اسکولوں میں موسم سرما کی چھٹیاں کرنے کی سفارش

ہیلتھ ایڈوائزری نے اسکولوں میں موسم سرما کی چھٹیاں کرنے کی سفارش کر دی۔
تفصیلات کے مطابق ملک میں کورونا وائرس کی دوسری لہر بے قابو ہونے کے بعد ہیلتھ ایڈوائزری جاری کر دی گئی۔ ایڈوائزری میں کہا گیا کہ سیاسی، مذہبی اور شادی کی تقریبات پر پابندی جب کہ اسکولوں میں موسم سرما کی چھٹیاں کی جائیں۔ ہیلتھ ایڈوائزری کے مطابق کورونا کی دوسری لہر شدید ہوچکی ہے۔گذشتہ 6 ہفتوں میں پاکستان میں کورونا کیسز کی شرح 2 سے 6 فیصد ہوگئی اور روزانہ 500 سے 2000 کیسز سامنے آ رہے ہیں۔کورونا کو روکنے کےلیے معاشی سرگرمیوں اور لاک ڈاؤن کے بغیر قومی سطح پر اقدامات کیے جائیں۔ ہیلتھ ایڈوائزری میں کہا گیا کہ سیاسی، مذہبی اور شادی تقریبات پر پابندی عائد کی جائے۔ اسکولوں، مدرسوں، سیمنارز، تھیڑز اور مزاروں پر پروگراموں کی اجازت نہ دی جائے۔ اس کے علاوہ اسکولوں میں چھٹیاں کی جائیں، مارکیٹوں میں ماسک پہننا لازمی قرار دیا جائے۔ جب کہ کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے کیے جائیں۔ تجویز میں مزید کہا گیا کہ ہائی رسک ایریاز میں ٹیسٹنگ کی شرح بڑھا دی جائے۔ اور ٹیسٹنگ کٹس کی خریداری بڑے پیمانے پرکی جائے جب کہ اسپتالوں کی استعداد کار بڑھائی جائے۔ اس کے علاوہ قومی رابطہ کمیٹی کی جانب سے کورونا ایس اوپیز کے تحت اہم فیصلوں کی منظوری بھی دی گئی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کورونا وائرس پھیلاؤ والی ہائی رسک سرگرمیوں کو محدود کیا جائے۔ این سی سی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق 300 سے زائد افراد پر مشتمل آؤٹ ڈور سرگرمیوں پر پابندی ہوگی۔ اِن ڈور شادی کی ہر قسم کی تقریبات پر مکمل طور پر پابندی عائد ہوگی۔ آؤٹ ڈور شادی کی تقریبات میں صرف 300 افراد تک کی شمولیت کی اجازت ہوگی۔ جب کہ ریسٹورنٹس میں اِن ڈور کھانے کی اجازت دی گئی، ریسٹورنٹس کے حوالے سے ایک ہفتے کے بعد دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔ این سی سی کے اگلے اجلاس میں تعلیمی اداروں میں موسم سرما کی چھٹیاں قبل از وقت کرنے کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔
