اسٹیٹ بینک کی خودمختاری IMF کے پاس گروی رکھنے کا فیصلہ


حکومت پاکستان نے اسٹیٹ بینک کی بچی کھچی خود مختاری بچانے کے لیے جو کوششیں شروع کی تھیں وہ اب ناکامی کا شکار ہوتی نظر آتی ہیں اور اطلاعات ہیں کہ پالیسی سازوں نے آئی ایم ایف کے دباؤ کے سامنے گھٹنے ٹیکتے ہوئے اسٹیٹ بینک کو فیصلہ سازی میں حکومتی اثر سے باہر نکالنے کا عالمی مالیاتی ادارے کا مطالبہ تسلیم کر لیا ہے۔ یعنی اب پاکستان کا مرکزی بینک فیصلہ سازی میں حکومت پاکستان نہیں بلکہ عالمی مالیاتی فنڈ کے کہنے پر چلے گا جسکے نتیجے میں پاکستانی عوام کے مفادات کی بجائے آئی ایم ایف کے مفادات کو برتری حاصل ہو گی۔ تاہم وزارت خزانہ کو اُمید ہے کہ آئی ایم ایف کے سامنے سجدہ ریز ہو جانے کے بعد قرض کی اگلی قسط کا اجرا ممکن ہو جائے گا۔
یاد رہے کہ اپریل 2019 میں حکومت نے آئی ایم ایف کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اس کا ایک سابق ملازم رضا باقر بطور گورنر اسٹیٹ بینک بھرتی کر لیا تھا جس کی پالیسیوں نے ڈالر کو پاکستانی تاریخ میں مہنگا ترین کر دیا ہے۔ اسلام آباد میں وزارت خزانہ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ کی سہولت بحال کروانے کے لیے پاکستان نے اسٹیٹ بینک کو مکمل خود مختاری دینے کی یقین دہانی کروا دی ہے اور اب اس حوالے سے عملی اقدامات کا انتظار یے۔ دونوں فریقین نے 4 اکتوبر کو ورچوئل مذاکرات کے ذریعے بات چیت شروع کی تھی جو کہ 15 اکتوبر تک ختم ہونے والی تھی لیکن یہ بات چیت 23 اکتوبر تک جاری رہی اور تب سے آئی ایم ایف اور پاکستانی وزارت خزانہ اقتصادی اور مالیاتی پالیسیوں کی متوقع یادداشت کے اجرا پر خاموش ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف حکومت پاکستان کی جانب سے سٹیٹ بینک کو مکمل خود مختاری دینے کے اپنے وعدے سے پیچھے ہٹنے پر خوش نہیں تھا اور اسی وجہ سے دونوں کے مابین مذاکرات میں ڈیڈ لاک آگیا تھا۔ یاد رہے کہ مارچ 2021 میں حکومت پاکستان نے مرکزی بینک کو خود مختاری دینے کے لیے ائی ایم ایف کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا جس کی عالمی مالیاتی ادارے کے گورنر بورڈ نے بھی منظوری دے دی تھی۔ تاہم ابھی تک حکومت پاکستان نے اس معاہدے پر عمل کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک کو مالیاتی پالیسیوں بناتے ہوئے اتنی خود مختاری نہیں دی تھی کہ وہ بالکل ہی آزادانہ طور پر فیصلہ کرنے لگے۔ ملک میں پہلے ہی مہنگائی کا طوفان ہے اور حکومت کو یہ خدشہ تھا کہ آئی ایم ایف ایف اپنے قرضوں کی واپسی یقینی بنانے کے لیے اسٹیٹ بینک کے ذریعے ایسے فیصلے کروائے گا جن کا معاشی بوجھ عوام پر آئے گا اور نقصان حکومت کو برداشت کرنا پڑے گا۔
تاہم اب حکومت پاکستان کی جانب سے سے آئی ایم ایف کو کچھ مزید یقین دہانیاں کروائی گئی ہیں اور ساتھ میں اپنی مجبوریاں بھی بتائی گئی ہیں۔ وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ اور ریونیو شوکت ترین کی سربراہی میں پاکستان کی اقتصادی ٹیم نے آئی ایم حکام کے ساتھ مذاکرات کے کئی دور کیے ہیں تاکہ انہیں پارلیمنٹ کے ایوان زیریں اور ایوان بالا میں حکمران تحریک انصاف کی عددی قوت سے آگاہ کیا جا سکے کیونکہ اسٹیٹ بینک کو مکمل خود مختاری دینے کے لیے آئین میں ترمیم کے لیے ضرورت ہوگی جس کے لیے اس کے پاس مطلوبہ اکثریت موجود نہیں ہیں اور اپوزیشن اس کے ساتھ کسی صورت تعاون نہیں کرے گی۔ آئی ایم ایف کو مذاکرات کے دوران بتایا گیا کہ مرکزی بینک کی مجوزہ خود مختاری کے لیے آئینی ترامیم کی ضرورت ہے جس کے لیے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت درکار ہے۔ تاہم آئی ایم والے سوال کر رہے ہیں کہ جب پاکستان نے مارچ میں اسٹیٹ بینک کو مکمل خود مختاری دینے پر رضامندی ظاہر کی تھی تو تب آئینی ترامیم کی ضرورت کو محسوس کیوں نہیں کیا گیا اور تب یہ مجبوری بیان کرنے کی بجائے فوری طور پر معاہدے پر دستخط کیوں کر دیے گئے۔
یاد رہے کہ 9 مارچ 2021 کو وفاقی کابینہ نے ایک بل کی منظوری دی تھی جس کا مقصد مرکزی بینک کو قیمتوں پر قابو پانے اور مہنگائی سے لڑنے کے لیے زیادہ خود مختاری فراہم کرنا تھا۔ اس فیصلے کے فوراً بعد دونوں اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے اعلان کیا تھا کہ وہ پارلیمنٹ میں بل کی منظوری کو روکیں گے۔ چنانچہ حکومت نے اس معاملے کو ٹھنڈا کر دیا تھا۔ تاہم اب آئی ایم ایف کی جانب سے شدید دباؤ آنے کے بعد پاکستانی حکام نے لچک دکھائی ہے اور اسٹیٹ بینک کی مکمل خود مختاری سے متعلق ترامیم کے مسودے پر عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ وزارت خزانہ نے اسٹیٹ بینک کے اختیارات بارے نظرثانی شدہ مجوزہ ترامیم کو آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کیا یے۔ ان ترامیم کا اب آئی ایم ایف کے حکام جائزہ لیں گے اور ایک ہفتے میں اپنا ردعمل دیں گے۔وزارت خزانہ کو اُمید ہے کہ یہ ترامیم تعطل ختم کردیں گی اور آئی ایم ایف کی اگلی قسط کے اجرا کے لیے راہ ہموار کریں گی۔ یہ ترامیم اسٹیٹ بینک ایکٹ میں چار سے پانچ شعبوں سے متعلق ہیں۔ ترامیم کے مسودے پر بات چیت جاری ہے اور توقع ہے کہ اگلے ہفتے کے اوائل میں اسے حتمی شکل دی جائے گی اور بات چیت مکمل ہوتے ہی پاکستان کو قرضی کی اگلی قسط جاری کر دی جائے گی۔پاکستان نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ سیلز ٹیکس سے متعلق دی جانے والی ذیادہ تر ٹیکس چھوٹ واپس لے لی جائے گی۔

Back to top button