اسلام آباد کے سرکاری سکول ویران کیوں ہو چکے ہیں؟

اسلام آباد کے سرکاری سکولوں میں تعلیم کے سلسلے کو بریک سی لگی نظر آتی ہے، سکول ویران ہو چکے ہیں، اور اساتذہ فارغ بیٹھنے پر مجبور ہیں۔ اس صورت حال کی وجہ حکومت کا وہ حالیہ فیصلہ ہے جس کے تحت شہر کے تمام سرکاری سکولوں کو میئر کے ماتحت کر دیا گیا ہے لہذا اسلام آباد کے سرکاری سکولوں کے اساتذہ سراپا احتجاج ہے۔ سکول بند ہیں اور اساتذہ نے بچوں سے کہا ہے کہ ہم آپ کو رابطہ کر کے بتائیں گے کہ کب سکول آنا ہے، سکولوں میں امتحانات بھی منسوخ کر دیئے گئے ہیں، والدین کو بچوں کی فیسیں اور کتابوں کے اخراجات بھی خود برداشت کرنا پڑیں گے۔
دوسری جانب وزیر تعیلم شفقت محمود نے ٹویٹر پر اُمید ظاہر کی کہ اسلام آباد کے بچے 6 دسمبر سے سکول جانا شروع کر دیں گے۔ انہوں نے اساتذہ کے نمائندوں کے ساتھ اپنی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ اسلام آباد میں اساتذہ کے نمائندوں سے اس معاملے پر ملاقات ہو گئی ہے۔ تاہم انہوں نے ملاقات میں ہونے والے کسی فیصلے سے آگاہ نہیں کیا، نہ ہی اساتذہ کی جانب سے کوئی بیان سامنے آیا ہے۔ یاد رہے کہ 23 نومبر کو صدر عارف علوی نے اسلام آباد میں بلدیاتی نظام کے حوالے سے آرڈیننس کی منظوری دی۔اساتذہ کے مطابق انھیں 25 نومبر کو یہ خبر ملی جس کے بعد ساتذہ نے کلاسز کا بائیکاٹ کیا اور جمعرات کو پارلیمینٹ ہاؤس کے سامنے ڈی چوک پر ایک بڑا مظاہرہ کیا۔
ایک سکول ٹیچر آمنہ نے بتایا ک ہم نے جب سے یہ خبر سنی ہے ہم نہ ٹھیک سے کھانا کھا پا رہے ہیں اور نہ ہی سو پا رہے ہیں۔ پریڈ گراؤنڈ سے شہید ملت روڈ تک مرد ہی مرد اور عورتیں ہی عورتیں ہیں جن کو دیکھ کر میں سوچ رہی تھی اس ملک میں ہم اساتذہ کی کیا عزت ہے؟
خاتون ٹیچر نے بتایا کہ ابھی تو ہم ایجوکیشن منسٹری کے ماتحت ہیں تو ہمیں فنڈز ملنے میں مشکلات ہوتی ہیں لہذا کیا گارنٹی ہے کہ سسٹم تبدیل ہونے کے بعد میونسپل کارپوریشن اپنا فرض ادا کر پائے گی۔
اساتزہ کے احتجاج میں شامل ایک سکول پرنسپل نے بتایا کہ ہمارے خدشات یہی ہیں کہ میونسپل کارپوریشن کے پاس تو اتنے فنڈز ہی نہیں ہوتے کہ وہ اساتذہ کو تنخواہوں کی ادائیگی کر پائے ایسے میں وہ سکولوں کی ذمہ داری کیسے نبھائیں گے۔یوں مستقبل میں بچوں کو دی جانے والے مفت تعلیم اور کتابیں دیئے جانے کا سلسلہ بھی متاثر ہو سکتا ہے۔
تاہم اس معاملے پر ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات نے بتایا کہ پوری دنیا میں تعلیم تو مقامی حکومت کے ماتحت ہوتی ہے، پاکستان میں بھی ایسے ہی ہے۔ حالیہ آرڈینینس باقاعدہ کابینہ سے پاس ہوا ہے ، تین ایم این ایز نے اس پر متفقہ طور پر اتفاق کیا۔ اگر کسی کو اس پر اعتراض ہے تو وہ منسٹری کے پاس جائے۔
دوسری جانب اساتذہ کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ترجمان ضیا یوسفزئی نے بتایا کہ انہون نے حکومتی اراکین سے بات کی ہے لیکن ان کے پاس وقت نہیں تھا اور انھیں جلدی میں یہ آرڈیننس جاری کرنا پڑا۔ تاہم سینیٹر عرفان صدیقی نے اس معاملے کو سٹینڈنگ کمیٹی میں لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ماہر تعلیم اور کالم نگار اصغر سومرو کہتے ہیں کہ اگرچہ دنیا میں یہ اچھی پریکٹس موجود ہے کہ پرائمری ایجوکیشن میئر کے ماتحت ہوتی ہے اور سلیبس، گرانٹس، جائزہ لینا، یہ سب صوبائی حکومت کے پاس ہوتا ہے پاکستان میں زیادہ تر یہ دیکھا گیا ہے کہ بلدیاتی نظام فوجی حکومت کے دور میں سامنے آتا ہے اور جمہوری حکومتیں اس پر سیاست زدہ دکھائی دیتی ہیں۔
