گیلانی کے مسترد ووٹوں کا تنازع شدت اختیار کر گیا

چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخابات کے دوران 7 بیلٹ کے مسترد ہونے کا تنازع شدت اختیار کرگیا ہے۔ اس معاملے پر قانونی ماہرین بھی دو حصوں میں بٹ گئے ہیں۔ بعض کا کہنا ہے کہ جو شخص ووٹ ڈال رہا ہے اس کی نیت اور خواہش اگر ظاہر ہو رہی ہے کہ وہ کس شخص کو ووٹ دینا چاہ رہا ہے تو اس کو درست تسلیم کیا جائے گا چاہے مہر نام کے اوپر لگے یا اس کے سامنے۔ جبکہ حکومتی موقف کےحامی کہتے ہیں کہ دونوں ایوانوں یعنی قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ہونے والی کوئی بھی کارروائی کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کی جاسکتی۔
اس معاملے پر سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان لا کہنا ہے کہ سینیٹ چیئرمین کا انتخاب پارلیمنٹ کے ایوان بالا کی کارروائی کا حصہ ہے لہذا مسترد ہونے والے بیلٹ پیپرز کسی ٹریبونل یا عدالت کے سامنے چیلنج نہیں کیے جا سکتے جیسا کہ اپوزیشن کا موقف ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ سینیٹ کی کارروائی کو آئین کے آرٹیکل 69 اور 60 کے تحت مکمل طور پر تحفظ دیا گیا ہے۔ اس آرٹیکل میں کہا گیا کہ پارلیمنٹ میں ہونے والی کسی بھی کارروائی کی صداقت کو بے ضابطگی کی بنا پر چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ سابق اٹارنی جنرل کا موقف تھا کہ کسی غلط جگہ پر مہر لگانے سے رائے دہندگان نے بیلٹ کی رازداری کی شرط کی خلاف ورزی کی کیونکہ انہوں نے اپنے ووٹوں کی شناخت کروانے کی کوشش کی۔
تاہم دوسری جانب اپوزیشن حلقوں نے اس موقف کو مسترد کیا ہے۔ ان کا کہنا یے کہ ہم تو سینٹ الیکشن کی بات کر رہے، ماضی میں تو ہماری عدالتیں منتخب حکومتوں کی برطرفی کے حوالے سے بھی فیصلے کرتی رہی ہیں۔ اپوزیشن حلقوں نے میڈیا پر چلنے والی ان رپورٹوں کو بھی غلط قرار دیا کہ پی ڈی ایم سے تعلق رکھنے والے ممبران اسمبلی نے جان بوجھ کر گیلانی کے نام پر مہڑ لگائی تاکہ وہ مسترد بھی ہو جائیں اور ان کی شناخت بھی ہو جائے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ الیکشن کے روز سینٹ میں چسپاں ووٹ ڈالنے کے ہدایت نامے ہر بھی واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ امیدوار کے نام کے خانے کے اندر مہر لگائیں اور یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ نام کے اوپر مہر نہیں لگانی ہے۔ لہذا یہ الزام بالکل بے ہودہ ہے کہ سات اپوزیشن ممبران نے اپنا ووٹ ضائع کرنے کے لیے ایسا کیا۔ تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ عدالتوں نے کرنا ہے اور یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اس معاملے میں گیلانی کی پٹیشن کو قابل سماعت بھی سمجھا جاتا ہے یا نہیں۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے 3 مارچ کو سینیٹ کے لیے اسلام آباد کی نشست پر ہونے والے الیکشن میں عددی اکثریت ہونے کے باوجود حکومتی جماعت اپنے امیدوار حفیظ شیخ کو کامیاب کروانے میں ناکام رہی تھی اور ڈرامائی انداز میں اپوزیشن اتحاد کے متفقہ امیدوار یوسف رضا گیلانی جیت گے تھے۔ ان کی کامیابی میں بھی مسترد شدہ سات ووٹوں نے کلیدی کردار ادا کیا اور اب سنجرانی کی کامیابی میں بھی گیلانی کے سات مسترد شدہ ووٹوں نے اہم کردار ادا کیا۔ چیئرمین سینیٹ کے اتنخاب میں عددی اکثریت ہونے کے باوجود اپوزیشن اتحاد کو اپنا متفقہ امیدوار کامیاب کروانے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور حکومتی امیدوار صادق سنجرانی ایک بار پھر 48 ووٹ لے کر چیئرمین سینیٹ منتخب ہوئے جبکہ یوسف رضا گیلانی نے 42 ووٹ حاصل کیے اور کل آٹھ ووٹ مسترد قرار پائے۔ چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے دوران جب گنتی کا مرحلہ آیا تو ایک ووٹ ایسا نکلا جس پر ووٹر نے دونوں امیدواروں پر مہر لگائی جبکہ سات ووٹ ایسے نکلے جن پر ووٹ امیدوار کے نام یعنی یوسف رضا گیلانی کے نام پر مہر ہونے کی وجہ سے پریزائیڈنگ آفسر نے مسترد قرار دیے۔
اس موقع پر گیلانی کے پولنگ ایجنٹ فاروق ایچ نائیک نے حکومتی اتحاد سے تعلق رکھنے والے بزرگ پریزائیڈنگ آفسر کی رولنگ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ووٹرز نے مہر بیلٹ پیپر کے خانے کے اندر لگائی ہے، باہر نہیں لہذا گیلانی کے سات ووٹوں کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔
انکا کہنا تھا کہ سینیٹ سیکریٹریٹ کی جانب سے دی گئی ہدایات میں بھی کہیں نہیں لکھا کہ مہر امیدوار کے نام کے اوپر لگانے کے بجائے سامنے لگائی جائے۔‘ نائیک کے موقف کے جواب میں صادق سنجرانی کے پولنگ ایجنٹ محسن عزیز نے سیینٹ سیکرٹریٹ کے رولز پڑھ کر سنائے اور کہا کہ ’رولز میں لکھا ہے کہ مہر امیدوار کے نام کے سامنے بنے ہوئے خانے پر لگانی ہے۔‘ تاہم سچ تو یہ ہے کہ امیدوار کے نام والے خانے میں اور کوئی خانہ ہیں بنا ہوا تھا۔
لیکن دونوں فریقین کو سننے کے بعد حکومتی اتحاد گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس سے تعلق رکھنے والے پریزائیڈنگ افسر سینیٹر سید مظفر حسین شاہ نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ ’بیلیٹ پیپر کی تشکیل اس حساب سے کی گئی ہے کہ ہر امیدوار کے سامنے ایک خانہ بنا ہوا ہے اور رولز کے مطابق اس خانے میں مہر لگائی جانی تھی اس لیے یہ سات ووٹ مسترد تصور ہوں گے۔‘ اپوزیشن کی جانب سے پریزائیڈنگ آفیسر کی رولنگ پر احتجاج کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’اگر آپ کو رولنگ پر اعتراض ہے تو الیکشن ٹریبیونل سے رجوع کریں۔
اس معاملے پر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹیو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپرینسی (پلڈاٹ) کے سربراہ احمد بلال محبوب نے بتایا کہ ’سینیٹ کے قوائد ضوابط میں چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کا طریقہ کار موجود ہے لیکن ووٹوں کی گنتی اور بیلٹ پیپر کے حوالے سے ہدایات اسی روز سینیٹ سیکریٹریٹ سے جاری کی جاتی ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ ’پریزائیڈنگ افسر نے سینیٹ سیکرٹیریٹ کی جانب سے جاری کی گئی ہدایات کو ہی پڑھ کر سنایا لیکن وہ ہدایات بھی واضح نہیں تھیں۔‘ سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر صلاح الدین احمد نے رائے دی کہ آئین نے پارلیمنٹ کی کسی بھی کارروائی کو عدالت میں چیلنج کرنے پر پابندی عائد کررکھی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہاگر کوئی فعل بظاہر بد اخلاقی پر مبنی ہو اور اس کا دوسرا کوئی تدارک نہیں ہے تو آرٹیکل 199 کے تحت ہائیکورٹ میں آئینی پٹیشن دائر کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے 2004 میں صلاح الدین اور عبدالخالق کے مابین ہونے والے مقدمے کا حوالہ دیا جس میں اس وقت کے سپریم کورٹ کے جج جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے ریمارکس دے کہ بیلٹ پیپرز کی صداقت کے سوال کا فیصلہ صرف ووٹروں کی نیت کا پتہ لگانے سے ہی کیا جاسکتا ہے اور اس سلسلے میں مہر لگانے کا طریقہ مادی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں امیدوار کے نام پر نشان یا مہر لگانا تھا۔ پانچ ووٹ جن پر امیدوار کی انتخابی علامت کی بجائے اس کے نام پر مہر لگائی گئی تھی، سپریم کورٹ نے انہیں درست قرار دیا تھا۔ جسٹس ڈوگر نے فیصلے میں لکھا کہ ایسا لگتا ہے کہ رائے دہندگان نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال اس میدوار کے حق میں کیا یے۔
دوسری جانب ایڈووکیٹ کاشف علی ملک نے کہا کہ اعلی عدالتوں نے ووٹرز کی نیت پر بہت سارے فیصلے دیے ہیں جن میں تکنیکی وجوہات کی بنا پر بیلٹ کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ 1987 میں جمشید احمد خان کیس میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے ریمارکس دے تھے کہ انتخابی معاملات میں انتخابی افسران اور عدالت کو اہم قواعد پر عمل پیرا ہونا تھا تاکہ سرکاری بیلٹ میں ووٹر کے ارادے کا تعین کیا جا سکے۔ ایڈووکیٹ ملک نے کہا کہ ڈاکٹر سیدہ سلطانہ ابراہیم بمقابلہ افروز نذیر احمد کیس اور سن 1988 کے اعجاز احمد چیمہ بمقابلہ افتخار حسین کیس سے وضاحت ملتی ہے کہ اس طرح کے کاغذات مسترد کرنے سے پہلے اس کی ’پہلے استدعا اور پھر ثبوت سے ثابت کیا گیا۔ لہذا میرے خیال میں گیلانی کے مسترد شدہ سات ووٹ بالکل درست ہیں اور اگر انہیں عدالت میں چیلنج کیا جائے تو فیصلہ انکے حق میں آ سکتا ہے۔
