ریاست پاکستان نے تحریک لبیک کے سامنے کیسے سرنڈر کیا؟


وزیراعظم عمران خان کی حکومت نے کالعدم تحریک لبیک کو بھارتی فنڈنگ سے چلنے والی ایک شرپسند عسکریت پسند تنظیم قرار دینے کے بعد اسی کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئے جس معاہدے کا اعلان کیا ہے اسکی تفصیلات ابھی تک خفیہ رکھی جا رہی ہیں۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ معاہدے کے تحت وفاقی حکومت تحریک لبیک پر لگائی گئی پابندی واپس لے گی اور اس کے سربراہ حافظ سعید رضوی کو عدالتوں کے ذریعے رہا کروا دے گی۔ دوسری جانب تحریک لبیک کی قیادت فرانسیسی سفیر کو بے دخل کرنے کے مطالبے سے دستبردار ہو جائے گی اور اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ ختم کر دے گی۔ یاد رہے کہ حکومت نے شدت پسند تحریک لبیک کے ساتھ معاہدہ ایک ایسے نازک وقت میں کیا ہے جب پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں موجود ہے اور بلیک لسٹ میں دھکیلے جانے کے خدشات سے دوچار ہے۔
وزیراعظم عمران خان کی جانب سے شر پسندوں کے ساتھ سختی سے نمٹنے اور اسلام کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے والوں کے ہاتھوں بلیک میل نہ ہونے کا اعلان کرنے کے چند ہی روز بعد 31 اکتوبر کو حکومتی نمائندوں نے تحریک لبیک کے ساتھ معاہدے کا اعلان کر دیا۔ ایک پریس کانفرنس میں تحریک لبیک اور حکومت کے مابین لانگ مارچ روکنے کے لیے بنائی گئی کمیٹی کے ممبران کا کہنا تھا کہ دونوں فریقوں کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے جس کی کی تفصیلات ابھی ظاہر نہیں کی جائیں گی۔ حکومت کے ساتھ معاہدے میں تحریک لبیک کی جانب سے ضامن کا کردار ادا کرنے والے مفتی منیب الرحمن پریس کانفرنس میں بار بار کے سوالات کے باوجود اس معاہدے کی تفصیلات اور شرائط کے بارے میں کسی قسم کی کوئی معلومات دینے سے انکاری رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کی شرائط مناسب وقت پر سامنے آ جائیں گی۔ تاہم بتایا گیا ہے کہ حکومت اور تحریک لبیک کا معاہدہ کروانے میں مرکزی کردار آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ادا کیا جنہوں نے وزیراعظم کے ایما پر تحریک لبیک کی قیادت سے ملاقات کی اور انکے مطالبات تسلیم کرنے کی یقین دہانی کروائی۔ بتایا گیا ہے کہ تحریک لبیک کی قیادت اپنا بانی کہلانے والے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی یقین دہانی پر دھرنا ختم کرنے کو تیار نہیں تھی چونکہ انکی فراغت کا اعلان ہو چکا ہے لہازا آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے ان سے بات چیت کی۔ بتایا گیا ہے کہ پنجاب میں رینجرز تعینات کرنے کے باوجود فوجی قیادت لبیک کے خلاف کارروائی کے حق میں نہیں تھی اور اس نے حکومت کو مذاکرات کا مشورہ دیا تھا۔ جنرل باجوہ سے ایسی ہی ایک ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پر وائرل ایک تصویر میں آرمی چیف کو سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کے سربراہ مولانا بشیر فاروقی، مفتی منیب اور عبدالکریم ڈھیڈی کے ساتھ کھڑے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس ملاقات کے بعد مولانا بشیر فاروقی نے میڈیا کو بتایا کہ آرمی چیف طاقت کے استعمال کے حق میں نہیں تھے بلکہ اُن کا زور مذاکرات پر تھا۔ فاروقی نے کہا کہ آرمی چیف ایک ہزار فیصد امن چاہتے تھے اور انکی برکتوں سے سارا کام ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو معاہدہ ہوا ہے اُس میں ایک ہزار فیصد کردار آرمی چیف کا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے فوجی قیادت اور حکومت نے تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد وزیر اعظم نے اس امکان کا اظہار کیا تھا کہ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوگئے تو ٹی ٹی پی والوں کو عام معافی بھی دی جا سکتی ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے تحریک لبیک کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو خفیہ رکھنے کے باوجود تحریک لبیک ذرائع نے معاہدے کی جو تفصیلات بتائی ہیں ان کے مطابق فرانسیسی سفیر کی بے دخلی کے مطالبے پر پارلیمنٹ میں ووٹنگ کے ذریعے فیصلہ ہوگا کہ اسے پاکستان سے نکالا جائے یا نہیں؟ حکومت کی جانب سے اپریل 2021 میں تحریک لبیک پر لگائی گئی پابندی کا فیصلہ واپس لے لیا جائے گا اور اسے ہر قسم کی سرگرمی میں حصہ لینے کی اجازت ہوگی۔ اسکے علاوہ لبیک کے سربراہ حافظ سعد رضوی کی نظر بندی ختم کی جائے گی اور عدالتوں میں ان کے خلاف زیر سماعت کیسز کو بھی ختم کروایا جائے گا۔سود رضوی کو پچھلے تمام مقدمات سے بھی بری کروایا جائے گا۔ ٹی ایل پی کے جن رہنماؤں یا کارکنان کے نام فورتھ شیڈول میں شامل ہیں انھیں اس سے نکال دیا جائے گا تاکہ وہ آزادانہ نقل و حرکت کر سکیں۔ اسکے علاوہ جو لبیک کارکنان یا رہنما پرانے کیسز میں گرفتار ہیں انہیں فی الفور رہا کیا جائے گا ۔ تحریک لبیک کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ان تمام امور پر پیش رفت کے لیے حکومت کی جانب سے سات دن کا وقت مانگا گیا ہے۔ اس دوران لبیک کا لانگ مارچ وزیر آباد سے آگے نہیں جائے گا اور جماعت کی قیادت سے گرین سگنل ملنے کے فورا بعد دھرنا ختم کر دیا جائے گا۔
دوسری جانب تحریک لبیک کی قیادت نے یقین دہانی کروائی ہے کہ ان مطالبات پر عمل درآمد کی صورت میں اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ ختم کردیا جائے گا اور آئندہ انکی جماعت کوئی دھرنا نہیں دے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے لبیک کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو اس لیے خفیہ رکھا جا رہا ہے کہ یہ دراصل ریاست پاکستان کی جانب سے شدت پسندوں کے سامنے باقاعدہ سرنڈر کرنے کا کا معاہدہ ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب اس معاہدے پر عمل درآمد ہوگا تو تو ساری دنیا کو اس کی تفصیلات کا علم ہوجائے گا۔ یاد رہے کہ اس وقت تحریک لبیک کا لانگ مارچ وزیرآباد میں رکا ہوا یے اور دھرنے میں سپیکر پر اعلانات جاری ہیں کہ جب تک مرکزی قیادت کی طرف سے دھرنا ختم کرنے کا حکم جاری نہیں کیا جاتا، تب تک انکا لانگ مارچ ختم نہیں ہو گا۔
دوسری جانب یہ بھی عجیب بات ہے کہ ابھی تک معاہدے کے حوالے سے تحریک لبیک کے کسی رہنما نے کوئی اعلان نہیں کیا ہے اور معاہدے کا دعویٰ بھی مفتی منیب نے کیا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ جو معاہدہ طے پایا ہے اسے حافظ سعد رضوی کی بھی تائید حاصل ہے۔ مفتی نے کہا کہ یہ کسی کی فتح یا شکست نہیں ہے۔
اس دوران تحریک لبیک کے ترجمان امجد رضوی نے بتایا کہ حکومت اور انکی جماعت کے مذاکرات میں حکومت نے لچک دکھائی ہے اور فرانس کے سفیر کی بے دخلی کے مطالبے پر بھی پیش رفت ہوئی یے۔ تحریک لبیک کی مجلس شوریٰ کے رکن پیر عنایت الحق شاہ کے مطابق مذاکرات میں حکومت کو تجویز دی گئی تھی کہ فرانس کے سفیر کی بے دخلی کے بارے میں قومی اسمبلی کی جو کمیٹی بنائی ہے ان کے نام سامنے لائے جائیں اور یہ کمیٹی اس بارے میں جو بھی فیصلہ کرے گی وہ ان کی جماعت کو منظور ہوگا۔
امجد رضوی کے مطابق ان کی جماعت اور حکومتی نمائندوں کے درمیان مذاکرات راولپنڈی میں ہوئے تاہم انھوں نے اس مقام کا ذکر نہیں کیا جہاں پر یہ مذاکرات ہوئے ہیں۔ اس سے قبل کالعدم تنظیم نے ایک پریس ریلیز میں بتایا کہ تحریکِ لبیک کے قائدین نے جماعت کے سربراہ سعد رضوی کی قیادت میں یہ ملاقات کی تاہم حکومتی وزیر نے اس کی تصدیق نہیں کی تھی۔ یاد رہے کہ سعد رضوی چھے ماہ سے زیر حراست ہیں اور اب انھیں مذاکرات کے لیے لاہور سے اسلام آباد لے جا کر سہالہ ریسٹ ہاؤس میں رکھا گیا ہے۔

Back to top button