6000 پاکستانی طلبا کا خود کو چین واپس بھجوانے کا مطالبہ


کرونا وائرس کے باعث دو برس سے پاکستان میں پھنسے ہوئے چھ ہزار سے زائد طلبا و طالبات نے وزیراعظم عمران خان سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں چین واپس بھجوانے کے لیے اقدامات کیے جائیں تاکہ وہ اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھ سکیں۔
خیال رہے کہ دو سال قبل شروع ہونے والی عالمی وبا کورونا وائرس کے باعث اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر چین سے واپس پاکستان آنے والے تقریباً 6 ہزار پاکستانی طلبہ کے لیے چین میں اپنی تعلیم دوبارہ شروع کرنا مشکل ہوگیا۔ چین واپس جانے کی تمام تر کوششوں کے بعد ان طلبہ نے اب وزیر اعظم عمران خان سے مداخلت کی اپیل کی ہے تاکہ وہ اپنی پڑھائی کا سلسلہ دوبارہ شروع کر سکیں۔
یاد رہے کہ دسمبر 2019 میں وسطی چین کے صوبہ ہوبی کے دارالحکومت ووہان میں کوویڈ 19 کی وبا پھیلنا شروع ہوئی تھی جس کے بعد لاک ڈاؤن نافذ کرتے ہوئے بیشتر ممالک میں بین الاقوامی آمدورفت معطل کردی گئی تھی۔ ابتدا میں پاکستان نے فیصلہ کیا تھا کہ طلبہ کو واپس نہیں بلایا جائے گا، لیکن بعدازاں والدین اور رشتہ داروں نے احتجاج شروع کردیا تھا جبکہ مسائل اور پریشانیوں کا سامنا کرنے والے طلبہ کی جانب سے بھی سوشل میڈیا پر ویڈیوز پوسٹ کی گئی تھیں۔ جنوری 2020 میں طلبہ واپس پاکستان آگئے تھے اور یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ وہ اسی سال جولائی میں واپس چین چلے جائیں گے۔ اب کورونا وائرس کی وبا پر تقریباً قابو پایا جاچکا ہے لیکن وہ طلبہ جنہوں نے پاکستان میں واقع بیجنگ سفارتخانے میں رجسٹریشن کروائی ہے واپس چین نہیں جاسکتے۔
شنگھائی یونیورسٹی کے پاکستانی طالبعلم عدیل علی نے بتایا کہ انجینئرنگ، میڈیسن، پی ایچ ڈی اور دیگرشعبہ جات کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ جنوری 2020میں پاکستان آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے بیرون ملک مقیم پاکستانی ذوالفقار بخاری نے عدہ کیا تھا کہ جولائی 2020 میں تمام طلبہ کو واپس چین بھیج دیا جائےگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم 2 سال سے پاکستان میں ہوئے ہیں لیکن چین کی جانب سے پاکستانی طلبہ کے لیے اب تک کسی پالیسی کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ عدیل علی نے کہا کہ واپس پاکستان آنے والوں میں طلبہ کی بڑی تعداد شامل تھی لیکن 5 ہزار 875 طلبہ نے پاکستان واقع چینی سفارتخانے میں اپنی رجسٹریشن کروائی تھی اور واپس بھیجنے کا انتظام کرنے کی درخواست کی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ چین میں ہماری یونیورسٹیوں نے ہمیں مطلع کیا ہے کہ ایکس کیٹیگری یعنی تعلیمی ویزے جاری نہیں کیے جا رہے ہیں اور یونیورسٹیز چینی حکومت کی طرف سے کال لیٹر جاری کرنے کے نوٹیفکیشن کا انتظار کر رہی ہیں۔
دوسری جانب پاکستان کمپنی جو ویزے کے لیے طلبہ کے پاسپورٹ جمع کرتی ہے، وہ ایکس کیٹیگری کے پاسپورٹ نہیں لے رہی ہے اور کہہ رہی ہے کہ اس پر پابندی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے 5 اکتوبر اور پھر رواں سال 3 نومبر کو 2 ملاقاتیں کی اور انہوں نے ہمیں اس مسئلے کے حل کی یقین دہانی کروائی، لیکن ہمارے مسئلے کے حل کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ ہم وزیراعظم عمران خان سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہماری مدد کریں اور ہمارا مستقبل محفوظ کریں۔
یہ بھی پڑھیں: گوادر کے حقوق کے لیے دھرنا ختم کیوں نہیں ہو پا رہا؟

ایک پی ایچ ڈی کی طلبہ گُل رعنا کا کہنا تھا کہ ’ہم نے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود سے 2 بار ملاقات کی اور ان سے درخواست کی کہ اس مسئلے کو حل کیا جائے لیکن اس حوالے سےکوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی‘۔انہوں نے کہا کہ 2 ماہ قبل طلبہ نے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے امور نوجوانان عثمان ڈار سے بھی ملاقات کی تھی اور انہوں نے بھی یقین دہائی کروائی تھی کہ وہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔
گزشتہ ہفتے عثمان ڈار نے ایک بار پھر وعدہ کیا کہ وہ یہ مسئلہ حل کریں گے۔ گل رعنا کا کہنا تھا کہ ہم سب ویکسین کی مکمل خوراک لگواچکے ہیں اور چین میں قرنطینہ کے لیے بھی تیار ہیں، لیکن بد قسمتی سے ہمیں ویزہ جاری نہیں کیا جارہا۔میڈیکل کے طالبعلم علی رضا کا کہنا تھا کہ انہوں نے بھی گورنر پنجاب چوہدری سرور سے ملاقات کی لیکن انہیں صرف یقین دہانی کروائی گئی اور عملی طور پر کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔

Back to top button