اسٹیبلشمنٹ اورعدلیہ عوام کے ولن کیسے بنے؟


معروف صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ پاکستان کی سول ملٹری بیوروکریسی اور عدلیہ اب ایکسپوز ہو چکی اور انہیں مزید مقدس گائے کا درجہ نہیں دیا جا سکتا۔ انکا کہنا ہے کہ اگر یہ تینوں مل کر ایک نکمی اور نااہل حکومت نہ بنواتے تو آج پاکستان کی اتنی ابتر حالت نہ ہوتی لہذا پاکستانی عوام آج جو کچھ بھگت رہے ہیں اس کی تمام تر ذمہ داری موجودہ سول ملٹری بیوروکریسی اور عدلیہ پر عائد ہوتی ہے۔ ان اداروں نے مل کر جو تجربہ کیا تھا وہ مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ سول ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ نے جو مصنوعی سیٹ اپ کھڑا کیا تھا وہ اب آہستہ آہستہ بکھرنے لگا ہے۔
نیا دور کے ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ میرے خیال میں ملٹری اسٹیبلمشنٹ گھبرا چکی ہے اور اب یہ سوچ رہی ہے کہ عمران خان کو اقتدار دے کر وہ پھنس چکی ہے۔ بھائی لوگوں کا خیال تھا کہ بندہ ایماندار ہے، پڑھا لکھا ہے، لہٰذا ہم اسے ٹیم دیں گے تو یہ ملک چلا لے گا، مگر ایسا نہیں ہو پایا۔ لہٰذا اب سوچا جا رہا ہے کہ کیا کیا جائے کیونکہ حکومت کی ناکامی کا سارا مدعا ملٹری اسٹیبلشمنٹ پر۔پڑ چکا ہے اور وہی بدنام ہو رہی ہے۔ نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ اس مشکل صورتحال میں فوجی اسٹیبلشمنٹ پیچھے ہٹنا چاہ رہی ہے لیکن یہ بھی سوچ رہی ہے کہ اب خان کی جگہ لانا کس کو ہے اور پاکستانی قوم کو نہ گھبرانے کا مشورہ دینے والے کو ہٹانا کیسے ہے۔
موجودہ حکومت کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے مہنگائی کے طوفان میں پھنس جانے والے پاکستانی عوام کی حالت زار پر تبصرہ کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ میں نے پچھلے 70 سالوں میں عوام کو کبھی کسی حکومت وقت کے خلاف اتنے غصے میں نہیں دیکھا۔ لیکن ان کا بس نہیں چلتا کہ وہ اس حکومت سے کس طرح جان چھڑوائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کامیاب ہوتی ہے یا نہیں، لیکن در حقیقت حکومت بہت گھبرائی ہوئی ہے۔ اپوزیشن بھی انتظار کر رہی ہے کہ کب صحیح وقت آئے اور وہ وار کرے۔ بقول سیٹھی، اگر نئے ڈی جی آئی ایس آئی نیوٹرل رہے تو پھر اپوزیشن کا رویہ بھی مذید جارحانہ ہو جائے گا۔ سیٹھی بے بتایا کہ انکی چڑیا نے خبر دی ہے کہ انہیں ٹائٹ کرنے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں ہیں۔ لیکن میں منصوبہ سازوں کو کہنا چاہتا ہوں کہ مجھے بھٹو، ضیا الحق اور نواز شریف ٹائٹ نہیں کر سکے تو یہ لوگ کیا کریں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: گوادر کے حقوق کے لیے دھرنا ختم کیوں نہیں ہو پا رہا؟

ان کا کہنا تھا کہ اسووت۔پاکستانی عوام بپھرے ہوئے ہیں اور اگر ان کا غم وغصہ مذید بڑھا تو ریاست کیلئے سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ لہذا صورتحال کو وہاں تک نہ پہنچایا جائے جہاں اتنی بے چینی اور انارکی پھیل جائے کہ لوگ مرنے اور مارنے پر مجبور ہو جائیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے۔ اس ملک کا کچھ خیال کرتے ہوئے اچھے راستے نکالیں جائیں۔ عوامی نمائندوں کو موقع دیں کہ وہ عوام کیساتھ بات کریں۔ انکے بقول، عمران خان اب یہ کام نہیں کر سکتا کیونکہ وہ اب عوامی نمائندہ نہیں رہا۔

Back to top button