اسٹیبلشمنٹ کے حواری صادق سنجرانی کی کہانی

فوجی اسٹیبلشمنٹ کی عسکری نرسری میں پروان چڑھ کر سینیٹ چئیرمین بننے والے نرم گفتار صادق سنجرانی ایک روایتی موقع پرست سیاستدان ہیں جو ہواؤں کے مطابق اپنا رخ بدلنا خوب جانتے ہیں۔ صادق سنجرانی کا تعلق بلوچستان کی ایرانی سرحد سے متصل علاقے ضلع چاغی کی تحصیل نوکنڈی سے ہے۔ ان کی سیاسی زندگی پر نظر دوڑائی جائے تو ان کا چیئرمین سینیٹ بننے سے قبل کوئی سیاسی پس منظرنہیں۔ وہ ایک کاروباری شخصیت رہے ہیں، جنہوں نے نواز دور میں وزیراعظم ہاؤس تک رسائی حاصل کی اور 1998 میں وزیراعظم نواز شریف کے کوآرڈینیٹر رہے۔ 2008 میں جب یوسف رضاگیلانی وزیراعظم تھے تو صادق سنجرانی ان کے بھی کوآرڈینیٹر رہے۔ان کی تقرری بحیثیت چیئرمین سینیٹ تب ہوئی جب بلوچستان کے حالات انتہائی خراب تھے اور مشرف کے حکم پر ایک فوجی آپریشن میں بزرگ سیاستدان نواب اکبر خان بگٹی کو قتل کر دیا گیا تھا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق تب بلوچستان کے حالات میں بہتری لانے اور تناؤ کو کم کرنے کے لیے کسی بلوچ کو مرکز میں لانا تھا، جس کے لیے صادق سنجرانی کو چنا گیا۔
لیکن جس مقصد کے لیے صادق سنجرانی کو ایک بڑے عہدے پر فائز کیا گیا اس سے بلوچستان میں کچج ایسا نہ ہو سکا جو یہاں کے حالات کو بہتر کرنے میں کارآمد ثابت ہوتا۔ ویسے بھی صادق سنجرانی عوام کے نمائندے نہیں تھے بلکہ اسٹبلشمنٹ کے گماشتے تھے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر سنجرانی کے دور کو دیکھا جائے تو نظر آئے گا کہ انہوں نے بلوچستان کے حالات کو تبدیل کرنے یا ان کو بہتر نے کے لیے کوئی کوشش نہیں کی اور صرف عسکری قوتوں کو خوش کرنے میں لگے رہے جس کے عوض ان کا سیاسی کیریئر بھی تیزی سے آگے بڑھتا رہا۔
دوسری جانب سیاسی امورپر نظر رکھنے والے سینیئر تجزیہ کاروں کے مطابق پارلیمانی سیاست میں اور سینیٹ کے ایوان میں صادق سنجرانی ایک مختلف اور نئے چہرے کے طور پر متعارف کیے گیے۔صادق سنجرانی کے سیاسی دور میں ایک اہم موڑ وہ بھی تھا، جب 2019 میں ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی گئی اور ان کے مقابل اکثریت رکھنے والے میر حاصل بزنجو کھڑے تھے، لیکن سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد حیران کن طور پر ناکامی سے دوچار ہوگئی حالانکہ تب اپوزیشن اتحاد کے پاس 64 اراکین تھے جو خفیہ رائے شماری کے بعد کم ہوکر 50 رہ گے۔ یوں فرشتوں نے سنجرانی کو بچا لیا۔
دوسری جانب بلوچستان کے ضلع چاغی کی سیاست میں صادق سنجرانی کے بھائی اعجاز سنجرانی متحرک نظر آتے ہیں۔ اس سے قبل ان کے والد خان آصف خان سنجرانی خان پینل کے نام سے ضلع میں سیاست میں سرگرم رہے ہیں۔ خیال رہے کہ دوسری مرتبہ سینٹ کے چیئرمین بننے والے صادق سنجرانی طاقتور اسٹیبلشمنٹ کے امیدوار تو تھے ہی لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان کو سیاسی عروج بنیادی طور پر پیپلز پارٹی کی وجہ سے ملا۔ یاد رہے کہ سینٹ الیکشن سے ایک روز پہلے بلاول بھٹو زرداری نے انکشاف کیا تھا کہ انہوں نے اپنی جماعت میں شمولیت کے وعدے پر صادق سنجرانی کو 12 مارچ 2018 میں چیئرمین سینٹ منتخب کروایا تھا۔ بلاول نے یہ بھی بتایا تھا کہ صادق سنجرانی قرآن پر حلف دینے کو بھی تیار تھے تاہم میں نے منع کر دیا مگر افسوس کہ سینیٹ چیئرمین منتخب ہونے کے بعد انہوں نے اپنے وعدے کی پاسداری نہیں کی۔ ۔
واضح رہے کہ صادق سنجرانی بلوچستان میں مسلم لیگ ن کے باغی دھڑے، جس نے جنوری میں ن لیگ اور نیشنل پارٹی کی مخلوط حکومت کو بغاوت کے ذریعے گرا کر قدوس نریجو کو وزیر اعلی بنانے میں کامیاب ہوگیا تھا، کی مدد سے ایوان بالا کے رکن منتخب ہوئے تھے۔بعد میں اس باغی دھڑے نے بلوچستان عوامی پارٹی کی بنیاد رکھی جس نے 2018 کے الیکشن کے بعد صوبے میں مخلوط حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی۔ صادق سنجرانی مارچ 2018 میں جب چیئرمین سینٹ منتخب ہوئے تو انہیں مسلم لیگ نون کے راجہ ظفر الحق کے 46 کے مقابلے میں 57 ووٹ ملے تھے۔ انہیں اس وقت بلوچستان کے وزیراعلی میر عبدالقدوس بزنجو نے نامزد کیا تھا اور پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف ان کی پشت پر تھیں۔ صادق سنجرانی کو کم عمر ترین اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پہلا چیئرمین سینیٹ ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔
سنجرانی ان سیاستدانوں میں سے ہیں جو کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اپنے تعلق پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ نرم گفتار اور میٹھے سنجرانی 14 اپریل 1978 کو بلوچستان کے ضلع چاغی کے علاقے نوک کنڈی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم نوک کنڈی میں حاصل کی اور پھر اسلام آباد سے ایم اے کیا۔ان کے والد خان محمد آصف سنجرانی کا شمار علاقے کے قبائلی رہنماؤں میں ہوتا ہے اور وہ ضلع کونسل چاغی کے رکن رہ چکے ہیں۔ صادق سنجرانی پانچ بھائیوں میں سب سے بڑے ہیں اور ان کے ایک بھائی اعجاز سنجرانی نواب ثناءاللہ زہری کے دور حکومت میں محکمہ ریونیو کے مشیر بنے۔حکومت کی تبدیلی کے باوجود وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو نے انہیں اس عہدے پر برقرار رکھا۔ صادق سنجرانی کے ایک بھائی محمد رازق سنجرانی سینڈک پروجیکٹ کے ایم ڈی رہے۔
سنجرانی کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ نجی محفلوں میں اکثر یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ چیئرمین سینیٹ کے بعد ان کی اگلی منزل بلوچستان کی وزارت اعلیٰ کا حصول ہے اور انہیں یقین ہے کہ وہ یہ منزل بھی ایک دن ضرور حاصل کرلیں گے۔
