اسٹیبلشمنٹ کیوں نہیں چاہتی کہ پرویز رشید دوبارہ سینیٹر بنیں؟

سینیٹ الیکشن سے چند روز پہلے ن لیگ کے دو نمایاں اینٹی اسٹیبلشمنٹ رہنماؤں اور ٹکٹ ہولڈرز میں سے ایک مشاہد اللہ خان طبعی موت کا شکار ہو گئے جبکہ دوسرے امیدوار پرویز رشید کے کاغذاتِ نامزدگی اس بنیاد پر مسترد کر دیئے گئے کہ انہوں نے پنجاب ہاؤس اسلام آباد کے واجبات ادا نہیں کیے تھے۔ یوں تکنیکی بنیادوں پر سخت اینٹی اسٹیبلشمینٹ سمجھے جانے والے نرم گفتار پرویز رشید کا راستہ روکنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ دوسری طرف پرویز رشید کا کہنا ہے کہ وہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کریں گے اور انہیں پوری امید ہے کہ انہیں الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت مل جائے گی۔ تاہم اگر ایسا نہ ہوسکا تو یہ مسلم لیگ نون کے لیے سینٹ میں ایک بڑا دھچکا ثابت ہوگا خصوصا جب مشاہد اللہ خان بھی اس دنیا میں نہیں رہے۔
یاد رہے کہ تحریک انصاف نے مسلم لیگ (ن) کے پرویز رشید پر اہم قومی راز افشاں کرنے، اداروں کے خلاف بات کرنے اور پنجاب ہاوَس کے 95 لاکھ روپے کے نادہندہ ہونے کی بنیاد پر اعتراضات داخل کیے تھے۔ ریٹرننگ افسر نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد پرویز رشید کے کاغذات نامزدگی اس بنیاد پر مسترد کردیئے کہ وہ پنجاب ہاؤس اسلام آباد کے ڈیفالٹ ہیں۔ دوسری طرف سینیٹر پرویز رشید کا کہنا ہے کہ انہیں ان خفیہ قوتوں کی ایما پر پر نااہل قرار دیا گیا ہے جو ماضی میں بھی ان کی مخالفت کرتی رہی ہیں۔ پرویز رشید کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن اس وقت وزیراعظم عمران خان کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے۔ پرویز رشید نے الزام لگایا کہ پنجاب ہاؤس میں قیام کو بنیاد بناتے ہوئے ان پر تین گنا زیادہ چارجز عائد کیے گئے تھے۔ انہوں نے اس بل کو چیلنج کیا تھا مگر بات نہ بننے کے بعد وہ ان تمام واجبات کی ادائیگی پر بھی رضامند ہو گئے لیکن حکومتی اداروں نے سوچی سمجھی سکیم کے تحت واجبات وصولی میں تاخیری حربے استعمال کئے اور بالآخر اسے بنیاد بناتے ہوئے سینیٹ الیکشن میں حصہ لینے سے روک دیا گیا۔ پرویز رشید کا کہنا ہے کہ وہ اس ناانصافی کے خلاف نہ صرف الیکشن کمیشن میں اپیل کر رہے ہیں بلکہ عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹائیں گے۔
واضح رہے کے سینیٹر پرویز رشید نہ صرف میاں نواز شریف کے انتہائی قریب سمجھے جاتے ہیں بلکہ مریم نواز کے سیاسی اتالیق بھی مانے جاتے ہیں۔ مریم بھی انہیں اپنا استاد مانتی ہیں اور کہا جاتا ہے کہ جاتا ہے کہ انکے اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے کے پیچھے دراصل پرویز رشید ہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کی طاقتور اسٹیبلشمنٹ کے نزدیک پرویز رشید کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ یاد ریے کہ ماضی میں پرویز رشید کا نام ڈان لیکس میں بھی آیا اور ان پر یہ الزام لگایا گیا کہ فوجی قیادت کے ساتھ ہونے والی اعلی سطح حکومتی میٹنگ سے متعلق معلومات پرویزرشید نے ڈان اخبار کو فراہم کیں۔ اس سکینڈل کے بعد پرویز رشید کو وزارت اطلاعات سے ہٹا دیا گیا تھا۔ تاہم دوسری جانب پرویزرشید پر اعتماد ہیں کہ انہیں ریلیف ملے گی جس کے بعد وہ سینیٹ انتخابات میں حصہ لے کر ایک مرتبہ پھر کامیاب ہوں گے۔
بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ کالج کے زمانے میں پرویز رشید ، لاطینی امریکہ کے انقلابی رہنما چی گیویرا سے بے حد متاثر تھے۔ لمبی زلفیں ہی ان کی پہچان تھیں۔ ڈاکٹر رشید حسن کی قیادت میں قائم بائیں بازو کے طلبہ کی تنظیم نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن میں پرویز رشید کا طوطی بولتا تھا۔ بائیں بازو کے افکار کی وجہ سے پرویز رشید اس زمانے میں ذوالفقار علی بھٹو کے شیدائی تھے اور سالہا سال تک پیپلز پارٹی کا حصہ رہے۔ گورڈن کالج راولپنڈی کی سٹوڈنٹس یونین کے انتخابات میں ان کا مقابلہ دائیں بازو کے طالبعلم رہنما شیخ رشید احمد سے ہوا جس میں پرویز رشید کو شکست ہوئی لیکن چند برس بعد سیاسی سفر میں دونوں کا مسلم لیگ (ن) کے پلیٹ فارم پر ملاپ ہو گیا۔ تاہم چار عشرے قبل کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ دونوں میدان سیاست میں اپنا نام پیدا کریں گے۔ 80ء کے عشرے میں پرویز رشید کو نواز شریف کی ایسی قربت حاصل ہوئی کہ ان ہی کے ہو کر رہ گئے۔ سرد گرم موسم ہو یا ابتلا کا دور ہو انہوں نے نواز شریف کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ جب 12اکتوبر 1999 کو جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹا تو اس وقت پرویز رشید ہی تھے جنہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن کے سربراہ کی حیثیت سے جنرل پرویز مشرف کی برطرفی کی اپنے ہاتھوں سے لکھی خبر ٹیلی کاسٹ کروائی تھی۔ اس خبر کے ٹیلی کاسٹ ہونے کے کچھ دیر بعد ہی فوج نے ٹیلی ویژن کی بلڈنگ پر قبضہ کر لیا تھا۔ پرویز رشید کو گرفتار کرکے زندان میں ڈال دیا گیا اور پھر ان کے ساتھ جو سلوک کیا گیا اس کی کوئی مہذب معاشرہ اجازت نہیں دیتا۔
بعد ازاں پرویز رشید نے پرویز مشرف کے تمام مظالم برداشت کئے لیکن اپنی سیاسی وفاداری تبدیل نہیں کی۔مشرف کے دور میں ان کا تمام کاروبار تباہ ہو گیا وہ برطانیہ میں جلاوطنی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو گئے۔ جب نواز شریف نے جلاوطنی کی زندگی ترک کرکے پاکستان آنے کا فیصلہ کیا توان کے ساتھ واپس آنے والوں میں پرویز رشید بھی تھے جن کی برطانیہ میں سات سال کے قیام کے بعد سیاسی پناہ کو غیر معینہ مدت کے قیام میں تبدیل ہو جانا تھا لیکن انہوں نے اپنے ہی ملک کے گرم ماحول میں واپس جا کر نواز شریف کی قیادت میں سیاست کرنے کا فیصلہ کیا۔ 2009 میں وہ ایوان بالا کے دوبارہ رکن منتخب ہو گئے ایک بار پھر وہ پارٹی کے ان چیدہ رہنمائوں میں شمار ہونے لگے جن سے نواز شریف مشاورت کرتے ہیں۔ جب 2013 میں وزیر اعظم نواز شریف کی تیسری بار حکومت بنی تو پرویز رشید کو وزارت اطلاعات کا قلمدان سونپا گیا۔ اس دوران پرویز رشید نے میڈیا کے محاذ پر عمران خان کے الزامات کا ترکی بہ ترکی جواب دے کر ماہر عمرانیات کا خطاب حاصل کر لیا تھا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اسٹیبلشمینٹ مخالف پرویز رشید کو دوبارہ سینیٹ کا الیکشن لڑ کر ایوان بالا کا حصہ بننے کا موقع ملتا ہے یا نہیں؟
