صافی نے روحانی علاج کرنے والے عراقی کو فراڈیا کیوں قرار دیا؟

معروف اینکر پرسن اور سینئر صحافی سلیم صافی نے کہا ہے کہ نہ جانے اس ملک کو کس نحوست نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے کہ ایک ایسے وقت میں کہ جب پوری دنیا توہمات سے نکل رہی ہے، ہم پر ایسے لوگ مسلط کر دیے گئے ہیں جو توہم پرستی کو فروغ دینے میں مصروف ہیں اور انہیں اندازہ بھی نہیں کہ اس توہم پرستی کا ملک و قوم کو کیا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔
معذور افراد کا روحانی علاج کرنے والے ایک عراقی شہری کی پاکستان آمد پر تبصرہ ہوئے سلیم صافی اسے ایک فراڈیا قرار دے کر کہتے ہیں کہ توہم پرستی اب پاکستان میں ایک وبا کی طرح پھیل رہی ہے۔ انکا کہنا یے کہ ابھی تک دنیا میں پانچ طریقہ ہائے علاج دریافت ہوئے ہیں یعنی ایلوپیتھک، سرجری، ہومیو پیتھک، ہربل اور جھاڑپھونک۔پہلے تین طریقہ ہائے علاج دور جدید کی ایجادات ہیں جبکہ ہر بل یعنی جڑی بوٹیوں کا استعمال قدیم طریقہ علاج ہے۔ کسی حد تک سرجری کو بھی قدیم طریقہ علاج میں شمار کیا جاتا ہے۔ پانچواں طریقہ علاج جھاڑ پھونک منفی بھی ہوا کرتا ہے اور مثبت بھی۔ دراصل جادو ٹونے جیسے شیطانی اعمال کے نتیجے میں جو اثرات مرتب ہوتے ہیں، بعض لوگوں کو اللہ نے اس کے تدارک کا فن بھی عطا کر رکھا ہے لیکن اس کے لئے بھی شرط یہ ہے کہ صرف قرآن و حدیث سے کام لیا جائے اور کہیں بھی کسی بھی شکل میں شرک یا غیر شرعی عمل کی آمیزش نہ ہو۔ تاہم انسانی فطرت ایسی ہے کہ اگر اسے کوئی مسئلہ درپیش ہو تو وہ اس کے حل کے لئے ہر آپشن آزماتا ہے۔ پھر جب معاملہ اولاد یا والدین کا ہو تو انسان کی بے چینی اور بھی شدید ہوتی ہے۔
سلیم صافی کہتے ہیں کہ اولاد میں اگر کسی کو کوئی لاعلاج معذوری لاحق ہو تو یہ والدین کے لئے بہت بڑی آزمائش بن جاتی ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹر طلحہ محمود پر اللہ کریم نے مالی لحاظ سے بڑا کرم کیا ہے لیکن انہیں اس آزمائش میں بھی ڈالا ہے کہ ان کی اولاد میں سے ایک بچی اسپیشل ہے۔ ظاہر ہے انہوں نے اسکے علاج کا ہر ممکن طریقہ آزما لیا لیکن ان کی آزمائش ختم نہیں ہورہی۔ انہیں کسی نے عراق سے تعلق رکھنے والے ملا علی کردستانی کے بارے میں بتا دیا جسکا اصل نام علی محمد حسن ہے۔ کردستانی نے سوشل میڈیا پر اپنی دکان داری کی تشہیر بھی اس انداز میں کی ہے کہ جیسے وہ نعوذ باللہ نابینائوں کو بینائی اور گونگوں کو قوت گویائی دلوا سکتے ہیں۔ بہ ہر حال ڈوبتے کو تنکے کے مصداق سینیٹر طلحہ محمود نے عراقی سفیر سے بات کی اور ان کے ذریعے بھاری خراجات برداشت کر کے ملا کردستانی کو یہاں بلا لیا۔
لیکن بقول صافی، طلحہ اور پاکستانی قوم کی بدقسمتی یہ تھی کہ کردستانی کی پاکستان آمد کاعلم اسپیکر اسد قیصر کو بھی ہوگیا۔ وہ پی ٹی آئی میں آنے سے قبل اسلامی جمعیت طلبہ اور بعدازاں جماعت اسلامی سے وابستہ رہے تھے اور جماعت کے لوگ توہم پرستی سے بہت دور ہوتے ہیں لیکن ایک توہم پرست لیڈر کے ساتھ رہ رہ کر شاید وہ بھی توہم پرست ہو گئے ہیں۔ دوسری طرف پی ٹی آئی کے دیگر حکمرانوں کی طرح وہ بھی اٹھتے بیٹھے ہر کام کی تشہیر کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ اسد جعلی اسمبلی کے اسپیکر ہیں اور عمران خان نے انہیں حقیقی اسپیکر بنانے کے بجائے ڈمی اسپیکر بنا رکھا ہے جہاں وہ اپنی مرضی چلاسکتے ہیں اور نہ اپنے اختیارات استعمال کرسکتے ہیں، اس لئے زیادہ وقت دوروں یا پھر دعوتوں کے اہتمام اور ان کی میڈیاپر تشہیر میں لگاتے ہیں۔ انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ اسپیکر قومی اسمبلی کی حیثیت میں جب وہ اس فراڈیے ملا کے ساتھ وڈیو بنا کر عام کریں گے تو لوگوں کو کیا پیغام جائے گا۔نہ صرف انہوں نے اپنے بچے کی اس شعبدہ بازی کے ذریعے علاج کی وڈیو عام کردی بلکہ پی ٹی آئی کے ایک اور رکن قومی اسمبلی جو خود ڈاکٹر بھی ہیں، کے ساتھ ان کی آڈیو بھی لیک ہوگئی جس میں اسد قیصر صاحب بتارہے تھے کہ عراق سے یہ صاحب آئے ہوئے ہیں جو پلک جھپکتے گونگوں اور نابینائوں کا علاج کرتے ہیں۔
سلیم صافی کہتے ہیں کہ طلحہ محمود کو بھی چاہئے تھا کہ وہ اس فراڈی کو بلانے سے قبل تحقیق کرتے لیکن ان کا تو وہ انفرادی عمل تھا اور صرف اپنے بچے کی خاطر تھا لیکن اس کی تشہیر سے قبل اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے معمولی تحقیق کی زحمت بھی گوارا نہیں کی۔ وہ اگر انٹرنیٹ پر جاتے یا پھر اسمبلی کے سینکڑوں ملازمین میں سے کسی ایک کو تحقیق کا کہتے تو وہاں ان کو دو منٹ کی محنت سے معلوم ہوجاتا کہ ملا کردستانی کتنا بڑا فراڈیا ہے۔ وہ اس فراڈ کی بنیاد پر خود اپنے ملک میں گرفتار ہونے کے بعد اسی فراڈ کی بنا پر سعودی عرب میں گرفتار ہوچکا ہے۔ لیکن ایسی کسی تحقیق کی زحمت گوارا کرنے سے قبل اسد قیصر نے اسے اپنے سرکاری گھر کا مہمان بنایا، ساتھ وڈیو بنائی اور پورے پاکستان کو عذاب میں ڈال دیا جو اسلام آباد کے فائیو سٹار ہوٹل کے باہر ہزاروں کی تعداد میں لائنیں لگا کر علاج کے لیے کھڑے ہو گئے۔
صافی بتاتے ہیں کہ یہ فراڈیا فائیر سٹار ہوٹل کے مزے لینے اور دعوتیں اڑانے کے بعد اب واپس جاچکا ہے لیکن اگر کسی ایک بندے کی بینائی لوٹ آئی ہو یا کسی کی قوت گویائی بحال ہوئی ہو، تو ہمیں بھی آگاہ کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: کرونا نے مزید 7 افراد کی جان لے لی
سوال یہ ہے کہ لاہور، اسلام آباد اور پشاور میں جو لاکھوں بیمار اور ان کے عزیز ذلیل و خوار ہوئے، ان کے ساتھ ہونے والے اس ظلم کا ازالہ کون کرے گا۔ صافی کہتے ہیں کہ نہ جانے اس ملک کو کس نحوست نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے کہ جب پوری دنیا توہمات سے نکل رہی ہے، ہم پر ایسے لوگ مسلط ہوگئے ہیں جو توہم پرستی کو فروغ دے رہے ہیں اور انہیں اندازہ بھی نہیں اس توہم پرستی کا ملک و قوم کو کیا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔ ایک طرف مہنگائی کا عذاب، دوسری طرف بے روزگاری کا عذاب، تیسری طرف حکمرانوں کی بدزبانی کا عذاب اور اوپر سے توہم پرستی کا عذاب۔ اللہ کے بندو کچھ تو اللہ کا خوف کرو۔کچھ تو اس قوم پر رحم کھائو۔
