سانحہ پمز،پیپلزپارٹی کاوزیرصحت سےمستعفیٰ ہونےکامطالبہ

پاکستان پیپلز پارٹی نے سانحہ پمز میں 15بچوں کے جھلس کرجاں بحق ہونے کے واقعہ کے بعدوفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کے استعفےکا مطالبہ کردیا۔
رہنما پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے پمز ہسپتال میں میڈیا سےگفتگو میں کہا کہ فائر ٹینکس میں پانی نہیں تھا، ڈاکٹرز نہیں تھے،گیٹ بند تھے، ہم یہاں سیاست کرنے نہیں آئے لیکن ہماری ذمہ داری ہے واقعے پر پوچھا جائے، ذمہ دار وزیرکو خود استعفیٰ دینا چاہیے۔
سینئررہنما پیپلزپارٹی نیئربخاری نےکہا کہ ایک سیکرٹری صحت کو عہدے سے ہٹانا کافی نہیں، وفاقی وزارت صحت سے2ہسپتال سنبھالے نہیں گئے۔پورے ملک کےہسپتال کیسے سنبھالتے ہیں، وزارت صحت کو جواب دہ ہونا چاہیے یہ واقعہ کیوں ہوا، وزارت کو دیکھنا چاہیے تھا کہ پمز کی انتظامیہ کیا کرتی ہے۔
ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے کہا کہ پمزہسپتال میں 15معصوم بچوں کی اموات محض حادثہ نہیں، یہ وفاقی نظام صحت کی سنگین ناکامی اور انتظامی غفلت کامعاملہ ہے، وفاقی وزیر صحت کو اس ناکامی کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔
دوسری جانب پمز ہسپتال میں ہونے والے سانحے پرانتظامیہ نےابتدائی رپورٹ تیار کرلی۔
ابتدائی رپورٹ کے مطابق این آئی سی یو میں انکوبیٹر کے ساتھ آکسیجن کی مقدار بتانے والا نیبولائزر پھٹا جس سے آکسیجن نے آگ پکڑ لی۔
ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آگ سے دھواں پیدا ہوا اور وہ پائپ کےذریعہ بچوں کے سانس میں گیا، بچوں کی موت آکسیجن بند ہونے اور جھلسنے سے ہوئی۔
انتظامیہ کی جانب سے تیار کی گئی ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا کہ آگ پہلے کم تھی پھر تیزی سے پھیلی۔
