اسٹیبلشمنٹ شاہد آفریدی کو کس مقصد کے لیے تیار کر رہی ہے؟

کرکٹ کی گراونڈ سے سیاست کے میدان میں اتر کر طاقتور اسٹیبلشمنٹ کی پشت پناہی سے وزیراعظم بن جانے والے عمران خان کے بعد آج کل سوشل میڈیا پر ایک اور پاکستانی کرکٹر کا نام مستقبل کے وزیراعظم کے طور پر زیر بحث ہے۔ سوشل میڈیا پر آج کل اس آل رونڈر کی تصاویر وائرل ہیں جس میں اسے فلاحی کام کرنے کے علاوہ سڑک کنارے گاڑی روک کر نماز ادا کرتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ لیکن کچھ سوشل میڈیا صارفین نے یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ کیسے کوئی فوٹوگرافر ہر لمحے شاہد آفریدی کے ساتھ موجود ہوتا ہے جو ان کی نماز ادا کرنے تک کی تصاویر بھی بنا لیتا ہے۔
آپ سمجھ تو گئے ہوں گے کہ ہم کس کرکٹر کی بات کر رہے ہیں؟ جی ہاں ہم لالہ شاہد آفریدی کی بات کر رہے ہیں۔شاہد آفریدی کو کون نہیں جانتا؟ پاکستان کے مایہ ناز آل راؤنڈر کئی میچز میں پاکستان کو فتح دلوا چکے ہیں اور ان کے مداح صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں موجود ہیں۔ ‘بوم بوم’ کے نام سے مشہور کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان 2018 میں ریٹائرمنٹ لے چکے ہیں۔ لیکن ایسا نہیں کہ وہ گمنامی کے پردوں میں چلے گئے ہوں۔ رواں سال 22 مئی کو جب کراچی میں طیارہ گر کر تباہ ہوا تو انھیں چند فوجی اہلکاروں کے ہمراہ کراچی کی ماڈل کالونی میں حادثے کے مقام پر دیکھا گیا۔ اس موقع پر فوجی اہلکار ان کی تصاویر بھی لیتے دکھائی دیے۔ لیکن یہ بھی پہلا موقع نہیں ہے کہ ان کی ایسی تصاویر انٹرنیٹ پر پھیلی ہوں جن میں ان کی شخصیت کی تشہیر کا عنصر نمایاں ہوتا ہو۔
حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر shahidafridi# اکثر ٹاپ ٹرینڈ بنا خصوصا جب ان کی ‘سماجی خدمات’ کرتے ہوئے تصاویر یکے بعد دیگرے پوسٹ کی جاتی رہیں۔ حالیہ چند ہفتوں میں ان کی ایسی تصاویر کے پھیلاو میں اضافہ دیکھا گیا ہے جن میں کہیں وہ کسی بے گھر شخص کا حال احوال پوچھتے نظر آتے ہیں تو کہیں کسی بچی کے جوتے کے تسمے باندھتے ہوئے۔ ایک تصویر میں تو وہ اپنی ایک مہنگی سپورٹس کار کے ساتھ سڑک کنارے بڑے خضوع وخشوع سے نماز پڑھتے بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس تصویر پر کئی لوگوں نے ان کی ستائش کی تو چند لوگوں نے سوال اٹھایا کہ آخر خدا اور اسکے بندے کے مابین اس انتہائی ذاتی نوعیت کے عمل کی تصویر کھنچوانے اور سوشل میڈیا پر ڈالنے کی کیا تک ہے؟ بظاہر یہ تصویر پرانی ہے لیکن ماہِ رمضان کے آخری دنوں میں یہ ایک مرتبہ پھر وائرل ہونی شروع ہوئی۔
سوشل میڈیا صارفین کو اس بات پر بھی حیرانگی ہے کہ آخر شاہد آفریدی کے ہمراہ ہمیشہ کوئی فوٹوگرافر کیسے موجود ہوتا ہے جو ان کے تمام تر فلاحی کاموں کو ہر وقت کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرنے کے لیے مستعد رہتا ہے؟وہ ملک کے کسی بھی کونے میں موجود ہوں ان کی فلاحی سرگرمیوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ ہوتی رہتی ہیں۔
مرزا غالب تو فرما گئے تھے کہ ’آتے ہیں غیب سے یہ مضامین خیال میں‘۔ اور جب ’بوم بوم آفریدی‘ کی یہی تصویر ان کی ستائش کے ساتھ ایک ہی دن میں لاتعداد مرتبہ کم و بیش ایک ہی طرح کے الفاظ میں ٹویٹ کی جایئں تو معاملہ مشکوک ہونے لگتا ہے۔
لیکن اس ٹرینڈ میں کئی لوگ ایسے بھی شامل رہے جنھوں نے پیار سے ’لالہ‘ کہلائے جانے والے شاہد آفریدی پر کیے جانے والے تمام اعتراضات کو ’نو بال‘ قرار دیا۔ وانیا نامی ایک صارف نے لکھا کہ لوگ شاہد آفریدی سے نفرت کرتے رہیں گے لیکن ان کے پاس ان کی ’لغو‘ باتوں کا جواب دینے کا بھی وقت نہیں ہے۔ چند لوگوں کو شاہد آفریدی کے حق میں چلائے جانے والے اس ٹرینڈ اور ان کی حالیہ ’رونمائی‘ میں بھی سیاسی مقاصد نظر آ رہے ہیں۔ اور یہ بات ان کے ناقدین تو دور ان کے مبینہ حامیوں بھی کہہ رہے ہیں جن میں سے کئی ان کی وزیرِ اعظم عمران خان کے ساتھ لی گئی تصاویر پوسٹ کر کے لکھتے رہے: ملک کا موجودہ وزیرِ اعظم مستقبل کے وزیرِ اعظم کے ساتھ۔
ایک مبینہ طور پر تعریفی ٹویٹ میں ہی ذیشان منیر نامی ایک صارف نے تو یہاں تک لکھ ڈالا کہ ’نیا وزیرِ اعظم تیاری کے مرحلے میں ہے۔‘ ساتھ میں انھوں نے جہاں ان کے فلاحی کاموں کی تصاویر پوسٹ کیں تو وہیں ایک ایسی تصویر بھی جس میں شاہد آفریدی پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور سابق ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل عاصم سلیم باجوہ کے ساتھ براجمان ہیں۔ اب یہ تو ہوئی لوگوں کی رائے، کہ وہ کرکٹ کی دنیا میں اپنے سابق قومی ہیرو کو مستقبل میں کس کردار میں دیکھنا چاہتے ہیں یا نہیں دیکھنا چاہتے، لیکن شاہد آفریدی خود بار بار اس بات کا اعادہ کر چکے ہیں کہ وہ سیاست میں نہیں آنا چاہتے۔
پاکستانی ٹی وی چینل جیو نیوز کے پروگرام جرگہ میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ وہ حلفیہ طور پر کہہ سکتے ہیں کہ ان کا سیاست کی طرف کوئی رجحان نہیں ہے۔ 25 اپریل 2020 کو نشر ہونے والے اس پروگرام میں انھوں نے وزیرِ اعظم عمران خان کے کابینہ کے ارکان پر بھی کسی کا نام لیے بغیر تنقید کی تھی۔ اس کے چند ہفتوں بعد مئی 2020 میں ہی انھوں نے اپنے ایک خطاب میں انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ’کرونا وائرس سے بھی بڑی بیماری ہیں۔‘ ان کا یہ خطاب بھی فوجی اہلکاروں کی موجودگی میں کیا گیا تھا۔ شاہد آفریدی نے بظاہر پاکستان اور انڈیا کے درمیان 27 فروری 2019 کو ہونے والی عسکری جھڑپ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہم نے تو اُن کے چوزوں کو ہوا میں مارا، چائے پلا کر واپس بھجوایا ہے عزت کے ساتھ۔‘ تو سوال ایک مرتبہ پھر وہی ہے کہ اگر شاہد آفریدی بذاتِ خود سیاست میں بھی نہیں آنا چاہتے اور صرف ان کے بقول فلاحی کام ہی کرنا چاہتے ہیں، تو سوشل میڈیا پر ان کی اس پروموشن ک اصل مقصد کیا ہے؟ کہیں واقعی ایسا تو نہیں کہ ریٹائرمنٹ کے بعد اسٹیبلشمینٹ ان سے کوئی بڑا کام لینا چاہتی ہے؟
