کیا آڈیو سکینڈل اسٹیبلشمنٹ مخالف حکومتی سازش ہے؟


سینئر صحافی حامد میر نے کہا ہے کہ ثاقب نثار کی آڈیو لیک کرنے والوں کا اصل نشانہ سابق چیف جسٹس نہیں بلکہ کوئی اور ہے۔ انکا کہنا ہے کہ سازشی مفروضے کے مطابق حکومتی وزراء حب علی میں نہیں بلکہ بغض معاویہ میں عدلیہ سے اس آڈیو اسکینڈل کی تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ وزراء کا خیال ہے کہ ان تحقیقات میں ثاقب نثار کے ساتھ ایک پتھر دل صنم بھی ڈوب جائے گا۔ لیکن اگر یہ سازشی مفروضہ سچ ہے تو حکومتی وزراء کی عقل پر ماتم کرنا چاہیے کیوں کہ اگر یہ ثابت ہو گیا کہ ثاقب نثار نے کسی پتھر دل صنم کے دباؤ پر نواز شریف کو نااہل قرار دیا تھا تو پھر 2018ء کے الیکشن کی رہی سہی ساکھ بھی ختم ہو جائے گی اور عمران خان کے مخالفین کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات درست ثابت ہو جائیں گے۔

ایک غیرملکی ویب سائٹ کے لئے اپنے سیاسی تجزیے میں حامد میر کہتے ہیں کہ آج کل وزیراعظم عمران خان کے وزراء سے اختلاف کرنا کسی خطرے سے خالی نہیں۔ اس خطرے کو سمجھنے کے لیے وہ مرزا غالب کا ایک شعر سناتے ہیں جو کچھ یوں یے:
یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے
ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسمان کیوں ہو
حامد میر کہتے ہیں کہ غالب نے یہ شعر قریباﹰ ڈیڑھ سو سال قبل کہا تھا لیکن آج کل یہ شعر وزیر اعظم عمران خان کی حکومت پر صادق آتا ہے، جو نیا پاکستان بنانے نکلے تھے لیکن اب تو ان کو ووٹ دینے والے بھی پچھتا رہے ہیں اور ان کی حمایت کرنے والے صحافی بھی ہاتھ جوڑ کر قوم سے معافیاں مانگ رہے ہیں۔ ان حالات میں عمران خان کے وزراء سے اتفاق کرنے کا مطلب پاکستان کے ستم زدہ غریبوں سے دشمنی کے مترادف ہے لیکن کیا کریں کہ ‍ ہم ایک صحافی ہیں۔ بُری سے بُری حکومت بھی کوئی اچھی بات کرے تو ہمیں بلا خوف و خطر اس کی تائید کرنی چاہیے۔
حامد میر کہتے ہیں کہ جب سے سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی آڈیو لیک ہوئی ہے، حکومت کے کئی وزراء بھی مطالبہ کر رہے ہیں کہ اعلیٰ عدلیہ اس معاملے کا فوری نوٹس لے۔ یہ درست ہے کہ حکومتی وزراء اس آڈیو لیک اسکنیڈل کو مسلم لیگ نون کی سازش قرار دے رہے ہیں اور ان کے خیال میں مسلم لیگ نون کو بے نقاب کرنے کے لیے اعلیٰ عدلیہ کو فوری نوٹس لینا چاہیے۔ حامد میر کہتے ہیں کہ ہمیں نہیں معلوم کہ یہ مسلم لیگ نون کی سازش ہے یا نہیں لیکن ہم یہ جانتے ہیں کہ اس آڈیو کو ایک صحافی احمد نورانی منظر عام پر لائے ہیں۔
بقول حامد میر، احمد نورانی کو مسلم لیگ نون کے دور حکومت میں نامعلوم افراد نے تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ اسلام آباد پولیس اُن نامعلوم افراد کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی اور اب احمد نورانی اُن نامعلوم افراد کے لیے بہت بڑا دردِ سر بن چکے ہیں۔ پتا نہیں میاں ثاقب نثار کی آڈیو ان کے پاس کہاں سے آئی لیکن یہ کوئی ٹیلی فون ریکاڈنگ نہیں ہے۔ یہ کسی اہم شخصیت کے ساتھ ہونے والی نجی گفتگو ہے، جس میں سابق چیف جسٹس کچھ اداروں اور ان سے وابستہ دوستوں کا ذکر کر رہے ہیں، جو سپریم کورٹ کے ذریعے نواز شریف اور مریم نواز کو سزا دینا چاہتے تھے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ سابق چیف جسٹس کی گفتگو انہی دوستوں میں سے کسی ایک کے ہاتھ لگ گئی اور اس دوست کی دانستہ یا نادانستہ غلطی سے یہ آڈیو احمد نورانی کے پاس پہنچ گئی۔ چنانچہ بے باک لیکن ہوشیار صحافی نے اس آڈیو کا فرانزک ٹیسٹ کرایا اور سٹوری بریک کر دی۔ اس سٹوری نے پاکستان کی سیاست میں طوفان برپا کر دیا اور نامعلوم افراد کو یہ پیغام دے دیا کہ آپ کسی صحافی کو جتنا بھی ڈرا لیں، پھینٹی لگا لیں، گولیاں مروا دیں، اخبار سے نکلوا دیں، پابندیاں لگوا دیں لیکن آج کے دور میں یہ ہتھکنڈے صحافت میں سچ بولنے والوں کو خاموش نہیں کرا سکتے بلکہ آخرکار یہ ہتھکنڈے نامعلوم افراد کو زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں۔
حامد میر کہتے ہیں کہ عمران خان کے وزراء ایک طرف احمد نورانی کی سٹوری کو اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے خلاف سازش قرار دے رہے ہیں دوسری طرف اعلیٰ عدلیہ سے اس سٹوری کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ معلوم نہیں کے وزراء صاحبان کے اس مطالبے کے پیچھے کیا ہے؟ اعلیٰ عدلیہ نے بھی ابھی تک آڈیو لیک اسکینڈل کا نوٹس نہیں لیا۔ اس دوران مریم نواز نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کی اور آڈیو کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ بقول حامد میر، میں مریم نواز کے بجائے فواد چودھری، شہزاد اکبر اور شہباز گل سمیت ان کے ہم نواؤں کے مطالبے کی حمایت کرتا ہوں۔ مان لیا کہ احمد نورانی کسی سازش کا حصہ ہیں تو اس سازش کو بے نقاب کرنے کے لیے کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی انکوائری تو ہونی چاہیے۔ ثاقب نثار بطور چیف جسٹس جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم اور مانیٹرنگ ججوں پر بہت اعتماد کرتے تھے۔ اگر اُن پر لگائے جانے والے الزامات غلط ہیں تو اُنہیں خود آگے آنا چاہیے۔ اپنے آپ کو احتساب کے لیے پیش کرنا چاہیے۔ اگر وہ صرف زبانی کلامی تردیدوں پر گزارا کریں گے تو پھر کئی سازشی مفروضے جنم لیں گے۔
حامد میر کہتے ہیں کہ ایک سازشی مفروضہ یہ بھی ہے کہ حکومتی وزراء حب علی میں نہیں بلکہ بغض معاویہ میں عدلیہ سے اس آڈیو اسکینڈل کی تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ وزراء کا خیال ہے کہ تحقیقات میں میاں ثاقب نثار کے ساتھ ساتھ ایک پتھر دل صنم بھی ڈوب جائے گا۔ اگر یہ سازشی مفروضہ درست ہے تو حکومتی وزراء کی عقل پر ماتم کرنا چاہیے کیوں کہ اگر یہ ثابت ہو گیا کہ ثاقب نثار نے کسی پتھر دل صنم کے دباؤ پر نواز شریف کو نااہل قرار دیا تھا تو پھر 2018ء کے الیکشن کی رہی سہی ساکھ بھی ختم ہو جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی فی تولہ قیمت میں 1200 روپے اضافہ

سو باتوں کی ایک بات۔ میاں ثاقب نثار کو چاہیے کہ خود ایک غیر جانبدارانہ تفتیش کا مطالبہ کر دیں۔ اگر ثاقب نثار بےگناہ ہیں تو اس آڈیو کا کسی قابل اعتماد فرانزک ایجنسی سے تجزیہ کرائیں اور اپنے آپ کو قانون کے رحم وکرم پر چھوڑ دیں۔ صرف اتنا کہنا کافی نہیں کہ یہ تو میری آواز ہی نہیں ہے۔ یہ سوال اٹھانا بہت ضروری ہے کہ یہ آڈیو کہاں سے آئی اور اگر یہ اصلی نہیں ہے تو یہ پتا تو لگانا بہت ہی ضروری ہے کہ یہ جعلی آڈیو کس دوست نے کس پتھر دل صنم کو پھنسانے کے لیے تیار کی؟ جس نے بھی آڈیو لیک کی ہے اس کا اصل نشانہ اقب نثار نہیں بلکہ کوئی اور ہے۔

Back to top button