لاپتہ بلوچ افراد کے معاملے پر حکومت اوراسٹیبلشمنٹ تنقید کی زد میں


اسلام آباد میں لاپتہ بلوچ افراد کے لواحقین کے دھرنے میں مریم نواز کی شرکت اور مظلوم عورتوں اور بچیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے بعد سے حکومت وقت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ اس معاملے پر بے حسی دکھانے کے باعث سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے تنقید کی زد میں ہے۔
یاد رہے کہ 17 فروری کے روز مریم نواز نے اسلام آباد میں میں لاپتہ بلوچ افراد کے دھرنے میں شامل ہو کر وزیر اعظم اور آرمی چیف سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ گم کر دیے جانے والے افراد کے اہلخانہ کو آگاہ کریں کہ آیا اُن کے پیارے زندہ ہیں یا مر چکے ہیں۔ لاپتہ افراد کے اہلخانہ سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کے لواحقین بھی عزت دار لوگ ہیں جو اسلام آباد کی سڑکوں پر سردی کے موسم میں کھلے آسمان تلے بیٹھے ہوئے ہیں مگر ان کا کوئی پُرسان حال نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی یاد رکھیں کہ روز محشر انہوں نے اللہ تعالی کو جواب دینا ہے۔ مریم کا مزید کہنا تھا کہ روز آخرت عمران خان نے ایجنسیوں کو نہیں بلکہ اللہ کو جواب دینا ہے اس لیے انہیں چاہیے کہ وہ لاپتہ ہونے والے بلوچ افراد کے لواحقین کا دکھ کم کرنے کی کوشش کریں۔ یاد رہے کہ پچھلے کئی برسوں سے مبینہ طور پر ایجنسیوں کے ہاتھوں لاپتہ کیے جانے والے افراد کے اہلخانہ بشمول خواتین اسلام آباد میں ایک ہفتے سے دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔ دوسری طرف ادھر وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا یے کہ لاپتہ افراد کے قانون سے متعلق وزیر اعظم عمران خان نے وزیر قانون کو سخت ہدایات دی ہیں کہ اس حوالے سے بل کو فی الفور پر تیار کیا جائے اور اس کا کوئی طریقہ کار ہونا چائیے۔ تاہم اس حوالے سے ابھی تک عملی طور پر کچھ بھی نہیں کیا جا سکا اور لاپتہ افراد کے اہلخانہ ابھی تک اسلام آباد کے ڈی چوک میں دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔
17 فروری کو مریم نواز نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں صرف اتنا پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا مجبوریاں فرض سے بڑی ہوتی ہیں۔‘ ’ریاست کا فرض ہے، ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے اگر آپ انھیں زیادہ نہیں بتا سکتے تو یہ تو بتا سکتے ہیں کہ وہ زندہ ہیں یا مر گئے ہیں۔ اُن کے دل کو تو قرار آئے گا۔‘ مریم نواز نے اپنے بیان میں وزیراعظم عمران خان کو پیغام دیتے ہوئے کہا تھا ’وزیراعظم ہاؤس اتنا دور تو نہیں ہے پانچ منٹ کا راستہ بھی نہیں ہے آپ ان لوگوں کے پاس آئیں۔عمران خان نے ایجنسیوں کو جواب نہیں دینا، اللہ کو جواب دینا ہے۔ یہ زندہ لاشیں ہیں ان کی بات سُنیں اور اُن کے سر پر ہاتھ رکھیں۔ میرا خیال ہے کہ اس سے ان کی تسلی ہو جائے گی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اگر وزیراعظم لاپتہ افراد کے لواحقین کے پاس نہیں آ سکتے تو پھر ’بلیک میل نہیں ہوں گا‘ جیسے بیانات نہ دیں اور اپنے وزرا کو بھی بیانات دینے سے منع کریں۔ ’خدا کا واسطہ ہے جو مظلوم ہوتا ہے اس کا کوئی صوبہ نہیں ہوتا ہے۔ یہ لوگوں کے زخم پر نمک نہ چھڑکیں۔ وزرا کو منع کریں کہ ان کے زخموں پر نہ نمک چھڑکیں۔‘
دوسری طرف حسب معمول فواد چوہدری نے اس معاملے پر ایک عجیب بیان داغ دیا جس کی وجہ سے اب وہ سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں ہیں۔ فواد نے ٹوئٹر پر لکھا کہ یہ بلوچ مائیں پنجاب میں ہی احتجاج کر سکتی ہیں کیوں کہ یہاں کوئی ان کے شناختی کارڈ دیکھ کر انکو گولی نہیں مارے گا، لیکن پنجاب کی ان ماؤں کے دُکھ کا کیا کریں جن کے بچوں کو بسوں سے نکال کر صرف پنجابی ہونے کی بنا پر بلوچستان میں گولیوں سے چھلنی کیا جاتا ہے؟ یہ بھی ظلم ہے اور خون کا رنگ پنجابیوں کا بھی لال ہی ہے۔‘ درحقیقت فواد چوہدری نے ٹویٹ سوشل میڈیا صارف طوبیٰ سید کی ایک ٹویٹ کے جواب میں پوسٹ کی ہے۔ طوبی سید نے لکھا تھا کہ ’بلوچ مائیں ڈی چوک کی جانب واک کر رہی ہیں، اپنے بیٹوں کے لیے انصاف کا تقاضہ کرنے کے لیے اور ان کی گھروں کو محفوظ واپسی کے لیے۔ سال ہا سال گزر گئے ہیں مگر یہ عورتیں اپنے بچوں کی منتظر ہیں۔‘ یاد رہے کہ بلوچ لاپتہ افراد کے اہلخانہ کا یہ کیمپ سات روز سے اسلام آباد میں پریس کلب کے سامنے لگایا گیا تھا۔ اس کیمپ میں موجود افراد میں سے بیشتر بلوچ خواتین ہیں جن کے ہمراہ بچے بھی ہیں جبکہ مردوں کی تعداد خواتین کے مقابلے میں کم ہے۔ یہ خواتین اور بچے اب ڈی چوک تک مارچ کر کے وہاں دھرنا دیے ہوئے ہیں۔
طوبیٰ سید کی جانب سے کی جانے والی ٹویٹ پر فواد چوہدری کا جواب بہت سے سوشل میڈیا صارفین کو کچھ اچھا نہیں لگا اور انھوں نے اسے لاپتہ افراد کے مسئلے سے ’توجہ ہٹانے‘، لاپتہ افراد کے اہلخانہ کی ’توہین‘ اور ’صوبائیت کو ہوا دینے‘ کی کوشش قرار دیا ہے۔ لیکن ایسے صارفین بھی دکھائی دیے جنھوں نے وفاقی وزیر کی توثیق کی۔ فواد چوہدری نے کہا کہ ان کی ٹویٹ پر لوگ اُن پر تنقید نہیں کر رہے بلکہ ان کی تعریف کی جا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’پنجاب کے لیے بات کریں تو تنقید ہو جاتی ہے باقیوں کے لیے کریں تو ٹھیک ہے۔۔۔۔ میری ٹویٹ کو کوئی غلط نہیں لے رہا صرف وہ لوگ تنقید کر رہے ہیں جن کے ویسٹڈ انٹرسٹ ہیں۔‘
سماجی کارکن ندا کرمانی نے فواد کو جواب دیتے یوئے لکھا کہ ’کیا آپ ایسے ماؤں کو جواب دیتے ہیں۔ آپ سمجھتے ہیں کہ وہ ان لوگوں کی اموات کی ذمہ دار ہیں؟ اور یہ اموات کیا ریاست کے تشدد کو جواز دیتی ہیں؟ آپ کی ٹویٹ نے لسانی نفرت پیدا کی ہے جو یہ تاثر دیتی ہے کہ بلوچ اجتماعی طور پر اس کے ذمہ دار ہیں اور اس لیے انھیں اجتماعی سزا ملنی چاہیے۔‘ رابعہ محمود نامی صارف نے فواد چوہدری کی ٹویٹ پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ’یہ غمزدہ بلوچ ماؤں کی بے عزتی کرنے اور بلوچستان میں پنجابی مزدوروں کو نشانہ بنانے اور دو دہائیوں سے بلوچوں کی ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیوں کو ایک جیسا معاملہ قرار دینے کی سوچی سمجھی کوشش ہے۔‘ انھوں نے لکھا کہ یہ تو ایسا ہی ہے کہ آپ شدت پسندوں اور پاکستان کی سکیورٹی ایجنسیز کو ایک جیسا دکھائیں۔
مزمل رحیم نے فواد کی ٹویٹ کے جواب میں لکھا کہ ’یعنی آپ ہمیں سمجھا رہے ہیں کہ ہم ہی بےوقوف ہیں جو آپ سے امید لگائے بیٹھے ہیں۔‘ ٹوئٹر صارف الیہہ ملک نے فواد چوہدری کے ردعمل کو ’حیران کُن‘ قرار دیتے ہوئے کہا اور لکھا کہ جب ایک حکومتی نمائندہ ہی ایسی باتیں کرتا ہے تو ہم دوسروں سے کیا گلہ کریں۔‘ ثاقب جنجوعہ نے چوہدری فواد کے نام پیغام لکھا ’جناب والا یہ اچھا موازنہ نہیں ہے۔ براہ کرم پنجاب، بلوچ کارڈ سے پرہیز کیجیے۔ آئینی طور پر یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم انھیں سُنیں۔‘ ایک صارف کا کہنا تھا کہ فواد چوہدری کی ٹویٹ معصوم بلوچوں کے ذہنوں میں لسانی تعصب اور اشتعال پیدا کرے گی۔ انھوں نے سوال کیا کہ ’کیا آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ ان اندہوناک واقعات کے لیے یہ مائیں بہنیں ذمہ دار ہیں۔‘ عدنان خان محمود نے ٹوئٹ کی کہ ’یہ احتجاج وفاقی دارلحکومت میں ہو رہا ہے۔ بحثیت حکومتی نمائندہ آپ کو یہ تفریق نہیں کرنی چاہیے تھی۔ کیونکہ ریاست ماں ہوتی ہے۔ لیکن آپ کی تحریر سے لگ رہا ہے کہ ریاست بلوچوں کے لیے سوتیلی ماں کا کردار ادا کر رہی ہے۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button