کیا ڈسکہ اور وزیر آباد کے ضمنی الیکشن PMLN جیتنے والی ہے؟

سندھ اور بلوچستان کی تین صوبائی نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے کلین سویپ نے حکمران جماعت پی ٹی آئی کیلئے خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہے۔ سانگھڑ اور کراچی میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں جہاں پیپلز پارٹی نے میدان مار لیا ہے وہیں پشین میں اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے مشترکہ امیدوار نے بڑے مارجن سے کامیابی کے جھنڈے گاڑے ہیں۔ ضمنی انتخابات میں ایک طرف پی ٹی آئی کو شکست فاش ہوئی ہے دوسری طرف حکمران جماعت کے ووٹ بینک میں بھی کمی واقع ہوئی ہے اور تینوں صوبائی حلقوں میں تحریک انصاف کو عام انتخابات کی نسبت کئی گنا کم ووٹ کاسٹ ہوئے ہیں جس سے اس کی بڑھتی ہوئی عدم مقبولیت کا اظہار ہوتا ہے۔
اب یہ اطلاعات ہیں کہ سندھ اور بلوچستان میں شکست کھانے کے بعد حکمران جماعت میں پنجاب کے ضمنی انتخابات کے حوالے سے پریشانی پیدا ہو چکی ہے کیونکہ پنجاب میں پی ٹی آئی کا مقابلہ مسلم لیگ ن سے ہے اور پیپلز پارٹی اسے سپورٹ کر رہی ہے۔ ضمنی انتخابات کے حوالے سے عام تاثر یہی پایا جاتا ہے کہ ان کے نتائج حکمران جماعت کے حق میں ہی زیادہ آتے ہیں کیونکہ عوام سمجھتے ہیں کہ جیتنے والی پارٹی ان کے مسائل زیادہ احسن طریق سے حل کر سکتی ہے۔ لیکن جب بات پنجاب کی ہو اور حکمراں سیاسی جماعت تحریک انصاف کے مقابلے میں مضبوط اپوزیشن مسلم لیگ ن میدان میں آئے تو بات روایتی تجزیے سے آگے نکل جاتی ہے کیونکہ اسووت ن لیگ نہ صرف پنجاب کی سب سے مقبول اپوزیشن پارٹی ہے بلکہ صوبے میں دس سال حکومت بھی کر چکی ہے جس کی وجہ سے کپتان سرکار کو پنجاب کے ضمنی انتخابات میں ٹف ٹائم ملنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ پنجاب میں 19 فروری کو قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی ایک ایک نشست پر انتخابات ہو رہے ہیں۔ قومی اسمبلی این اے 75 ضلع سیالکوٹ کی تحصیل ڈسکہ کی نشست لیگی ایم این اے سید افتخار الدین عرف ظاہرے شاہ کی اگست 2020 میں وفات کے بعد خالی ہوئی تھی جبکہ صوبائی اسمبلی پی پی 51 ضلع گوجرانوالہ شہر وزیر آباد کی نشست ن لیگ کے ہی ایم پی اے چوہدری شوکت منظور چیمہ کی جون 2020 میں کورونا کے باعث وفات کے باعث خالی ہوئی تھی۔
مسلم لیگ ن نے دونوں نشستوں پر ضمنی انتخابات کے لیے جو امیدوار دیے ہیں وہ دونوں خواتین ہیں۔ حلقہ این اے 75 پر نوشین افتخار کو پارٹی ٹکٹ دیا گیا ہے جو کہ مرحوم سید افتخار الدین کی صاحبزادی ہیں۔ اسی طرح پی پی 51 پر ٹکٹ چوہدری شوکت منظور چیمہ کی اہلیہ طلعت منظور چیمہ کو دی گئی ہے جبکہ دونوں نشستوں پر تحریک انصاف کی طرف سے بالترتیب علی اسجد ملہی این اے 75 کے لیے جبکہ چوہدری محمد یوسف کو پی پی 51 کے لیے ٹکٹ دیا گیا ہے۔ پیپلزپارٹی نے دونوں حلقوں میں اپنے امیدواروں کو نواز لیگ کے حق میں بٹھا لیا ہے۔ یعنی اپوزیشن اتحاد پی ڈیم ایم بھی ان دونشستوں پر حکمراں جماعت کے لیے سر درد ہوگا۔ سیاسی پنڈتوں کے مطابق پی پی 51 میں پیپلزپارٹی کا اچھا خاصہ ووٹ بنک ہے اور یہاں سے انہوں نے پنجاب کے نائب صدر اعجاز سمن کو ٹکٹ دے رکھا تھا۔
سیاسی تجزیہ کار عارف نظامی سمجھتے ہیں کہ ’ڈسکہ کی سیٹ پر ن لیگ کی گرفت مضبوط ہے کیونکہ یہ مرحوم ظاہرے شاہ کی گھر کی سیٹ سمجھی جاتی ہے وہ 1990 سے اس نشست سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ وہ ایم پی اے بھی منتخب ہوئے اور ایم این اے بھی اب ن لیگ نے ان کی صاحبزادی کو ٹکٹ دے کر ایک اچھی حکمت عملی اپنائی ہے اور اس حلقے کے ووٹ بنک کو محفوظ رکھا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے اسجد ملہی بھی ویسے تو ایک مضبوط امیدوار ہیں لیکن آپ ان سے اپ سیٹ کی توقع نہیں کر سکتے۔ ’ظاہرے شاہ کا اپنا ذاتی ووٹ بنک بھی موجود ہے۔ میرے خیال میں تو یہاں کہانی واضح ہے۔ لیکن الیکشن کے نتائج بہرحال اہم ہوں گے کیوںکہ اس سے تحریک انصاف کی ساکھ کو بھی پرکھا جائے گا کیونکہ پنجاب میں ایک بڑے عرصے کے بعد انتخاب ہو رہے ہیں اور اس دوران کئی طرح کی تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں۔ کووڈ گزرا ہے مہنگائی ایک نئی سطح پر پہنچی ہے۔ تو تحریک انصاف کو اس حوالے سے بھی خاصے چیلنجز درپیش ہیں۔‘
جبکہ حلقہ پی پی 51 پر سیاسی تجزیہ کار سلمان غنی کا کہنا ہے کہ ضمنی انتخابات عام انتخابات سے مختلف ہوتے ہیں اور ان کا ٹرن آؤٹ بھی الگ ہوتا ہے۔ ’اس وجہ سے بھی عام طور پر حکمراں جماعت کو فائدہ ہوتا ہے لیکن اس بار صورت حال مختلف ہے یہ روایتی ضمنی انتخاب نہیں اور ہم نے دیکھا ہے کہ تحریک انصاف نے اس طرح سے گرم جوشی سے کیمپین بھی نہیں کی ہے۔ نتائج کچھ بھی ہوں بہرحال چند روز تک ٹیلی ویژنز کے لیے مواد ضرور میسر آجائے گا۔‘
خیال رہے کہ ڈسکہ اور وزیرآباد کی نشستوں پر ہونے والے ان انتخابات میں مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے بھی انتخابی مہم کی قیادت کی ہے اور ان دونوں حلقوں میں انہوں نے ریلیاں بھی نکالی ہیں۔ مسلم لیگ کا یہ بھی الزام ہے کہ پنجاب کے ان دونوں حلقوں میں حکومتی مشینری اور ریاستی طاقت کو لیگی امیدواروں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ تاہم عمومی تاثر یہی ہے کہ اگر الیکشن والے دن 2018 الیکشن والی کوئی واردات نہ ہوئی تو نواز لیگ یہ دونوں نشستیں بڑی اکثریت سے جیت جائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button