پمز سانحہ : ہسپتال انتظامیہ نے ابتدائی رپورٹ تیار کرلی

 

 

 

اسلام آباد کے پمز ہسپتال کے گائنی وارڈ میں پیش آنے والے المناک سانحے کی ابتدائی رپورٹ سامنے آگئی ہے، جس میں آکسیجن سسٹم سے آگ بھڑکنے اور دھویں کے باعث نومولود بچوں کی اموات کی وجوہات بیان کی گئی ہیں۔

پمز انتظامیہ کی جانب سے تیار کردہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق این آئی سی یو میں انکیوبیٹر کے ساتھ نصب آکسیجن کی مقدار بتانے والا نیبولائزر پھٹ گیا، جس کے بعد آکسیجن نے آگ پکڑلی۔ آگ سے پیدا ہونےوالا دھواں پائپ کے ذریعے بچوں کے سانس میں داخل ہوا۔

رپورٹ کے مطابق بچوں کی اموات آکسیجن کی فراہمی متاثر ہونے اور جھلسنے کے باعث ہوئیں۔ابتدائی طور پر آگ کم شدت کی تھی تاہم بعد ازاں تیزی سے پھیل گئی۔

یاد رہے کہ پمز ہسپتال کے گائنی وارڈ میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں 15 نومولود بچے جاں بحق ہوئے۔ریسکیو اور ہسپتال انتظامیہ کے مطابق آگ ایئرکنڈیشنر کا کمپریسر پھٹنے کے باعث لگی جب کہ آکسیجن سلینڈرز کی موجودگی کے باعث آگ نے تیزی سے شدت اختیار کی۔ ایک نومولود کو بحفاظت بچا لیا گیا۔

سانحے میں جاں بحق بچوں کی میتیں ورثا کو دے دی گئیں۔ والدین اور عینی شاہدین نے نرسری میں عملے کی غیرموجودگی اور دروازے بند ہونے کا الزام عائد کرتےہوئے ریسکیو اداروں کے دیر سے پہنچنے کی شکایت کی۔

سانحہ پمز: سب سے پہلے خود کو احتساب کےلیے پیش کرتا ہوں ، وفاقی وزیر صحت

ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز نے عملے کی غیرموجودگی کے الزام کو مسترد کرتےہوئے کہاکہ آئی سی یو میں 2 ڈاکٹرز، 4 نرسز اور دیگر عملہ موجود تھا،ہسپتال میں تسلی بخش فائر سسٹم موجود تھا۔

 

Back to top button