اس مرتبہ جام کمال کی وزارت اعلیٰ کیوں نہیں بچ پائے گی

بلوچستان میں برسراقتدار جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کے 9 اراکین قومی اسمبلی سمیت اتحاد میں شامل جماعتوں سے تعلق رکھنے والے 11 اراکین اسمبلی نے وزیر اعلی جام کمال سے استعفے کا مطالبہ کردیا ہے جس کے بعد ان کی وزارت اعلی جاتی دکھائی دیتی ہے۔ حکومتی اتحاد کے ناراض اراکین نے جام کمال پر واضح کردیا ہے کہ اگر انہوں نے 24 گھنٹوں میں استعفیٰ نہ دیا تو ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک سمیت تمام آپشنز استعمال کیے جائیں گے۔

یاد رہے کہ بلوچستان اسمبلی کے اراکین کی مجموعی تعداد 65 ہے جن میں سے حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں کے اراکین کی تعداد 41 ہے۔ 65 اراکین کے ایوان میں وزیر اعلیٰ کو ہٹانے کے لیے سادہ اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے جس کی تعداد 33 بنتی ہے۔ بلوچستان اسمبلی میں حزب اختلاف کے اراکین کی تعداد 23 ہے جبکہ ناراض اراکین کا دعویٰ ہے کہ ان کی تعداد 15 ہے۔ اگر ناراض اراکین کی یہ تعداد برقرار رہتی ہے تو وزیر اعلیٰ کے خلاف نئے سرے سے تحریک عدم اعتماد یا ناراض اراکین کی جانب سے اعتماد کا ووٹ لینے لیے قرارداد لانے کی صورت میں اس کی حمایت کے لیے ناراض اراکین اور حزب اختلاف کے اراکین کی مجموعی تعداد 38 بنتی ہے جو کہ سادہ اکثریت سے زیادہ ہے۔ لہذا لگتا ہے کہ اس مرتبہ جام کمال کی وزارت اعلی نہیں بچ پائے گی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ جام کمال کا جانا اس لیے ٹھہر گیا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں تو پہلے ہی وزیر اعلی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کرچکی ہیں لہٰذا جب وزیر اعلی کے اپنے ہی ساتھی اور اتحادی ان کے خلاف کھڑے ہو گئے ہیں تو ان کے بچنے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی جانب سے جام کمال کی وزارت اعلی بچانے کی آخری کوشش جاری ہے لیکن ناراض اراکین کا کہنا ہے کہ دو ہفتے پہلے سنجرانی نے جام کمال کو 15 دن کہ مہلت لے کر دی تھی جسکے بعد انہوں نے استعفیٰ دینا تھا لہذا اب انہیں گھر جانا ہی ہوگا۔ یاد رہے کہ اس وقت حکومتی اتحاد میں ناراض اراکین کی مجموعی تعداد 15 ہے جبکہ بلوچستان اسمبلی میں حزب اختلاف کے اراکین کی تعداد 23 ہے۔ ان حالات میں تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ بلوچستان اسمبلی میں اگر وزیر اعلیٰ کے خلاف کوئی تحریک آئی تو ناراض اراکین اور حزب اختلاف کی مشترکہ حمایت سے اس کے کامیابی کے روشن امکانات ہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ وزیر اعلیٰ جام کمال خان کے خلاف حزب اختلاف کی تحریک عدم اعتماد بعض تیکنیکی وجوہات کی بنیاد پر بلوچستان اسمبلی پیش تو نہیں ہو سکی تھی لیکن اب انکی اپنی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی اور اتحادی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ناراض اراکین کی اعلانیہ بغاوت اور ان سے براہ راست استعفے کے مطالبے نے ان کے لیے حزب اختلاف کی تحریک عدم اعتماد سے بھی بڑی مشکل کھڑی کر دی ہے۔کھل کر میدان میں آنے کے بعد ناراض اراکین نے وزیر اعلیٰ کو چھ اکتوبر شام پانچ بجے تک استعفیٰ دینے کی مہلت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انھوں نے استعفیٰ نہیں دیا تو وہ تحریک عدم اعتماد سمیت اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ تاہم حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی کا کہنا ہے کہ حکومتی اتحاد میں اکثریت وزیر اعلیٰ جام کمال کے ساتھ ہے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ جام کمال کے خلاف کسی تحریک کے آنے کی صورت میں اس کامیابی کے امکانات کے بارے تجزیہ کاروں کی رائے جاننے سے پہلے تذکرہ کُھل کر سامنے آنے والے ناراض اراکین کا کر لیتے ہیں۔ اکثریتی پارٹی ہونے کے باعث بلوچستان میں مخلوط حکومت بلوچستان عوامی پارٹی کی قیادت میں قائم ہے۔ اس حکومت میں جو دیگر جماعتیں شامل ہیں ان میں تحریک انصاف، عوامی نیشنل پارٹی، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی اور جمہوری وطن پارٹی شامل ہیں۔ پہلی مرتبہ وزیر اعلیٰ سے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے کے لیے جو ناراض اراکین پریس کانفرنس کرنے کے لیے آئے ان کی تعداد 11 تھی۔ان میں سے زیادہ تر کا تعلق بلوچستان عوامی پارٹی سے تھا تاہم دو اراکین کا تعلق اتحادی جماعتوں سے تھا جن میں بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے اسد بلوچ اور تحریک انصاف کے نصیب اللہ مری شامل تھے۔

ناراض اراکین کے گروپ کے دو اہم رہنما سپیکر بلوچستان اسمبلی عبد القدوس بزنجو اور سردار محمد صالح بھوتانی شہر سے باہر ہونے کی وجہ سے پریس کانفرنس میں موجود نہیں تھے۔ پریس کانفرنس میں بلوچستان عوامی پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیر خزانہ میر ظہور بلیدی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پر بلوچستان عوامی پارٹی کے گیارہ اراکین کے علاوہ اتحادی جماعتوں کے بعض اراکین نے عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ بلوچستان میں بڑھتی ہوئی بے چینی، خراب طرز حکومت اور ترقیاتی کاموں کا نہ ہونا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ اس وقت بلوچستان عوامی پارٹی کے اراکین کے دو دھڑے ہیں۔ جام صاحب کے حامیوں اور ہمارے درمیان بات چیت ہوئی۔ ہم نے انھیں دو ہفتے کا ٹائم دیا تاکہ عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے نکالے جانے کی بجائے وہ خود بلوچستان کے عوام اور اراکین کی خواہش کو مدنظر رکھ کر استعفیٰ دیں۔

انھوں نے کہا کہ بجائے استعفیٰ دینے کے سوشل میڈیا پر یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ ہمارے گروپ کے کچھ لوگ ٹوٹ گئے ہیں لیکن آج ہم آپ کے سامنے کھڑے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ ہماری تعداد 14 سے 15 ہے ۔ ہم وزیراعلیٰ کو گزارش کرتے ہیں کہ ان کے لیے باعزت طریقہ یہی ہے کہ وہ خود اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں تاکہ بلوچستان عوامی پارٹی کے اراکین مل بیٹھ کر نئے قائد ایوان منتخب کریں۔‘بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے پارلیمانی رہنما اسد بلوچ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ جام کمال کے غلط طرز عمل کی وجہ سے سب کچھ رک گیا ہے اور اگر انہوں نے استعفیٰ نہیں دیا تو ہم چھ اکتوبر کی شام ایک بڑا اعلان کریں گے جس میں عدم اعتماد کی تحریک بھی ہو سکتی ہے۔

اس موقع پر بلوچستان عوامی پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیر خوراک سردار عبد الرحمان کھیتران نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ہر ایک کے گھر پر دو دو دفعہ گئے اور انھیں منانے کی کوشش کی لیکن ہم اپنے موقف پر قائم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے بار بار وزیر اعلیٰ کو کہا کہ سب کچھ رک گیا ہے اس لیے استعفیٰ دیں۔ ’اب بھی ان کے پاس وقت ہے کہ وہ بلوچستان اور پارٹی پر رحم کھاتے ہوئے مستعفی ہو جائیں۔‘ اگرچہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کے خلاف ان کی اپنی جماعت اور اتحادی جماعتوں کے بعض اراکین طویل عرصے سے ناراض تھے لیکن ستمبر کی وسط میں جب حزب اختلاف کی جانب سے وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی تو وزیر اعلیٰ سے ناراض اراکین کا ایک گروپ بھی سامنے آ گیا۔ کہا جاتا ہے کہ ناراض اراکین کی جانب سے حمایت کی یقین دہانی پر ہی حزب اختلاف نے تحریک عدم اعتماد پیش کی تھی کیونکہ اپنی عددی طاقت کی بنیاد پر تحریک عدم اعتماد کو منظور کروانا حزب اختلاف کے لیے ممکن نہیں تھا۔

Back to top button