اسلام آباد میں مودی کے ڈریکولا والے پوسٹرزکیوں لگ گئے؟

اگست 2019 میں مقبوضہ کشمیر کی خود مختاری پر ڈاکہ ڈالنے والی مودی حکومت سے دوستی کی پینگیں بڑھانے والی کپتان حکومت نے اب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں نریندر مودی کے ایسے پوسٹرز لگا دیے ہیں جن میں انہیں ڈریکولہ کے کاسٹیوم میں دکھایا گیا ہے۔ پوسٹرز پر لکھا گیا ہے کہ ’امن کو تباہ کرنے والا مودی، اگر آپ اس بات سے متفق ہیں تو ہارن بجائیں۔‘
سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر یہ تصویر شیئر کی جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ پانچ اگست کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے دو سال مکمل ہوگئے ہیں۔ ایسے میں وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ پانچ اگست کو یوم استحصال کشمیر منایا جائے گا۔ دو سال قبل یعنی پانچ اگست 2019 کو انڈیا نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا صدارتی حکم نامہ جاری کیا تھا۔
کچھ صارفین مودی کے ڈریکولا والے پوسٹرز کو مزاح کے طور پر شیئر کرتے نظر آئے تو کچھ نے اسے نا مناسب قرار دیا۔
ٹوئٹر ہینڈل زی مودی کے حوالے سے بنائے گئے پوسٹر شیئر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’اتنے زور کا ہارن بجاؤ کہ آواز مودی تک جائے۔‘
فیس بک ہینڈل اسلام آباد بیوٹی فل نے لکھا کہ ’یہ پوسٹر میں نے سرینا ہوٹل کے سامنے سڑک پر دیکھا۔ میں اس سنگین مسئلے کی مضحکہ خیز وضاحت پر، جو کسی پارٹی کاسٹیوم کی طرح لگ رہا ہے، کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔‘
انہوں نے اس موضوع کے حوالے سے لکھا کہ ’راہ گیرروں کی گاڑیوں کے ہارن بجانے کا کہنے کے باوجود کسی ایک گاڑی نے بھی ہارن نہیں بجایا۔ یہ ایک اچھا خیال نہیں تھا۔‘
پاکستانی سوشل میڈیا پر پانچ اگست کے حوالے سے ٹرینڈز بھی چلائے جا رہے ہیں جن میں صارفین پانچ اگست کے دن کو بلیک ڈے قرار دیتے ہوئے انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں ہونے والے مظالم کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔ سمیتا پرکاش پوسٹر شیئر کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ ’مودی کو شکست دینے کے لیے ہارن بجائیں، کیا یہ سب سے اچھا ہے جو آپ کر رہے ہیں۔‘ ایک اور ٹوئٹر صارف نے ٹویٹ کیا کہ ’اگر آپ متفق ہیں تو ہارن بجائیں۔ یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا کیا ملک ہے؟‘ ٹوئٹر صارف مہر اس پوسٹر پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’اس سائن کا غلط تاثر ایک طرف لیکن یہ اب تک کی سب سے مزاحیہ چیز ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ کسی سے جنگ ہارنے والے ہوں تو بد دعائیں دینا شروع کر دیں کہ اللہ کرے دشمن کی توپوں میں کیڑے پڑ جائیں۔’
