالے سے ٹوئٹر صارف اسلامبادین نے لکھا کہ حکومت/سی ڈی اے کی ناقص کارکردگی ہی اس سیلاب کی وجہ ہے بادل بارش نہیں۔بارشوں نے سی ڈی اے کارکردگی کا کچا چھٹا کھول دیا کڑوڑوں روپے کے فنڈ کے باوجود نالے صاف نہ ہو سکےدرخت کاٹے جا رہے ہیں اور سیوریج سسٹم تباہ کر دیا ہے۔
ای الیون میں سیلاب کی صورتحال پر گفتگو آگے بڑھی تو صارفین سی ڈی اے کو شددید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسلام آباد کے مختلف علاقوں کی صورتحال کے بارے میں بھی تبصرے کرتے نظر آئے، ٹوئٹر ہینڈل کیو ایم کے نے لکھا کہ یہی حال جی الیون کا بھی ہونے والا ہے 20 سال سے نالے صاف نہیں کیئے گئےبار بار کمپلین کے باوجود کوئی صفائی نہیں کی گئی, اسلام آباد اور نواح میں طوفانی بارش کہ وجہ سے راول ڈیم کے پانی کی سطح میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے اپنی ایک ٹوئٹ میں لکھا کہ روال ڈیم کے سپل ویز کھولے جا رہے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر نے لکھا کہ ’راول ڈیم کے سپل ویز یا دروازے کھولے جا رہے ہیں۔ دریائے کورنگ اور دریائے سواں کے لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ آج کے دن دریا کے کناروں سے دور رہیں۔ مساجد میں اعلانات بھی کروائے گئے ہیں ۔ دریا میں نہانے پر دفعہ 144 نافذ ہے- تاہم عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اسلام آباد بعد میں بارش نے جو تباہی مچائی ہے وہ پچھلے پچاس سال میں نہیں دیکھی گئی اور اس ناکامی کہ ذمے دار موجودہ حکومت ہے۔
